ATS Collection Corner

ATS Collection Corner Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ATS Collection Corner, Adult Entertainment Service, Florida State University, FL.

05/31/2026

Beautiful dance buy little boy

05/31/2026

Little grail explain car sayran

10 کروڑ ماہانہ کمانے والا مرد مجھ سے تعلقات رکھ سکتا ہے، نشا خان کی پیش کش برقرارماڈل اور ڈانسر نشا خان نے ایک بار پھر ا...
05/31/2026

10 کروڑ ماہانہ کمانے والا مرد مجھ سے تعلقات رکھ سکتا ہے، نشا خان کی پیش کش برقرار

ماڈل اور ڈانسر نشا خان نے ایک بار پھر اپنے سابق بیان کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب بھی ایسے مرد کے ساتھ دوستی، تعلقات یا شادی کے لیے تیار ہیں جو ماہانہ 10 کروڑ روپے کماتا ہو۔

نشا خان کے مطابق ان کی روزمرہ زندگی کے اخراجات کافی زیادہ ہیں اور ان کا یومیہ خرچہ 10 لاکھ روپے تک پہنچ جاتا ہے، اسی لیے وہ ایسے شخص کو ترجیح دیتی ہیں جو مالی طور پر انتہائی مستحکم ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مرد ماہانہ 10 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کماتا ہے تو وہ ان سے دوستی کر سکتا ہے، تعلقات استوار کر سکتا ہے اور چاہے تو انہیں اپنی دلہن بھی بنا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی نشا خان نے کہا تھا کہ وہ ایسے مرد سے شادی یا دوستی کو ترجیح دیں گی جو ماہانہ 10 سے 15 کروڑ روپے کماتا ہو۔ ان کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

05/30/2026

Captain Imran Khan

دبئی پولیس نے 1 کروڑ 20 لاکھ درہم مالیت کا عود چرانے کے الزام میں 8 افراد گرفتار کر لیے — شہزادی بنی خاتون بھی شاملدبئی ...
05/30/2026

دبئی پولیس نے 1 کروڑ 20 لاکھ درہم مالیت کا عود چرانے کے الزام میں 8 افراد گرفتار کر لیے — شہزادی بنی خاتون بھی شامل

دبئی پولیس نے 8 مشتبہ افراد کو اس وقت گرفتار کر لیا جب انہوں نے مبینہ طور پر 1 کروڑ 20 لاکھ درہم مالیت کا ایک نایاب اور قیمتی عود چرایا۔
یہ گرفتاری چوری کے محض 12 گھنٹوں کے اندر عمل میں آئی۔
گرفتار کیے گئے افراد میں ایک خاتون بھی شامل ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے اس منصوبے کے تحت خود کو شہزادی ظاہر کیا اور اس بھیس میں چوری کی واردات کو انجام دینے میں مدد کی۔
مزید تفصیلات ابھی سامنے آنے باقی ہیں۔

میں 35 سال کا ایک شادی شدہ مرد ہوں۔ ہماری لو میرج (پسند کی شادی) کو 7 سال ہو چکے ہیں اور ہماری 3 بیٹیاں ہیں۔ میں اور میر...
05/30/2026

میں 35 سال کا ایک شادی شدہ مرد ہوں۔ ہماری لو میرج (پسند کی شادی) کو 7 سال ہو چکے ہیں اور ہماری 3 بیٹیاں ہیں۔ میں اور میری بیوی دونوں ہی انجینئر ہیں۔ میری بیوی بہت سپورٹو (تعاون کرنے والی)، ذہین اور چیزوں کو جلدی سیکھنے والی ہے۔ وہ بہت خوبصورت بھی ہے۔ وہ اکیلے ہی پورے گھر اور بچوں کو سنبھالتی ہے—سکولوں سے لے کر ہسپتال کے چکروں تک، سودا سلف لانا، الیکٹریشن/کارپینٹر کو بلانا اور وہ دوسرے کام بھی کرنا جو عام طور پر مرد کرتے ہیں۔ وہ میرا بھی بہت خیال رکھتی ہے اور مجھے اس کی طرف سے اپنے گھریلو معاملات کے بارے میں کوئی پریشانی یا شکایت نہیں ہے۔

​میں ایک ایسی نوکری کرتا ہوں جس میں روٹیشن (باریوں) پر جانا پڑتا ہے—یعنی 45 دن فیلڈ پر اور 10 دن گھر۔ اس سے پہلے میں 21 دن فیلڈ اور 10 دن گھر والی نوکری کرتا تھا جس میں تنخواہ اوسط درجے کی تھی (اس وقت ان 21 دنوں میں میری بیوی اپنے والدین کے گھر رہتی تھی)۔ ہماری دوسری بیٹی کی پیدائش کے بعد، میں نے 2 سال دبئی میں بھی کام کیا۔

​تین سال پہلے جب میرے والد کی طبیعت خراب ہوئی، تو میں اپنی بیوی کو واپس پاکستان لے آیا اور ہمارے لیے گھر کا اوپر والا پورشن الگ سے سیٹ کر دیا۔

