Abdul basit subhani official

Abdul basit subhani official Urdu literature, prose and poetry

17/05/2024

**ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے **

آزاد ریاست جموں اینڈ کشمیر میں بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جاری تحریک اور اس تحریک کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ اور غیر منصفانہ برتاؤ کے نتیجے میں ایک سانحہ وقوع پزیرہوا اس پورے عمل میں مسئلہ کشمیر اور اس کے مستقبل کے حوالے سے زیادہ تشویش ناک اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کر دی گئی
اس تحریک کا بنیادی مقصد صرف بجلی کے ٹیرف کی منصفانہ تقسیم اور سرکاری آٹے کی بروقت مروجہ اصولوں کے مطابق جائز سبسڈی اور ریٹ لسٹ کی تصیح کرنا مقصود تھا_ کوئی ایک سال سے ایکشن کمیٹیاں اور حکومتی وزراء اور نمائندوں سے بات چیت چل رہی تھی_ معاہدے ہوئے مگر ان پر عمل درآمد نہ ہوا بلکہ ٹال مٹول سے عوام کا حکومتی وعدوں سے اعتماد اٹھ گیا _
کچھ وزراء بشمول وزرا اعظم اس کا حل نکالنے کی بجائے ہاتھ کھڑے کرنے ک بعد طاقت اور جبر سے عوامی جائز تحریک کو دبانے کے لیے ہر بے استعمال کرنے شروع لگے_
اس تحریک کے پس منظر میں ازاد ریاست جموں و کشمیر میں ہونے والے ان ھاوس تبدیلی اور جمہوری عمل میں بے جا مداخلت سے مقبول عوامی نمائندگان کو محدود کر دیا گیا اور اپنی مرضی کی کابینہ بنائی گئی جس سے ایک لمبے عرصے تک عوام کی اور ایوانوں میں جاننے والے لوگوں کو یکسر غیر فعال کر دیا گیا جس سے لوگوں کا وفاق پر اعتبار کم ہوا_ یہ اعتبار کا گراف کافی حد تک گر کے منفی حدود کو چھونے لگا - عرصہ تین سالوں سے بیوروکریٹس کو بھی غیر فعال کر دیا گیا سیاست دانوں اور پھر بیوروکریسی کی بجائے حکومتی ہرکاروں کے ذریعے علاقے کو کنٹرول کیا جانے لگا_
وفاق کی عوامی نمائندوں کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی بجائے براہ راست عوام سے نپٹنے کی پالیسی کو دانشمندانہ عمل نہیں کہا جا سکتا_ کٹپتلی کابینہ کی امرانہ سوچ اور عوامی طاقت کی مس کیلکولیشنز نے اس مسئلے کو اور بھی خراب کر دیا عوام کے مطالبات کو جائز قرار دے کر اس کے حل کے لیے کوشش کی بجائے طاقت دھمکیوں سے دبانے کی احمقانہ تجویز کے خالق اور تائندگان کی عقل پر ماتم کیا جانا چاہیے_ آزاد ریاست کی کثیر تعداد جو اس بجلی اور ڈیموں کی وجہ سے بے گھر ہونے کے بعد بہت سارے یورپین ممالک اور بالخصوص برطانیہ جیسے جمہوری ملک میں آباد ہو چکے ہیں ان کی پانچویں نسل وہاں پہ اپنا رول پلے کر رہی ہے اور وہاں ان کی پارلیمنٹ کے وہ افعال ممبر بن چکے ہیں_ وہ ازادانہ لکھ سکتے ہیں، پڑھ سکتے ہیں، سوچ سکتے ہیں اور اظہار رائے بھی کر سکتے ہیں تو ان کی کثیر تعداد بھی اس تحریک میں شامل تھی اور برطانیہ کے علاوہ یورپی ممالک، خلیج کے ممالک میں بھی کثیر تعداد اس خطے کی موجود ہے جو کہ براہ راست فارن ریمیٹنسز ہمارے زر مبادلہ کو بڑھانے کے لیے بھیج رہے ہیں ان لوگوں کی ملک سے محبت وطن پاکستان سے محبت کو شک کی نگاہ سے دیکھنا مناسب نہیں -
ان کے اپنے مطالبات کو دہرانے اور اپنے جائز مطالبات کے لیے وفاق سے ریکویسٹ کرنے کو اگر شک کی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ بھی مناسب رویہ نہیں ہے_
