Muhammad Awais Saeed

Muhammad Awais Saeed Historical videos and Vlogs

09/05/2024

ڈاکٹر مارس کا قبول اسلام اور فرعون کی لاش

مصر کے عجائب گھر میں ایک لاش پڑی ہے جس کے بارے میں محققین نے دعوی کیا ہے کہ یہ حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کی لاش ہے جس کو بائبل کے مطابق Ramesses– II کی لاش کہا جاتا ہے ۔ اس لاش کی تحقیق کے دوران ڈاکٹر مارس نے اسلام قبول کرلیا تھا اس کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ اس کہانی کو اپنے پیج کے دوستوں سے شئیر کررہا ہوں۔

1898 ءمیں اکسر (مصر) کا ایسا شہر تھا جس کے بارے میں دعوی کیاجاتا ہے کہ یہ پرانے مصر یعنی فرعون کے دور کا دارالحکومت تھا! وہاں وکٹر لارٹ نامی شخص پہنچا۔ اس شہر کو بادشاہوں کی وادی بھی کہا جاتا ہے۔ وہاں 1799 سے زمین کی کھدائی جاری تھی، اس دوران اسے ایک لاش ملی! اسے قاہرہ منتقل کیا۔1907 کو ایک اور سائنسدان الائتھ سمتھ نے اس لاش کا جائزہ لیا اور ایک کتاب میں اس کا پورا تذکرہ لکھا۔
پھر بعد ازاں اسی کی دہائی میں ایک فرانسیسی سائنسدان Maurice bucaile نے لاش کی تحقیق کیلئے حکومتی اجازت مانگی اور کتاب میں لکھا کہ یہ لاش 3 ہزار سال سے زیادہ عرصہ سے وہاں تھی۔ اسے فرانس منتقل کیا جائے۔
فرانس میں اس لاش پر فرنچ مانومنٹ سنٹر میں بڑے بڑے سائنسدانوں نے اس لاش پر تحقیقات کیں۔ اس لاش کے سینہ، پیٹ کے اندر کے اعضاء کا جائزہ لیا گیا۔ اس کئی اعتبار سے تحقیق کی گئی! ایک موقع پر ڈاکٹر مورس باکیویل چکرا گئے اور اپنی کتاب Bible, Quran and Science کے صفحہ نمبر 40 میں لکھا کہ اس لاش کی موت سمندر کے اندر غرق ہونے سے ہوئی تھی۔
جب تحقیقات نے بتایا کہ اس کی موت سمندر میں غرق ہونے سے ہوگئی تو وہ حیران تھا کہ یہ لاش اتنی بڑی لہروں سے بچ کیسے گئی؟ اس بات نے اس سائنسدان کو حیران کردیا۔ اچانک اس کے ایک ساتھی نے اس سے کہا کہ اس بحث میں اتنا نہ پڑو کیونکہ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ ہماری کتاب میں لکھا ہوا ہے یعنی یہ کوئی نئی بات نہیں! اس نے کہا کہ اگر مسلمانوں کی کتاب میں یہ لکھا ہے تو اس کتاب میں یہ بات کیسے آئی؟ قرآن کو اس لاش کی حقیقت کس نے بتائی؟ وہ سائنسدان اور حیران ہوگیا!

وہ سائنسدان ساری رات جاگتا رہا اور حیرانی سے سوچتا رہا کہ آخر قرآن کو یہ بات کس نے بتائ؟ حالانکہ یہ لاش 1898 میں برآمد ہوئ ہے اور اب 1975 میں ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ یہ سمندر میں غرق ہوکر غرق ہوا! لیکن یہ نہیں سمجھ آرہی کہ اس کی لاش ہم تک کیسے پہنچی؟ یقینا یہ علم قرآن میں نہیں ہوگا! اس جگہ پہنچ کر اس نے Bible پڑھی اور exodus کے چیپٹر کے باب نمبر 14 میں آیت نمبر 28 کو بار بار پڑھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ پھر پانی نے انہیں گھیر لیا اور فرعونیوں میں سے کوئی ایک بھی زندہ نہ بچا۔ پھر اس نے توراہ کے باب Psalms کے باب نمبر 106 کی آیت 9، 10 اور 11 کو پڑھا جس کا مفہوم تھا کہ اس موسی نے حکم دیا کہ وہ خشک ہوجائے۔ موسیٰ کے ساتھی محفوظ طریقے سے دوسرے کنارے پہنچ گئے لیکن فرعونیوں میں سے کوئی ایک زندہ نہ بچا!