​اصل مسئلہ میری والدہ کا میرے اور میری بیوی کے ساتھ رویہ ہے۔ وہ مسلسل ہمیں طعنے دیتی ہیں اور ہمارا موازنہ میرے چھوٹے بھائی اور اس کی بیوی سے کرتی ہیں۔ میرا بھائی بے روزگار ہے اور پوری طرح میرے والدین پر منحصر ہے، جو گریڈ 19 کے ریٹائرڈ سرکاری افسر ہیں اور ان کے پاس پنشن اور 3 دکانوں کا کرایہ آتا ہے۔ میرے والدین ہی میرے بھائی کے خاندان کے تمام اخراجات اٹھاتے ہیں۔

​میری بیوی بچوں کے ساتھ اپنے آپ میں مگن رہتی ہے اور میرے بھائی سے زیادہ بات چیت نہیں کرتی۔ میری والدہ اس دوری کو بدتمیزی اور نافرمانی سمجھتی ہیں، اور میرے بھائی کا دفاع کرتے ہوئے میری بیوی کی توہین کرتی ہیں۔ جب بھی میں اپنے 10 دن کے بریک پر گھر آتا ہوں، میری والدہ مجھ سے بحث کرتی ہیں اور مجھ پر الزام لگاتی ہیں کہ میں اپنی بیوی کی طرفداری کرتا ہوں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے والدین کے تمام بلز، دوائیاں، پراپرٹی کے کرائے اور گھر کے دیگر معاملات خود سنبھالتا ہوں۔ میرا بھائی اور اس کی بیوی کچھ بھی تعاون نہیں کرتے، لیکن پھر بھی میری والدہ کو ان سے کوئی شکایت نہیں ہے۔

​شادی کے شروعاتی سالوں میں ہی میری بیوی نے یہ بھانپ لیا تھا کہ میری والدہ میرے چھوٹے بھائی کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں۔ میری والدہ اسے یا اس کی بیوی کو کبھی نہیں ڈانٹتیں، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں، اور ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی حد سے زیادہ تعریفیں کرتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے بھائی کے پاس نوکری نہیں ہے، اس لیے میری والدہ کو ڈر رہتا ہے کہ کہیں اس کی شادی نہ ٹوٹ جائے یا اس کی بیوی اسے چھوڑ کر نہ چلی جائے۔ اسی وجہ سے وہ اسے کچھ زیادہ ہی اہمیت دیتی ہیں اور ایسا کرتے ہوئے وہ اکثر میری بیوی کی توہین کر بیٹھتی ہیں۔ ایک اور وجہ خوبصورتی بھی ہے؛ میری بھابھی دیکھنے میں ایک عام سی لڑکی ہیں جبکہ میری بیوی کافی خوبصورت ہے، اور میری والدہ اکثر اس بات پر بھی میری بیوی پر تنقید کرتی ہیں۔

​میری بیوی اس صورتحال کو شروع میں ہی سمجھ گئی تھی۔ اس کی اور میری والدہ کی سوچ میں بہت فرق ہے۔ میری بیوی بہت پریکٹیکل (عملی) اور لاجیکل (عقلی) سوچ کی مالک ہے، وہ اپنی جگہ اور اپنے حقوق اچھی طرح جانتی ہے۔ اسی وجہ سے اس نے کچھ دوری اختیار کر لی اور واضح حدود (بائونڈریز) طے کر لیں۔ جب بھی میری والدہ ان حدود کو پار کرنے کی کوشش کرتی ہیں، تو میری بیوی انہیں ایسا نہیں کرنے دیتی۔ وہ اپنی زندگی پر توجہ دیتی ہے، ضرورت پڑنے پر مدد کرتی ہے لیکن بلاوجہ ان کے آس پاس نہیں گھومتی۔

​میری والدہ کو اس دوری پر اعتراض ہے اور وہ اسے بے عزتی سمجھتی ہیں۔ اسی طرح، میری بیوی میرے بھائی کو زیادہ اہمیت یا عزت نہیں دیتی، جسے میری والدہ دوبارہ اپنی توہین اور نافرمانی کے طور پر دیکھتی ہیں۔

​اب صورتحال یہ ہے کہ میں جب بھی اپنے 10 دن کے بریک پر گھر آتا ہوں، تو میری والدہ کا رویہ میرے ساتھ بہت تلخ اور دشمنی والا ہوتا ہے۔ ہر بار جب میں آتا ہوں، وہ مجھ سے لڑتی ہیں اور یہاں تک کہ مجھے بددعائیں بھی دیتی ہیں۔

​میں اس سب کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہوں۔

‏لاہور کا ایسا درندہ جس کے بارے میں جج نے فیصلہ دیا کہ اس کے گلے میں زنجیر ڈال کر سو بار اس کو پھانسی دی جائے اور پھر اس...
05/30/2026