انہی حالات میں سب سے بدترین فیصلہ رینجر کی ڈیپلائیڈ منٹ کو سمجھا جا رہا ہے جس سے ایک شدید رد عمل دیکھنے میں ایا لوگ یہ سمجھنا شروع ہو گئے کہ ان کو طاقت کے ذریعے کچلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ یہ رینجرز سرکاری بلڈنگز ہائیڈرو پاور پلانٹس پر کام کرنے والے غیر ملکی چینی انجینیئرز اور ورکرز کی حفاظت مقصود تھی _ اسی ماحول میں ایک اعتماد شکنی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی_
جس نے عوام اور رینجرز کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا_
موب کے پتھراؤ نے جلتی پر تیل کا کام کیا _
اپنی حفاظت کے لیے فائرنگ کی گئی جس کے نیچے میں میں تین افراد شہید ہوے
عوام کی فائرنگ سے ایک انسپکٹر بھی شہید ہوئے _
یہ سارا عمل دلخراش ھے
اخر پہ مطالبات مان بھی لیے گئے مگر دلوں میں قدورتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی پہلے پہل اس مسئلے کو گفت و شنید سے حل کر لینا چاہیے تھا لوگوں کے جائز حقائق پہ مبنی مطالبات کو بروقت ایڈریس کیا جانا چاہیے تھا تو یہ نوبت نہ اتی مسئلہ کشمیر اور الحاق َپاکستان کے لیے ہمارے اکابرین کی 70 سالہ نظریاتی جدوجہد اور کوشش کو اس عمل نے نا قابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے
جس کا ازالہ کرنے کے لیے جلد اقدامات کیے جانے چاہیے_
ملکی سیاسی اور معاشی زوال کے وقت اس طرح کے ایڈونچر کرنا کسی طور درست اقدام نہیں ہے
اس طرح کی سوچ کے حامل افراد کا محاسبہ بھی ضروری ہے_ کشمیر میں ارٹیکل 370A اور35-Aکے خاتمے ہیں سے ایک طرف جو ہمارا کمزور رد عمل دیکھنے میں ایا اس سے مقبوضہ قبضہ کشمیر کے لوگوں کی توقعات کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کے لوگوں کا مورال بھی کافی حد تک گر گیا اور فاٹا کی طرح آزاد ریاست کی حیثیت اور اس کے علاقے کے مختلف صوبے میں ضم کرنے کی افواہیں بھی عوام کو وفاق پر سے اعتماد میں کمی لانے کا سبب بن رہی ہیں اس سارے پروپگنڈے کا تدارک کرنا اشد ضروری ہے
اور لوگوں کو سمجھانا ضروری ہے اس سارے سانحہ کی اصل وجہ بجلی کی قیمتیں اور بجلی پیدا کرنے کے لیے کیے گئے معاہدے پہ عمل نہ کرنے اور گندم کی پیداواری ترسیل اور اس کے انتظامات میں لاپرواہی اور گندم کی سمگلنگ کے حوالے سے جو عوامل ہیں
وہ کار فرما تھے.
ہاں یہاں اس بات کا ذکر جائز سمجھتا ہوں کہ اپنی متنازعہ حیثیت اور جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے کسی بھی طرح بلیک میلنگ کرنا اور یا بلیک میلینگ کرنے کی سوچ رکھنا قطعا درست نہیں ہے
دنیا کی ہر طرح کے نفرت، محرومی غم و غصے کو دلجوئی نرم لہجے اور معاشی اسودگی سے محبت اور ہم اہنگی میں بدلا جا سکتا ہے عوام اور ادارے ایک اکائی ہیں عوام ہی سے ادارے ہیں اور اداروں ہی سے عوام ہیے ہم ہیں_
ایک دوسرے پر اعتماد ایک دوسرے کو مساوی اور برابر کا انسان سمجھنے اور مساوی حقوق دینے سے ہم بیرونی درپیش مسائل کا مقابلہ کر سکتے ہیں اصل مسئلہ معاشی اور سیاسی بحران ہے _ اس طرح کے مسائل سے نبرد ازما ہونے کے لیے ہم سب نے مل کے کام کرنا ہے
سب کے دل جوئی کرنی ہے اور امن لانا ہے امن ایک نعمت ہے اور سب کے لیے نعمت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا نچوڑ بھی یہی ہے کہ **یا اللہ تعالی اس شہر کو امن کا گہوارہ بنا_**
دنیا کے ختم ہونے اور تمام ہونے سے پہلے خدا نے 40 سال **کامل امن **کے ہونے کی نوید بھی اسی لیے سنائی ہے_
آؤ مل کر آگے بڑھیں اور امن لائیں کہ امن میں ہم سب کی امان ہے
** تم بناؤ کسی تصویر میں کوئی رستہ
میں بناتا ہوں کہیں دور سے آتا ہوا میں **