اس سائنسدان Maurice bucaile نے لکھا کہ کسی ایک جگہ توراۃ میں بیان نہیں کہ فرعون کی لاش کو محفوظ کیسے بنایا گیا۔ لیکن اسے اس بات کا جواب چاہیے تھا۔ وہ حیران تھا کہ مسلمانوں کی کتاب قرآن میں اس لاش کی حفاظت کا ذکر کہاں سے آیا؟ حضرت محمد ﷺؤ کو کس نے بتایا؟ بالآخر اس نے ایک میڈیکل کانفرنس میں شرکت کی جو سعودی عرب میں منعقد ہوئی 1975 میں اور فرانس کی عالمی خبروں میں اشاعت ہوئی کہ ایک فرعون کی لاش پر تحقیقات کی گئیں۔ اور یہ وہی فرعون ہے جو سمندر میں غرق ہوکر مرا تھا!
اس تحقیق کی شہرت ہر طرف پہنچ گئی۔ سعودی عرب میں ایک کانفرنس میں پہنچ کر انہوں نے اپنا پیپر پڑھا کہ یہ وہ فرعون ہے جو موسی علیہ السلام کے تعاقب میں نکلا اور غرق ہوکر مرا تھا جو Ramsses II تھا۔ اس کا مرکزی خیال تھا کہ آخر کس نے بتایا کہ فرعون کی لاش کو محفوظ کیسے کیا گیا؟ پھر اسی نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے قرآن پاک کی سورۃ یونس کی آیت 90، 91 اور 92 پڑھی جس میں فرعون کے غرق ہونے کی مکمل کہانی موجود تھی۔ آخر پر لکھا تھا کہ ہم تیری لاش کو آج کے دن سے محفوظ رکھیں کے عبرت کا نشان بنائیں گے کیا یہ لوگ میری نشانیاں نہیں دیکھتے اور لیکن اکثر لوگ غافل ہیں۔

یہ آیات پڑھنے کے بعد Dr. Maurice bucaile نے کھڑے کھڑے کلمہ شھادت پڑھ دیا اور مجمع عام کے سامنے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا۔ اس کا کہنا تھا چونکہ قرآن پاک ایک سچی کتا ب ہے مجھے اس کا جواب کسی اور کتا ب میں نہیں ملا۔ اس لئے میں اس کی سچائی پر گواہی دیتا ہوں۔
ڈاکٹر مارس نے خود بھی اسلام قبول کرلیا بلکہ اس کی فیملی نے بھی اسلام قبول کرلیا۔

https://youtu.be/AV95hC_uDa8
09/05/2024

https://youtu.be/AV95hC_uDa8

اسلام وعلیکمKamran ki Baradari.First Mughalia building. Secret Of lahoreKamran ki baradariKamran's Baradari is a historic monument located in the city of Lah...

https://youtu.be/vI1LuQ11a-4
19/04/2024

https://youtu.be/vI1LuQ11a-4

The Most Difficult Days Of Prophet Muhammad ﷺ | Hijrat E Taif | DaywithmeThe most difficult days of the life of Prophet Muhammad ﷺ were when he went to Taif ...

https://youtu.be/dRPIEke5ye4
12/04/2024

https://youtu.be/dRPIEke5ye4

Welcome To daywithmeHere Is All wars Of Rasool (S.W.A)/Ghazwat E Nabwi.It ContainChaptersStart00:00Jang E Badar | Battle of Badar0:00Jang E Uhad |Battle Of ...

https://youtu.be/5ALPC-kd7Pg
07/04/2024

https://youtu.be/5ALPC-kd7Pg

Welcome To DaywithmeToday video is aboutMuhammad (SAW) Last War | Jang E Tabuk | Story Of Al Zarar Mosque.After conquering Makkah, the state of Medina began ...

29/03/2024

صلح حُدیبہ کی کہانی
مزید ایسی ویڈیوز کیلیے میرے چینل Daywithme@ پر وزٹ کریں۔ویڈیو کو لائک اور شئیر ضرور کیجیے گا۔شکریہ

آج کے دن یعنی 17 رمضان ،2 ہجری میں313  مسلمانوں نے رسول ﷺ کی قیادت میں ایک ہزار کفارِ مکہ کو بدر کے میدان میں شکست دی۔
28/03/2024

آج کے دن یعنی 17 رمضان ،2 ہجری میں313 مسلمانوں نے رسول ﷺ کی قیادت میں ایک ہزار کفارِ مکہ کو بدر کے میدان میں شکست دی۔

Welcome to daywithme.Here I wil tell you Ghazwa e badar history in urdu.In this war Muslims Fought with Non Muslims of Makkah 313 Against 1000 .Must watch Is...

مکہ فتح توعرب کے زیادہ تر قبیلے اسلام سے متاثر ہو کر مسلمان ہونے لگے۔لیکن ابھی بھی کچھ قبیلے ایسے باقی تھے جنہوں نے مسلم...
22/03/2024

مکہ فتح توعرب کے زیادہ تر قبیلے اسلام سے متاثر ہو کر مسلمان ہونے لگے۔لیکن ابھی بھی کچھ قبیلے ایسے باقی تھے جنہوں نے مسلمانوں کی طاقت کو تسلیم نہیں کیا۔یہ ویڈیو ہے انہی قبیلوں سے جنگ کے بارے میں۔

Welcome To "Day With Me" my Friends.Today Video is Al about•Ghazwa E hunain In Urdu•Jang E hunain•Battle Of hunain Battle of Hunain was fought in 630 CE bet...

Address

Mianwali

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Awais Saeed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share