‏لاہور کا ایسا درندہ جس کے بارے میں جج نے فیصلہ دیا کہ اس کے گلے میں زنجیر ڈال کر سو بار اس کو پھانسی دی جائے اور پھر اس کے جسم کو کاٹ کر تیزاب میں ڈال دیا جائے۔

استغفراللہ استغفراللہ استغفراللہ۔ 100 بچوں کو کھا جانے والا درندہ وہ شیطان جو انسان کے روپ میں لاہور کی گلیوں میں رہتا تھا۔ جاوید اقبال مغل پاکستانی تاریخ کا ہولناک باب ہے جس کی کہانی سن کر روحیں کانپ اٹھتی ہیں۔

دسمبر 1999 کی ایک سرد رات لاہور کے روزنامہ جنگ کے دفتر میں ایک خط پہنچا۔ خط کھلا اور اندر موجود صحافیوں کے ہاتھ کانپنے لگے اور چہرے سفید پڑ گئے۔ اس خط میں لکھا تھا کہ میں 100 بچوں کو ریپ کر کے قتل کر چکا ہوں اور میرا مشن مکمل ہو گیا۔

یہ الفاظ سن کر جنگ اخبار کے دفتر میں بیٹھے ہر شخص کی روح کانپ اٹھی۔ ایک 40 سالہ لاہوری باشندہ اطمینان سے اعتراف کر رہا تھا کہ وہ 100 بچوں کو درندگی کے ساتھ قتل کر چکا ہے۔ یہ شخص تھا جاوید اقبال مغل جسے تاریخ آج لاہور کے درندے کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اس کا کیس نہ صرف اس لیے بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا کہ وہ تاریخ کے خطرناک ترین سیریل کلرز میں سے ایک تھا بلکہ اس لیے بھی کہ سزا کا اعلان خود اس کے جرم کا عکس تھی۔

جاوید اقبال مغل 1961 میں لاہور میں پیدا ہوا اور وہ ایک کاروباری باپ کے آٹھ بچوں میں سے چھٹا تھا۔ اس کے باپ محمد علی مغل ایک خوشحال تاجر تھے۔ جاوید نے اسلامیہ ہائی اسکول سے میٹرک کیا اور گورنمنٹ اسلامیہ کالج میں پڑھنے کے دوران 1978 میں اپنا اسٹیل ریکاسٹنگ کا کاروبار شروع کیا۔ اس کے باپ نے اسے شاد باغ میں ایک ولا خرید کر دیا جہاں وہ کئی لڑکوں کے ساتھ رہتا تھا۔

بظاہر ایک معمولی کاروباری شخص لیکن اندر سے ایک ایسی آگ سلگ رہی تھی جو بے گناہ بچوں کو نگلنے والی تھی۔ بچپن سے ہی اس میں خطرناک رجحانات موجود تھے۔ 1985 اور 1990 میں اس پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات لگے لیکن وہ کبھی سزا نہ پا سکا کیونکہ وہ متاثرین کے خاندانوں کو رشوت دے کر معاملات دبا دیتا تھا۔ یہی نظام کی سب سے بڑی ناکامی تھی کہ ایک مجرم کو بار بار موقع دیا گیا اور نتیجہ 100 بے گناہ بچوں کی موت بنا۔

جاوید اقبال کا دعوی تھا کہ اس نے یہ ہولناک مشن پولیس سے انتقام لینے کے لیے شروع کیا۔ پولیس نے اسے بے بنیاد مقدمے میں گرفتار کیا تھا اور اسے مارا تھا اور اس کی شکایات کو نظرانداز کیا تھا۔ اس کی ماں نے اپنے بیٹے کے خلاف الزامات سن کر روتے روتے بیماری کی حالت اختیار کر لی۔ جاوید نے کہا کہ میری ماں میرے لیے روئی اور میں چاہتا تھا کہ 100 مائیں اپنے بچوں کے لیے روئیں۔ یہ الفاظ انسانی بے رحمی کی انتہا کا اظہار ہیں۔

اس نے جون سے نومبر 1999 کے چھ مہینوں کے درمیان اپنا مشن مکمل کیا۔ 6 سے 16 سال کے گلی کوچوں میں بھٹکنے والے بچے اور یتیم اور بھکاری اور بھاگے ہوئے بچے اس کا شکار بنے۔ اس نے ایک ویڈیو گیم آرکیڈ بھی کھولا تاکہ بچوں کو آسانی سے قریب لایا جا سکے۔ وہ لڑکوں کو مفت یا سستے ٹوکن دیتا اور زمین پر پیسے گرا کر انتظار کرتا اور جو بچہ پیسے اٹھاتا وہ اس کی نظر میں آ جاتا۔

وہ عوامی جگہوں پر بچوں کو کھانا یا پیسے یا رہنے کی جگہ کا لالچ دیتا۔ جیسے ہی بچہ اس کے گھر داخل ہوتا قیامت شروع ہو جاتی۔ وہ پہلے جنسی زیادتی کرتا پھر لوہے کی زنجیر یا کسی اور ذریعے سے گلا گھونٹ کر قتل کرتا پھر لاش کے ٹکڑے کرتا اور ہائیڈروکلورک ایسڈ سے بھرے ڈرموں میں گھول دیتا تاکہ کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔

