17/05/2024
**ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے **
آزاد ریاست جموں اینڈ کشمیر میں بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جاری تحریک اور اس تحریک کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ اور غیر منصفانہ برتاؤ کے نتیجے میں ایک سانحہ وقوع پزیرہوا اس پورے عمل میں مسئلہ کشمیر اور اس کے مستقبل کے حوالے سے زیادہ تشویش ناک اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کر دی گئی
اس تحریک کا بنیادی مقصد صرف بجلی کے ٹیرف کی منصفانہ تقسیم اور سرکاری آٹے کی بروقت مروجہ اصولوں کے مطابق جائز سبسڈی اور ریٹ لسٹ کی تصیح کرنا مقصود تھا_ کوئی ایک سال سے ایکشن کمیٹیاں اور حکومتی وزراء اور نمائندوں سے بات چیت چل رہی تھی_ معاہدے ہوئے مگر ان پر عمل درآمد نہ ہوا بلکہ ٹال مٹول سے عوام کا حکومتی وعدوں سے اعتماد اٹھ گیا _
کچھ وزراء بشمول وزرا اعظم اس کا حل نکالنے کی بجائے ہاتھ کھڑے کرنے ک بعد طاقت اور جبر سے عوامی جائز تحریک کو دبانے کے لیے ہر بے استعمال کرنے شروع لگے_
اس تحریک کے پس منظر میں ازاد ریاست جموں و کشمیر میں ہونے والے ان ھاوس تبدیلی اور جمہوری عمل میں بے جا مداخلت سے مقبول عوامی نمائندگان کو محدود کر دیا گیا اور اپنی مرضی کی کابینہ بنائی گئی جس سے ایک لمبے عرصے تک عوام کی اور ایوانوں میں جاننے والے لوگوں کو یکسر غیر فعال کر دیا گیا جس سے لوگوں کا وفاق پر اعتبار کم ہوا_ یہ اعتبار کا گراف کافی حد تک گر کے منفی حدود کو چھونے لگا - عرصہ تین سالوں سے بیوروکریٹس کو بھی غیر فعال کر دیا گیا سیاست دانوں اور پھر بیوروکریسی کی بجائے حکومتی ہرکاروں کے ذریعے علاقے کو کنٹرول کیا جانے لگا_
وفاق کی عوامی نمائندوں کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی بجائے براہ راست عوام سے نپٹنے کی پالیسی کو دانشمندانہ عمل نہیں کہا جا سکتا_ کٹپتلی کابینہ کی امرانہ سوچ اور عوامی طاقت کی مس کیلکولیشنز نے اس مسئلے کو اور بھی خراب کر دیا عوام کے مطالبات کو جائز قرار دے کر اس کے حل کے لیے کوشش کی بجائے طاقت دھمکیوں سے دبانے کی احمقانہ تجویز کے خالق اور تائندگان کی عقل پر ماتم کیا جانا چاہیے_ آزاد ریاست کی کثیر تعداد جو اس بجلی اور ڈیموں کی وجہ سے بے گھر ہونے کے بعد بہت سارے یورپین ممالک اور بالخصوص برطانیہ جیسے جمہوری ملک میں آباد ہو چکے ہیں ان کی پانچویں نسل وہاں پہ اپنا رول پلے کر رہی ہے اور وہاں ان کی پارلیمنٹ کے وہ افعال ممبر بن چکے ہیں_ وہ ازادانہ لکھ سکتے ہیں، پڑھ سکتے ہیں، سوچ سکتے ہیں اور اظہار رائے بھی کر سکتے ہیں تو ان کی کثیر تعداد بھی اس تحریک میں شامل تھی اور برطانیہ کے علاوہ یورپی ممالک، خلیج کے ممالک میں بھی کثیر تعداد اس خطے کی موجود ہے جو کہ براہ راست فارن ریمیٹنسز ہمارے زر مبادلہ کو بڑھانے کے لیے بھیج رہے ہیں ان لوگوں کی ملک سے محبت وطن پاکستان سے محبت کو شک کی نگاہ سے دیکھنا مناسب نہیں -
ان کے اپنے مطالبات کو دہرانے اور اپنے جائز مطالبات کے لیے وفاق سے ریکویسٹ کرنے کو اگر شک کی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ بھی مناسب رویہ نہیں ہے_
