25/11/2020
ڈریکولا کی سلطان محمد فاتح سے جنگ
, HistoryContent, Story, StoryContent, SultanMuhammadFatah, UrduContent, UrduHistory, UrduKahani, UrduStory, YoutubeStory
ڈریکولا کی سلطان محمد فاتح سے جنگ
یہ دنیا کا پہلا ویم پائر کردار ہے ۔ جس کو آئلینڈ کے ایک
ادیب "برام سٹوکر" نے تخلیق کیا
۔ یہ کردار بھی موجودہ دور میں سُپر مین اور
بیٹ مین جتنا ہی مشہور ہے ۔ مگر دوستو !ڈریکولا اور سُپر مین میں فرق صرف
اتنا ہے کہ ڈریکولا صرف ایک خیالی کردار
نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت پر مبنی شخصیت ہے
۔ یقین کریں دوستو ! حقیقی ڈریکولا فلموں اور کہانیوں میں دکھائے گئے ڈریکولا سے کہی زیادہ سفاق اور بے رحم انسان تھا ۔ مؤرخین
کے مطابق یہ روئے زمین پر تقریبا ایک لاکھ انسانوں کی موت کا سبب بنا ۔ اس کردار
کا حقیقی نام "وِلا سوم " یعنی "وِلا تھری" ہے ۔یہ کردار چودا سو اکتیس میں ولاچیا یعنی
کہ موجودہ رومانیا میں پیدا ہوا ۔ اب آتے
ہیں اس سوال کی طرف کہ اس کو ڈریکولا کیوں کہا جاتا ہے ۔ تو دوستو! اس کے باپ
"ولا دی سیکنڈ " کا لقب تھا
"ڈریکول " جس کا مطلب ہے ڈریگن
۔ جس کو وہ بڑے فخر کے ساتھ اپنے نام کے ساتھ استعمال کرتا تھا۔ اسی طرح "ولا
سوم" نے اپنے نام کے ساتھ ڈریکولا یعنی ڈریگن کا بیٹا لفظ
استعمال کرنا شروع کیا ۔ اس کا باپ "وِلا دی سیکنڈ " ولاچیا یعنی کہ موجودہ رومانیا کے ایک علاقے کا حاکم تھا ۔ جسے سلطنت ِعثمانیہ کے سلطان
"مراد ثانی " نے بغاوت
کے الزام میں "ایڈرن" شہر طلب کیا
۔اسے دوبارہ ولاچیا کے حکمران کے
عہدے پر فائز تو کر دیا گیا مگر اس کے دو بیٹے جن میں ایک کا نام "وِلا سوم "
اور دوسرے کا نام "رادو" تھا ترکی
میں ہی روک لئے گئے ۔ اس کا مقصد ولاچیا کے
نئے حکمرانوں کو تعلیم تربیت دینا
تھا ۔ اور اس طرح یہاں اُن کی تربیت کا عمل شروع ہو گیا ۔ ان کو طرز حکمرانی سے لے
کر میدان جنگ تک کے عمور میں مہارت دی
گئی ۔کچھ مؤرخین کے مطابق "سلطان محمد فاتح " اور "ڈریکولا" نے ایک ساتھ ہی اپنی
تربیت مکمل کی ۔ چھوٹے بھائی "رادو " پر اپنے مسلمان استادوں اور دوستوں کی صحبت کا ایسا اثر ہوا کہ وہ مسلمان ہو گیا ۔ جبکہ "ولا
سوم" یعنی "ڈریکولا" اپنے
دین پر ہی قائم رہا ۔ ان کے باپ یعنی "ولا دی سیکنڈ" پر قریبی ریاست "ٹراسلمینیا" کے
حکمران "جان ہن یاڈی "
نے زور ڈالنا شروع کیا ۔کہ وہ سلطنت عثمانیہ کے خلاف کی جانے والی
فوجی کاروائی میں انکا حصے دار بنے ۔ لیکن
ڈریکون کے دونوں بیٹے اس وقت ترکی میں ہی موجود تھے ۔ وہ کیسے سلطنت عثمانیہ کے
خلاف بغاوت کر سکتا تھا ۔ اس لئے "جان ہن یاڈی " نے "وِلا دی سیکنڈ