سب سے ہولناک بات یہ تھی کہ وہ ہر شکار کا ریکارڈ رکھتا تھا۔ نام عمر تصویر اور دیگر تفصیلات یہ اس کی ذاتی قتل کی ڈائری تھی۔ اس نے سوچ سمجھ کر انہی بچوں کو نشانہ بنایا جنہیں وہ سمجھتا تھا کہ سماج نے پہلے سے ٹھکرا دیا ہے۔ غریب اور بے گھر اور نظرانداز شدہ بچوں کو اس نے اس لیے چنا کیونکہ اسے یقین تھا کہ کوئی انہیں ڈھونڈنے نہیں آئے گا۔ یہ خیال پاکستانی سماج کے ایک تاریک پہلو کا المناک ثبوت ہے۔

نومبر 1999 میں ایک کپڑے کے تاجر کی رپورٹ کے بعد پولیس کو شک ہوا اور چھاپہ مارا گیا۔ گھر سے تفصیلی نوٹ اور ڈرائنگ اور شکاروں کا سامان اور ایسڈ میں تحلیل شدہ باقیات ملیں۔ جاوید اقبال نے ایک مہینے تک فرار رہنے کے بعد خود جنگ اخبار کے دفتر میں ہتھیار ڈالے کیونکہ اسے ڈر تھا کہ پولیس اسے زندہ نہیں چھوڑے گی۔

مارچ 2000 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اسے 100 بار قتل کا مجرم قرار دیا۔ جج نے حکم دیا کہ اسے اسی زنجیر سے گلا گھونٹ کر مارا جائے جو اس نے بچوں پر استعمال کی اور پھر اس کا جسم 100 ٹکڑوں میں کاٹ کر ایسڈ میں گھول دیا جائے جیسا کہ اس نے اپنے شکاروں کے ساتھ کیا۔ لیکن انصاف مکمل نہ ہو سکا۔ 8 اکتوبر 2001 کو جاوید اقبال اور اس کے ایک ساتھی سجید احمد کوٹ لکھپت جیل میں مردہ پائے گئے۔

یہ پوسٹ ان تمام پاکستانی مسلمان بھائی بہنوں کے لئے ہے، جن کو ان کی اور ان کے بہن بھائیوں کی حقیقت دکھائی جائے بتائی جائے...
05/26/2026

یہ پوسٹ ان تمام پاکستانی مسلمان بھائی بہنوں کے لئے ہے، جن کو ان کی اور ان کے بہن بھائیوں کی حقیقت دکھائی جائے بتائی جائے تو وہ بڑی شان سے مغربئ ممالک کے اصول و قوانین اور گوروں کی طرز زندگی سے اپنا موازنہ کرکے خود کو بڑا اونچا اور نیک و کار ثابت کرتے ہیں۔ مغربی ممالک اور گوروں کے بارے میں وہی باتیں کرتے ہیں جو عالم دین ان کے دماغوں میں ڈالتے ہیں تاکہ ان مسلمان بہن بھائیوں کو اپنی خامیاں اور غلطیاں کبھئ نظر نہ آئیں اور وہ ایمان کے نچلے درجہ پر پہنچ کر اپنا موازنہ غیر مسلموں سے کرکے مطمئن ہوجائیں کہ وہ گوروں سے بہتر ہیں۔ جن کو گوروں کی زندگی کی الف ب بھی نہیں معلوم، جو کبھی کسی مغربی ملک نہیں گئے اور نہ ہی کبھئ جاسکتے ہیں وہ یہ مر کر بھی نہیں سوچ سکتے کہ آج قرآن کے 50 فیصد اصول و قوانین پر بھی اگر کوئی ملک عمل پیرا ہیں تو وہ مغربی ممالک ہیں۔ اللہ مسلمان سے ایمان کی جو توقع رکھتا ہے اس میں سے اگر 50 فیصد خوبیاں بھی کسی میں موجود ہیں تو وہ گوروں کی اکثریت میں موجود ہیں ۔

پچھلے دنوں میرے یہی بہن بھائی مجھ پر بہت برہم ہوئے تھے جب میں نے ہمبستری سے سکون حاصل کرنے کے لئے گوروں کی مثال دی تھی کہ گورے وہ سکون حاصل کرتے ہیں جس کا ذکرقرآن میں ہے لیکن وہ سکون نکاح کرکے بھی پاکستان کے شوہروں اور بیویوں کو حاصل نہیں ہورہا۔ میں نے مثالیں بھی دی تھیں لیکن خود کو بغیر کسی عمل کے برتر سمجھنے کی بیماری پاکستان میں عام ہوچکی ہے۔
چند دنوں سے کچھ خبریں سامنے آرہی تھیں تو جو پہلی بات میرے دماغ میں آرہی تھی، سوچا آج کہہ ہی ڈالوں۔