08/11/2023

#کھیل پراکسی اور جنگ #

کھیل اور تفریح انسان کے ذہنی سکون اور باہمی ہم آہنگی، آپس میں تال میل اور روابط کے لیے صدیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ہماری تہذیب کا حصہ ہیں-

اسی طرح #کرکٹ # برصغیر کا ایک بڑا مقبول کھیل ہے جس میں کھلاڑی اپنے علاقے اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں اور اپنی مہارت کا اظہار کر کے داد وصول کرتے ہیں

افرادی کاوشوں، جوش، حب الوطنی، فراست اور مہارت کے ساتھ ساتھ ہم آہنگی ، باہمی تال میل اور انفرادی تہذیبی اخلاقیات کا عکاس بھی ہے
کھیل میں جیت، ہار یا برابری تین انتخاب میں سے ایک کا حصے میں آنا ہی ہوتا ہے لیکن دنیا کچھ اور طرح سے دیکھتی ہے -
جیت کے وقت جذبات کا اظہار اور برتاؤ اور ہار کے وقت جذبات کا اظہار اور ری ایکشن قوم کے عمومی رویے کا اظہار ہیں اور اسی رویے کو دیکھتے ہوئے ان کے متعلق ایک عوامی رائے مرتب ہو جاتی ہے-
کھیل میں ملکی پالیسیوں کا اظہار کھیل کے اصل جذبے کو مجروح کرتا ہے - کھیل جہاں بہت سے لوگوں کو ہیجانی کیفیات میں ڈالتا ہے تو وہاں بہت سے لوگوں کو فخر اور سرشاری بھی عطا کرتا ہے-
کھیل روابط بڑھانے اور تہذیبوں کے باہمی میل جول اور معاشی بہتری کا سبب بھی ہے_
کھیل کو جنگ بنا کر کھیلنا اور جنگ میں سب جائز ہے کا اصول اپنانا قوموں کے اچھے امیج کو بری طرح مسخ کرتا ہے اور ان کی صدیوں کی تاریخ کو دھندلا کے رکھ دیتا ہے_

کھیلوں میں سب سے بری بات پراکسی وار کی آ میزش ہے یہ دنیا کے امن کے لیے زہرِ قاتل ہے_
کھیل محبتوں اور امن کی علامت ہیں اس کو جنگ، نفرت اور عدم برداشت کے مصالحہ سے چند سرمایہ داروں کے لیے تو فوائد ہو سکتے ہیں لیکن بنی نوع انسان کے لیے تقسیم در تقسیم، نفرت در نفرت کا موجب بنتا ہے_ جو عام انسانوں کے لیے کسی طور پر بھی درست نہیں_
کھیلوں میں تاریخ کی ہار جیت کو بالائے طاق رکھ کر کھیلنا چاہیے - کھیلوں میں سرحدیں نہیں بنانی چاہیے- کھیل میں کھل کر کھیلنا چاہیے اور کھیل کے اصولوں اور سپیرٹ کے ساتھ کھیلنا چاہیے-
کھیل میں غیر جانبداری سے کھلاڑیوں کی مہارت اور جذبے کو سہرانا چاہیے اور اس غیر جانبداری سے کھلاڑیوں کی مہارت اور جذبے کو سرہانا یہ عوام، تماشائیوں کی تربیت کا امتحان ہوتا ہے_
تاریخی دشمنی کے باوجود کھیل میں اعلی کارکردگی اعلی کارکردگی کو سرہانہ چاہے اس کھلاڑی کا تعلق کسی بھی قوم، نسل، علاقے یا ملک سے ہو_ یہ تربیت کا اظہار کرتا ہے یہ لوگوں کی فراخ دلی، بالغ نظری اور اچھی تربیت ہونے کی نشانی ہے _
کھیل میں انسانی نفسیات کا خیال رکھنا، انسانی جذبوں کا احترام، دوسروں کو برداشت کرنا اور اپنے مد مقابل کو دلجمی سے مقابلہ کرنے کا موقع دینا یہ اعلی اقوام کی تربیت کا حصہ ہے_
اس سے آپس میں مہارتیں سیکھی سکھائی جاتی ہیں اور باہمی ادب اور احترام کا رشتہ قائم رہتا ہے _