" کے کزن کو اپنے ساتھ ملا کر ولاچیا
پر حملہ کر دیا اور "وِلا دی
سیکنڈ" یعنی کہ ڈریکولا کے باپ کو قتل کر دیا ۔اس کے بعد سلطنت عثمانیہ نے
"ولا دسوم" یعنی کہ ڈریکولا
کوعثمانی فوجوں کے ہمراہ
"ٹراسلمینیا" روانہ کیا ۔ جہاں اُس نے اپنے چچا اور اپنے باپ کے قاتل
"جان ہن یاڈی " کو شکست دی ۔
اور خود ٹراسلمینیا اور ولاچیا کا بادشاہ بن گیا ۔ بادشاہ بننے کے بعد اس نے "ٹراسلمینیا"کے
اُن لوگوں کی سر گوبی کی کہ جو اُس کے
دشمنوں کی مدر کرتے رہے تھے ۔ یہاں اُس نے
ظلم و بربریت کی وہ داستانیں رقم کی کہ جن
کو یاد کر کے انسان کانپ جاتا ہے ۔ یہاں وہ "بلا دی اِمپیلر" کے نام سے
مشہور ہوا ۔امپیل کا مطلب ہے کسی جاندار کو سیخ میں پرونہ ۔ یہ لوگوں کو مار کر
نیزے میں پرو دیا کرتا ۔ اِسے لوگو ں کو تکالیف دینے میں بہت زیادہ مزہ آتا تھا ۔
یہ تکالیف ایسی ہیں دوستو کہ جن کو یہاں بیان نہ ہی کیا جائے تو اچھا ہے ۔ بس اِس
کے بارے میں اتنا کہوں گا کہ یہ اپنے دوستوں کے خون میں روٹی ڈبو کر بھی کھانے سے
نہیں کتراتا تھا۔ اُس نے اپنے دور حکومت
میں اپنی جنگی صلاحیت میں اضافہ کیا ۔ اور مُلک میں خوب جنگی قلعے بنوائے ۔چونکہ
وہ "ہنگری " کی حکومت کے ساتھ
مل کر " سلطنت ِعثمانیہ "کے ساتھ زور آزمائی کے خواب دیکھنے لگا
تھا۔ اِس مقصد کیلئے اُس نے "کیتھلک
" چرچ میں ایک خط لکھا۔ کہ وہ عثمانی سلطنت کے خلاف ایک صلیبی جنگ کا آغاز
کریں ۔ اور ہنگری کے بادشاہ "میتھی یس کاربی نس" کے ساتھ مل کر
"سلطنت عثمانیہ " کے خلاف منصوبے بنانے لگا ۔ اُس نے لگاتار تین
سال تک "عثمانی سلطنت" کو ٹیکس نہ دیا۔ اور "سلطنت عثمانیہ "
کے علاقوں میں گھس کر ہزارو لوگوں ،عورتوں
اور بچوں کا وحشیانہ قتل کیا اور اِن کی
لاشوں کو نیزے میں پِرو کر زمین میں گارڈ دیا ۔ اس پر "سلطان محمد فاتح"
نے اپنا ایک وفد اِس کے دربار میں بھیجا
اور اِسے "قُس تُن تُنیا" حاضر ہونے کا حکم دیا ۔"ولا
سوم" یعنی ڈریکولا نے اس وفد کے تمام لوگوں کو اذیت دے کر مروا دیا
اور اِن کی لاشوں کو بھی امپیل کروا دیا یعنی نیزے میں پرو دیا گیا ۔ جب
"سلطان محمد فاتح" کو یہ سب
باتیں معلوم ہوئی تو اُس ڈیڑھ لاکھ
سپاہیوں پر مشتمل ایک لشکر جرار تیار کیا ۔یہ "سلطان محمد فاتح" کی قُس
تُن تُنیا کی فتح کے بعد دوسری سب سے بڑی مہم تھی ۔ اب اِس فوج کا مقابلہ کرنا نہ
تو "ولا سوم " کے بس کی بات تھی
نہ اِس کے نئے آقا یعنی کہ "ہنگری" کے بادشاہ کی ۔ اب "ولا
سوم" یعنی ڈریکولا نے گھٹیا طریقے اپنانے شروع کئے ۔ اُس نے ایک رات چھپ کر
"سلطان محمد فاتح" کے خیمے پر حملہ کر دیا ۔ مگر اُسے بعد میں پتہ چلا