پچھلے سال ایک کانسرٹ میں ایک کمپنی کا سی ای او اپنی ہی کمپنی کے ایک ڈپارٹمنٹ کی ہیڈ کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور پوری دنیا نے انہیں دیکھا۔ ایک گھنٹہ کے اندر اندر اس مرد کی بیوی نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ سے اپنے شوہر کا نام ہٹا دیا اور ایک مہینہ کے اندر طلاق کی درخواست جمع کروادی۔ جس دن انہیں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اس کے چوبیس گھنٹے کے اندر سی ای او کو ملازمت سے فوری طور پر معطل کردیا گیا اور ایک ہفتہ کے اندر سی ای او نے ملازمت سے استعیفہ دے دیا۔ اس کے بعد وہ دونوں گمنام ہوگئے۔ مرد نے پوری دنیا سے درخواست کی کہ وہ خبروں سے دور رہنا چاہتا ہے۔

میرے بہن بھائی اور عالم دین اب ذرا پاکستان کے مسلمانوں کا حال سنیں۔ ایف آئی آر جمع کروانے کے بعد یہ بات سامنے آگئی ہے کہ رکن قومی اسمبلی ثاقب اداکارہ مومنہ کے ساتھ پچھلے پانچ سال سے ریلیشن یعنی زنا میں مبتلا تھا۔ یہ میں نہیں کہہ رہی، ثاقب کا وکیل چیخ چیخ کر میڈیا پر پوری دنیا کو بتا رہا تھا۔ مغربی ممالک کے دورے، شاپنگ اور بینک اکاونٹ میں پیسے ڈالنے کے شواہدات پیش کیے جا چکے ہیں۔ لاکھوں کی ایک ٹویوٹا گاڑی مومنہ کی ماں کے زیر استعمال ہے، دوسرئ مومنہ کے زیر استعمال ہے۔

مومنہ کو میں کچھ نہیں کہوں گی کیونکہ اس کا کام ہی ریجھا کر مال بٹورنا ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں لاہور اور ملتان کی ہیرا منڈی ختم ہونے کے بعد طوائفیں پورے پاکستان میں پھیل گئی تھیں اور ماڈرن میڈیا نے انہیں اور ان کی اگلی نسلوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا جس میں موجودہ ٹی وی چینلز کا کردار قابل غور ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کشمیر کی ہیرا منڈی کہاں تھی لیکن ثاقب کے گھر میں بیٹھی شریف زادی مسلمان بیوی کو کوئی فرق نہیں پڑتا شوہر کے پانچ سال کے غیر قانونی غیر شرعی تعلق پر کہ وہ شوہر کو چھوڑ کر جاتی؟؟؟؟

رکن قومی اسمبلی کے والد اور والدہ نے خود کو اپنے غیر شرعی تعلق رکھنے والے بیٹے سے علیحدگی اختیار کرنے یا عاق کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا؟؟؟؟ بیٹے کے کردار پر انہیں کوئی اعتراض ہئ نہیں؟؟؟

جو بے غیرت مرد مومنہ سے شادی کرنے جارہا ہے اسے اپنی ہونے والی بیوی کے کردار سے کوئی لینا دینا نہیں یعنی با کردار اور بد کردار میں پاکستان کے مسلمانوں کے لئے کوئی فرق نہیں کوئی حیثیت ہی نہیں؟؟؟

پاکستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن کی تنخواہ ایک سے ڈیڑھ لاکھ مختص ہے۔ کروڑوں روپے اور گاڑیاں مومنہ پر وار کر پولیس کو ثبوت جمع کروانے کے بعد بھی پاکستان کا انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ حرکت میں نہیں آیا کہ یہ کروڑوں روپے آئے کہاں سے؟؟؟

اس بات کی تصدیق ہوجانے کے بعد کہ رکن قومی اسمبلی پچھلے پانچ سال سے غیر قانونی غیر شرعی تعلق میں تھا، اس کے غیر اخلاقی غیر شرعئ کردار کی تصدیق کے بعد بھی اس کو رکن قومی اسمبلی کے عہدے سے معطل کرنے والا کوئی نہیں؟؟؟

کیا پاکستان کے آئین میں قومی اسمبلی کا رکن بننے کے لئے باکردار ہونا شرط ہئ نہیں؟؟؟

مغربی ملک میں تو ایک پرائیوٹ کمپنی کے عہدیدار کے لئے باکردار ہونا لازمی ہے۔۔۔۔ تو آج قرآن کے اصول و قوانین پر کون عمل کررہا ہے؟؟؟

شادی سے پہلے مرد و عورت جو کرتے پھریں لیکن شادی کے بعد دنیا کے ہر مذہب ہر قوم ہر ملک کے رہنے والے کا ایک ہی اصول ہے جو قرآن میں درج ہے کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لباس ہیں اور ایک دوسرے سے سکون حاصل کرنے کے لئے شادی کرتے ہیں لیکن شوہر یا بیوی میں سے ایک بھی بےوفائی کرے تو قابل قبول نہیں لیکن پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے سب کچھ قابل قبول ہے۔