انہی حالات میں سب سے بدترین فیصلہ رینجر کی ڈیپلائیڈ منٹ کو سمجھا جا رہا ہے جس سے ایک شدید رد عمل دیکھنے میں ایا لوگ یہ سمجھنا شروع ہو گئے کہ ان کو طاقت کے ذریعے کچلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ یہ رینجرز سرکاری بلڈنگز ہائیڈرو پاور پلانٹس پر کام کرنے والے غیر ملکی چینی انجینیئرز اور ورکرز کی حفاظت مقصود تھی _ اسی ماحول میں ایک اعتماد شکنی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی_
جس نے عوام اور رینجرز کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا_
موب کے پتھراؤ نے جلتی پر تیل کا کام کیا _
اپنی حفاظت کے لیے فائرنگ کی گئی جس کے نیچے میں میں تین افراد شہید ہوے
عوام کی فائرنگ سے ایک انسپکٹر بھی شہید ہوئے _
یہ سارا عمل دلخراش ھے
اخر پہ مطالبات مان بھی لیے گئے مگر دلوں میں قدورتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی پہلے پہل اس مسئلے کو گفت و شنید سے حل کر لینا چاہیے تھا لوگوں کے جائز حقائق پہ مبنی مطالبات کو بروقت ایڈریس کیا جانا چاہیے تھا تو یہ نوبت نہ اتی مسئلہ کشمیر اور الحاق َپاکستان کے لیے ہمارے اکابرین کی 70 سالہ نظریاتی جدوجہد اور کوشش کو اس عمل نے نا قابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے
جس کا ازالہ کرنے کے لیے جلد اقدامات کیے جانے چاہیے_
ملکی سیاسی اور معاشی زوال کے وقت اس طرح کے ایڈونچر کرنا کسی طور درست اقدام نہیں ہے
اس طرح کی سوچ کے حامل افراد کا محاسبہ بھی ضروری ہے_ کشمیر میں ارٹیکل 370A اور35-Aکے خاتمے ہیں سے ایک طرف جو ہمارا کمزور رد عمل دیکھنے میں ایا اس سے مقبوضہ قبضہ کشمیر کے لوگوں کی توقعات کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کے لوگوں کا مورال بھی کافی حد تک گر گیا اور فاٹا کی طرح آزاد ریاست کی حیثیت اور اس کے علاقے کے مختلف صوبے میں ضم کرنے کی افواہیں بھی عوام کو وفاق پر سے اعتماد میں کمی لانے کا سبب بن رہی ہیں اس سارے پروپگنڈے کا تدارک کرنا اشد ضروری ہے
اور لوگوں کو سمجھانا ضروری ہے اس سارے سانحہ کی اصل وجہ بجلی کی قیمتیں اور بجلی پیدا کرنے کے لیے کیے گئے معاہدے پہ عمل نہ کرنے اور گندم کی پیداواری ترسیل اور اس کے انتظامات میں لاپرواہی اور گندم کی سمگلنگ کے حوالے سے جو عوامل ہیں
وہ کار فرما تھے.
ہاں یہاں اس بات کا ذکر جائز سمجھتا ہوں کہ اپنی متنازعہ حیثیت اور جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے کسی بھی طرح بلیک میلنگ کرنا اور یا بلیک میلینگ کرنے کی سوچ رکھنا قطعا درست نہیں ہے
دنیا کی ہر طرح کے نفرت، محرومی غم و غصے کو دلجوئی نرم لہجے اور معاشی اسودگی سے محبت اور ہم اہنگی میں بدلا جا سکتا ہے عوام اور ادارے ایک اکائی ہیں عوام ہی سے ادارے ہیں اور اداروں ہی سے عوام ہیے ہم ہیں_
ایک دوسرے پر اعتماد ایک دوسرے کو مساوی اور برابر کا انسان سمجھنے اور مساوی حقوق دینے سے ہم بیرونی درپیش مسائل کا مقابلہ کر سکتے ہیں اصل مسئلہ معاشی اور سیاسی بحران ہے _ اس طرح کے مسائل سے نبرد ازما ہونے کے لیے ہم سب نے مل کے کام کرنا ہے
سب کے دل جوئی کرنی ہے اور امن لانا ہے امن ایک نعمت ہے اور سب کے لیے نعمت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا نچوڑ بھی یہی ہے کہ **یا اللہ تعالی اس شہر کو امن کا گہوارہ بنا_**
دنیا کے ختم ہونے اور تمام ہونے سے پہلے خدا نے 40 سال **کامل امن **کے ہونے کی نوید بھی اسی لیے سنائی ہے_
آؤ مل کر آگے بڑھیں اور امن لائیں کہ امن میں ہم سب کی امان ہے
** تم بناؤ کسی تصویر میں کوئی رستہ
میں بناتا ہوں کہیں دور سے آتا ہوا میں **