کہ وہ خیمہ "سلطان محمد فاتح" کا نہیں
بلکہ اُس کے ایک مشیر "محمود پاشا" کا تھا ۔"ولا سوم"
رات کی تاریکی کا فائدا اُٹھا کر بھاگ نکلا ۔ مگر "عثمانی " فوجوں کے
کچھ دستے اِس کے تعاقب میں اِس کے پیچھے گئے ۔"ولا سوم" نے ایک جال تیار
کر رکھا تھا ۔ اور یہ تعاقب کرنے والے دستے اِس کے جال میں پھنس گئے ۔ جب
"سلطان محمد فاتح" اپنی باقی فوج کے ساتھ جنگل میں داخل ہوا تو اِس نے ایک نہایت ہی بھیانک منظر دیکھا ۔قُس
تُن تُنیا جیسے شہر کو فتح کرنے والی فوج بھی
یہ منظر دیکھ کر کانپ اُٹھی ۔ "ولا سوم" یعنی ڈریکولا نے اُن کے
فوجی ساتھیوں کی لاشوں سے اِس جنگل کو بھر دیا تھا ۔ اُس نے ہر درخت میں ایک سپاہی
کو پرو دیا تھا ۔ اب "سلطان محمد فاتح" "ولا سوم" کی چال سمجھ
چُکا تھا ۔ اُس نے ایک نئی حکمت عملی تیار کی اور
"ڈریکولا" کے چھوٹے بھائی "رادھو" کو آگے کر کے ولاچیا اور "قاسلمینیا" کے بااثر
لوگوں کو اپنی طرف کرنا شروع کیا ۔ اِس
میں "سلطان محمد فاتح " کو بہت زیادہ کامیابی ملی ۔ اِس حکمت عملی سے
"ڈریکولا" کا اِس علاقے میں چھپنا محال ہو گیا ۔ مجبورن اُسے اپنے
ساتھیوں سمیت ہنگری میں پناہ لینا پڑی ۔اور "رادھو" کو ٹراسلیمینیا کا
بادشاہ بنا دیا گیا ۔ ہنگری کے بادشاہ نے "ولا سوم" کے ساتھ وہی سلوک
کیا جو تاریخ میں ہر غدار کے ساتھ کیا
جاتا ہے ۔ اُس نے ڈریکولا کو قید کر دیا کیونکہ وہ اِس کی مدد کر کے براہ راست
"سلطنت عثمانیہ " سے جنگ مول نہیں لینا چا ہتا تھا ۔اِس گرفتاری کو صیحح
ثابت کرنے کیلئے اُس نے چرچ کو چند جھوٹے خط بھی دکھائے ۔ کہ جس میں "ولا
سوم" یعنی ڈریکولا عثمانی سلطان کے
ساتھ مل کر ہنگری کی حکومت کے خلاف سازشیں
کر رہا تھا ۔ جبکہ حقیقت بالکل اِس کے برعکس تھی ۔ یہاں "ولا سوم" یعنی
ڈریکولا تقریبا تیرا سال قید میں رہا ۔ اِسے "مولڈیویا" کے بادشاہ
اور چرچ کی ضمانت پر رہا کیا گیا ۔ کیونکہ
وہ "کیتھلک" مذہب اپنا چُکا تھا ۔ اُس نے مقامی بادشاہوں کی مدد سے اپنا
تخت دوبارہ حاصل کر لیا ۔ مگر چند ہی مہینے بعد "سلطن عثمانیہ " نے پھر سے اِس کے خلاف ایک فوجی مہم بھیجی ۔ اور
اِس بار اِس کو قتل کر کے اِس کا سر قُس تُن تُنیا روانہ کر دیا گیا ۔ اِس شخص کے کارنامے اتنے
سیاہ تھے کہ اِس کی سفاکی کے قصے اِس کی
زندگی میں ہی مشہور ہو گئے تھے ۔ سو سال پہلے یہ کہانیا ں صرف مقامی لوگوں تک ہی زبان
زد عام تھیں ۔ مگر "برام سٹوکر " نے
تاریخ انسانی کے اس قردار کو اپنے
ناول کے ذریعے ساری دنیا میں متعارف کروا
دیا ۔
Now You Can See Story, History, Romance, Love, Reality, Fun, Islamic, Queen Story, Queen History, For Youtube, Facebook, TikTok