گورے سرعام شراب پیتے ہیں، جوا کھیلتے ہیں اور زنا کرتے ہیں۔ آج پاکستان کے مسلمان بھی یہ سب کرتے ہیں لیکن چھپ کر۔ گورے حرام جانور کا گوشت کھاتے ہیں اور اللہ کو نہیں مانتے۔ ان پانچ کاموں کے علاوہ ہر وہ کام کرتے ہیں جو اللہ مسلمان میں دیکھنا چاہتا ہے اور مسلمان منافقت کا لبادہ اوڑھ کر خود کو بےعمل اعلی و ارفع سمجھتے ہیں لیکن سمجھنے سے کیا ہوگا۔ اللہ تو جانتا ہے۔ دیکھ رہا ہے۔ یہ کس کو دھوکہ دیتے ہی؟؟؟

پورا میڈیا خبریں چمکانے اور مال بنانے میں مشغول ہے لیکن ظاہر جعفر - نور مقدم، عمر حیات - ثناء یوسف، عثمان مرزا - نوجوان جوڑا اور ان کے والدین کی بدکردار اولاد کے غیر شرعی تعلق کو نظر انداز کرنے کی طرح آج بھی کردار کی بات کرنے والا کوئی نہیں؟؟؟

پھر کہتے ہیں ہم پر ظالم حکمران کیوں مسلط ہیں؟؟؟
#ارم

ذبح کے شرعی اصول اور  قصابوں جلد بازی 1. چھری تیز ہو اور جانور کو آرام دیا جائے – حدیث مبارکہ ہے کہ "اللہ نے ہر چیز پر ا...
05/26/2026

ذبح کے شرعی اصول اور قصابوں جلد بازی

1. چھری تیز ہو اور جانور کو آرام دیا جائے – حدیث مبارکہ ہے کہ "اللہ نے ہر چیز پر احسان کرنا مقرر کر دیا ہے، جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے کرو اور اپنی چھری تیز کر لو اور جانور کو آرام دو۔" (صحیح مسلم)
2. – ذبح کرتے وقت4 نالیاں کاٹنی چاہئیں، جس میں دو خون کی نالیاں جو دونوں سائیڈوں پر ہوتی ہیں ایک سانس کی نالی اور خوراک کی نالی کے علاوہ اور نہیں کاٹنی چاہیے جانور کو ٹھنڈا ہونے کا انتظار کرنا چاہیے لیکن ریڑھ کی ہڈی

(فقار) کو کاٹنا مکروہ ہے،
کیونکہ اس سے جانور کو شدید تکلیف ہوتی ہے جس کی وجہ سے سارا خون بھی گوشت کے اندر رہ جاتا ہے اور جو ہم کہتے ہیں کہ فریزر کے اندر سے گوشت کا کلر براؤن ہو جاتا ہے وہ بھی اسی کی وجہ ہے اور بدبو آتی ہے تو وہ اسی وجہ سے ہے جو کافی ساری بیماریوں کا سبب بنتا ہے بعد میں اور اس کی روح کا نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اگر قصاب نے جان بوجھ کر یا لاپرواہی سے گردن میں کھڑی چھری مار کر اس کو جلدی میں ٹھنڈا کرنا چاہتا ہے تو یہ غلط ہے
بہتر یہ ہے کہ قصاب کو پہلے ہی سمجھا دیا جائے کہ وہ جانور کو آہستہ اور تیز چھری سے ذبح کرے، اور ہڈی نہ کاٹے۔

اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پہنچائے کہ لوگوں کی قربانی صحیح طریقے سے ادا ہو سکے اور جو لوگوں کو علم نہیں اس پر عمل کر کے دوسروں کی بھی قربانی اور اپنی بچا سکیں

💥 میری ساس نے میرے باپ کو میری ہی شادی میں سروس ایریا میں بٹھا دیا 💔 آپ لوگ بہت سادہ ہیں۔ فرنٹ سیٹنگ سب کو نہیں دی جا سک...
05/26/2026

💥 میری ساس نے میرے باپ کو میری ہی شادی میں سروس ایریا میں بٹھا دیا 💔 آپ لوگ بہت سادہ ہیں۔ فرنٹ سیٹنگ سب کو نہیں دی جا سکتی نا…⚠️

میرا نام ماہ نور ہے۔

اور میں نے اُس رات شادی نہیں توڑی تھی…

میں نے اپنے ماں باپ کی بے عزتی کے سامنے خاموش رہنے سے انکار کیا تھا۔

میں اندرونِ لاہور کی ایک تنگ گلی میں پلی بڑھی تھی۔

جہاں گرمیوں میں بجلی چلی جائے تو لوگ چھتوں پر چارپائیاں ڈال لیتے ہیں، اور بارش میں نالیاں بھر جائیں تو بچے پانی میں کشتیاں بہاتے ہیں۔

