16/01/2026
نکاح سے کچھ دیر پہلے قاضی صاحب نے کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا “ اگر کسی کو اس نکاح پر اعتراض ہو تو ابھی بتا دے... “
سب ادھر اُدھر دیکھنے لگے۔
ایسے میں آخری قطار میں سے ایک خوبصورت نوجوان لڑکی گود میں بچی لئے آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اسٹیج کی جانب چل پڑی۔
شادی ہال میں سناٹا چھا گیا تھا ، صرف اس کے اونچی ایڑی والے سینڈل کی آواز گونج رہی تھی
ٹک
ٹک
ٹک
اسکو دیکھتے ہی دلہن نے دلہا کو تھپڑ مارنے شروع کر دئیے
دلہن کا باپ بندوق لینے بھاگا
دلہن کی ماں اسٹیج پر ہی بے ہوش ہو گئی
سالیاں دولہے کو کوسنے لگیں اور سالے آستینیں چڑھانے لگے
قاضی نے سب کو خاموش ہوجانے کی تلقین کرتے ہوئے لڑکی سے پوچھا " بی بی ! آپ کا کیا مسئلہ ہے؟ "
لڑکی بولی " جی ۔۔۔ وہ ۔۔۔ پیچھے ٹھیک سے آواز نہیں آ رہی تھی اس لئے آگے آ گئی ہوں "
*نتیجہ : ہم ایک جذباتی قوم ہیں*