میرے ابو، بشیر احمد، ساری عمر رکشہ چلاتے رہے۔

سردیوں میں اُن کی انگلیاں اسٹیئرنگ پر جم جاتی تھیں۔

گرمیوں میں اُن کی قمیض پسینے سے بھیگ جاتی تھی۔

لیکن اُنہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ “بیٹیوں کو اتنا پڑھا کر کیا کرنا ہے؟”

وہ کہتے تھے:

“میری بیٹی دفتر میں بیٹھے گی… دھوپ میں نہیں۔”

امی محلے کی عورتوں کے کپڑے سیتی تھیں۔

رات کے دو بجے تک مشین چلتی رہتی۔

اور صبح فجر سے پہلے وہ میرا ناشتہ بنا دیتیں۔

میں نے اُن دونوں کی نیندیں پہن کر ایم بی اے کیا تھا۔

پھر میری منگنی احد ملک سے ہوئی۔

ڈیفنس لاہور کا رہنے والا۔

بڑا گھر۔

کاروباری خاندان۔

مہنگی گھڑیاں پہننے والے لوگ۔

اور اُن سب کے درمیان ایک عورت…

شازیہ ملک۔

میری ہونے والی ساس۔

وہ کبھی سیدھی بے عزتی نہیں کرتی تھیں۔

وہ مسکرا کر زخم دیتی تھیں۔

رشتے کے دن امی کی چائے پیتے ہوئے بولیں:

“آپ لوگ بہت سادہ ہیں… آج کل ایسے خالص لوگ کہاں ملتے ہیں۔”

خالص۔

یہ وہ لفظ تھا جو امیر لوگ غریبوں کے لیے تب استعمال کرتے ہیں جب وہ “کم تر” کہنا چاہتے ہوں۔

مہندی پر انہوں نے ایونٹ پلانر سے کہا:

“لڑکی والوں کا حصہ تھوڑا سادہ رکھنا… اُنہیں زیادہ چمک دمک سوٹ نہیں کرے گی۔”

اور ایک دن تو حد ہو گئی۔

انہوں نے اپنے دوستوں کے سامنے میرے ابو کا تعارف کرواتے ہوئے کہا:

“یہ ماہ نور کے والد ہیں… ماشاءاللہ بہت محنتی آدمی ہیں، پوری زندگی ڈرائیونگ کی ہے۔”

ڈرائیونگ۔

جیسے میرے ابو کوئی رشتہ نہیں، پیشہ ہوں۔

احد ہر بار میرا ہاتھ دبا کر کہتا:

“ماما کو دل پر مت لیا کرو۔”

میں چپ رہ جاتی۔

کیونکہ محبت اکثر عورت کو اپنی بے عزتی سے بھی سمجھوتہ کرنا سکھا دیتی ہے۔

پھر شادی کا دن آ گیا۔

گلبرگ کے ایک بڑے فارم ہاؤس میں تقریب تھی۔

جھومر۔

سفید پھول۔

قوالی۔

مہنگی خوشبوئیں۔

اور وہ لوگ جو تصویروں میں زیادہ مسکراتے ہیں، حقیقت میں کم۔

امی نے اپنی زندگی کی سب سے مہنگی ساڑھی خریدی تھی۔

بار بار مجھ سے پوچھتی رہیں:

“بیٹا… زیادہ سستی تو نہیں لگ رہی؟”

اور ابو…

انہوں نے پہلی بار بلیک سوٹ سلوایا تھا۔

وہ آئینے میں خود کو دیکھ کر صرف اتنا بولے:

“آج میری بیٹی رانی لگے گی۔”

مگر شام ہوتے ہوتے…

میری پوری دنیا بدل گئی۔

میں برائیڈل روم میں بیٹھی تھی کہ میری کزن حنا گھبرائی ہوئی اندر آئی۔

“ماہو… باہر مسئلہ ہو گیا ہے۔”

میرا دل ڈوب گیا۔

“کیا ہوا؟”

وہ ہچکچائی۔

“خالہ اور خالو ہال میں نہیں بیٹھے…”

میں فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔

لہنگا سنبھالتے ہوئے باہر نکلی۔

اور پھر میں نے وہ منظر دیکھا…

جو شاید میں مرتے دم تک نہ بھول سکوں۔

میرے امی ابو سروس ایریا کے قریب پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھے تھے۔

اُن کے برابر ویٹر پلیٹیں اٹھا کر جا رہے تھے۔

ایک طرف کولڈ ڈرنک کے کارٹن پڑے تھے۔

اور میرے ابو…

وہ اپنی جیب سے دعوت نامہ بار بار نکال کر دیکھ رہے تھے۔

جیسے خود کو یقین دلا رہے ہوں کہ وہ واقعی یہاں بلائے گئے تھے۔

میری امی نے مجھے دیکھا تو فوراً کھڑی ہو گئیں۔

“بیٹا تم یہاں کیوں آئیں؟ میک اپ خراب ہو جائے گا…”

وہ اپنی بے عزتی بھول کر میری فکر کر رہی تھیں۔

میں اُن کے قدموں میں بیٹھ گئی۔

“آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟”

امی نے نظریں چرا لیں۔

“بس بیٹا… اندر جگہ کم تھی…”

اتنے میں شازیہ ملک وہاں آ گئیں۔

چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ۔

“ارے ماہ نور، تم یہاں؟ مہمان انتظار کر رہے ہیں۔”

میں نے پہلی بار اُن کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا:

“میرے ماں باپ کو یہاں کس نے بٹھایا؟”

وہ ہلکا سا ہنسیں۔

“بیٹا، کچھ مہمانوں کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ فرنٹ سیٹنگ سب کو نہیں دی جا سکتی نا۔”

میرے اندر کچھ ٹھنڈا پڑ گیا۔

“یہ میرے ماں باپ ہیں۔”

“اور ہم نے اُن کی عزت ہی کی ہے۔ کھانا، آرام، سب انتظام ہے۔”

کھانا۔

بس یہی حیثیت تھی اُن کے نزدیک۔

میں نے احد کی طرف دیکھا۔

“تمہیں پتا تھا؟”

وہ خاموش رہا۔

پھر آہستہ سے بولا:

“ماہ نور… ابھی سین نہ بناؤ۔”

بس۔

وہ ایک جملہ تھا جس نے میری محبت دفن کر دی۔

کیونکہ جس آدمی کو اپنی ماں کی غلطی غلط نہ لگے…

وہ کبھی شوہر نہیں بن سکتا۔

میں سیدھی اسٹیج پر گئی۔

قوالی رک گئی۔

لوگ مڑ کر دیکھنے لگے۔

میں نے مائیک اٹھایا۔

احد میرے پیچھے آ گیا۔

“ماہ نور، پلیز…”

میں نے اُس کی طرف دیکھے بغیر کہا:

“آج یہ شادی تب ہوگی جب اس ہال میں میرے ماں باپ کی عزت بھی موجود ہوگی۔”

ہال خاموش ہو گیا۔

میں نے مائیک میں کہا:

“جن دو لوگوں نے اپنی پوری زندگی جلا کر مجھے یہاں تک پہنچایا… آج اُنہیں ویٹروں کے راستے کے پاس بٹھایا گیا ہے، کیونکہ وہ امیر نہیں ہیں۔”

لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

شازیہ ملک آگے بڑھیں۔

“یہ ڈرامہ بند کرو!”

میں نے پہلی بار بلند آواز میں کہا:

“ڈرامہ آپ لوگوں نے کیا ہے۔”

پھر میں نے سب کے سامنے وہ فائل نکالی جو میں کئی دنوں سے اپنے بیگ میں لیے پھر رہی تھی۔

احد کا چہرہ سفید پڑ گیا۔

کیونکہ اُس میں وہ کاغذات تھے جن پر شادی کے بعد مجھ سے دستخط کروانے تھے۔

میرے فلیٹ کی منتقلی کے۔

میرے سیونگ اکاؤنٹس کے۔

اور ایک مشترکہ بزنس انویسٹمنٹ کے نام پر قرض کے۔

میں نے سب کے سامنے کہا:

“یہ شادی نہیں تھی… ایک سرمایہ کاری تھی۔”

ہال میں شور مچ گیا۔

احد نے میرا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی۔

“ماہ نور، بات سنو…”

میں نے ہاتھ جھٹک دیا۔

“نہیں احد۔
اگر کسی عورت کے ماں باپ تمہیں اپنے معیار سے کم لگتے ہیں… تو ایک دن وہ عورت بھی تمہیں بوجھ لگنے لگتی ہے۔”

میرے ابو رونے لگے۔

“بیٹا چھوڑ دو… لوگ کیا کہیں گے…”

میں اُن کے سامنے جھک گئی۔

“ابو… ساری زندگی آپ لوگوں کے ڈر سے جھکتے رہے۔
آج ایک بار مجھے آپ کے لیے کھڑا ہو لینے دیں۔”

میں نے اپنا دوپٹہ سنبھالا۔

انگوٹھی اتاری۔

اور احد کے ہاتھ پر رکھ دی۔

پھر آخری بار مائیک پر کہا:

“غریب ماں باپ اپنی اولاد کو جہیز نہیں دیتے… اپنی عمر دے دیتے ہیں۔
اور جو شخص اُن کی عزت نہ کر سکے، وہ محبت کے قابل نہیں ہوتا۔”

پھر میں اپنے امی ابو کا ہاتھ پکڑ کر اُس ہال سے باہر آ گئی۔

پیچھے رہ گئے فانوس، پھول، قوالیاں اور تین سو مہمان۔

سامنے صرف دو تھکے ہوئے چہرے تھے۔

مگر اُس رات پہلی بار…

مجھے لگا میں دلہن نہیں بنی…

میں اپنی ماں باپ کی عزت بن گئی ہوں۔ 💔

©️ انتخاب سخن کے شکریہ کے ساتھ

Address

Florida State University, FL
133133

Telephone

+971526898778

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ATS Collection Corner posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Club

Send a message to ATS Collection Corner:

Share