"جس شان سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو انی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں"

بس میں اتنا کہوں گا کہ کھیلو، خوب کھیلو، جیتو یا ہارو مگر اعلی اخلاقیات کا مظاہرہ کرو _
انسانی تہذیب کے مہذب اصولوں کی ترجمانی کرو اپنا معیار بلند رکھو اور مل جل کر امنِ عالم کے لیے کام کرو _
بے شک کہ انسانی تہذیب جب نقطہ عروج پہ پہنچتی ہے تو اس وقت اس کا نصیب" امن" ہوتا ہے

07/09/2023

*******شیرنی، ہرن اور حقوق نسواں*******

کسی جنگل کی شیرنی کو سیر و سیاحت کا بہت شوق تھا سیر و سیاحت کے سلسلے میں دور دراز جنگلوں میں غور و فکر کرنے اورحصول علم کے ساتھ ساتھ اپنی شکار کی مہارتوں کو جدید کرنے کا موقع ملا
اس سیر و سیاحت اور تفکر نے شکار دبوچ کر چیت کر کے اپنے بچوں میں تقسیم کرنے اپنے شکم کی سیری کے علاوہ کچھ نیا کرنے کا نرون دیا-
سب سے پہلے اس نے حقوق نسواں کے جھنڈے تلے ماداؤں کی شناخت کا دن بنانے کا فیصلہ کیا گیا_
اپنے جنگل کی تمام ماداؤں کو نمائندے کے طور پہ مدو کیا اور اظہارِ خیال کا موقع دیا_
شیرنی نے اپنے مہمانوں کو استقبالیہ دیا اور سپاس نامے میں مختصرا اس عالمی کانفرنس کی خدوخال بتائے اور فیملیز کو آگے بڑھ کر قائدانہ صلاحیتیں بروئے کار لانے کی ترغیب دی- جسے بہت سراہا گیا_
ہر طرف سے تالیاں، واہ واہ، اعلی، لاجواب کی آوازیں آنے لگی
مگر اس پورے حال میں ایک ہرنی سہمی، ڈری، خوف سے دبکی ہوئی بیٹھی تھی_ شیرنی نے باوقار انداز میں ہرنی کو سٹیج پہ بلایا- مگر بیچاری سے ایک قدم آگے نہ بڑھا گیا

لہذا شیرنی نے پھر بڑے پیار سے چمکارتے ہوےپاس جا کے اس کو دلاسہ دیا اور اس کی ہمت بندھائی-

ہرنی سٹیج پر آ کر کپکپاتی ہوئی اواز میں گویا ہوئی

"عزت مآب شیرنی صاحبہ! آپ نے ایک جنگی ماحول میں پرورش پائی ہے_ آپ کو ہمیشہ نہتے جانوروں کو تڑپا کر شکار کرنا سکھایا گیا ہے اور آپ کو حاکمہ اور ملکہ کا خطاب دیا گیا ہے-
اور تو اور یہ شیر صاحب بھی آپ کے سامنے بلنگڑوں کی طرح میاؤں میاؤں کرتے ہیں_ قدرت نے اپ کو اپنے دفاع کے لیے مضبوط دانت، مضبوط پٹھے دیے ہیں- آپ کو خود کفیل بنایا ہے - آپ کو صاحب جلالہ شیر صاحب کی طرف سے ماہانہ خرچہ کے لیے بھکاری نہیں بننا پڑتا- آب مرضی سے رسم و رواج کے مطابق زندگی گزارتی ہیں اور یہ کہہ کر ہرنی رک گئی.................... شیرنی بولی.......
بولو، بولو، بولو
من کی بات بولو
کیا کہنا چاہتی ہو؟؟
آج کھل کر بولو
ہرنی کھانستے ہوئے.............
صاحبِ جلالہ شیر صاحب تو صرف آپ کی نسل کی بقا کے لیے رہ گئے ہیں - ان کو نکٹھو کہنے کی میں جرات تو نہیں کر سکتی- باقی........... آپ خود سمجھدار ہیں مارانی صاحبہ!
آپ کو خطرہ ہے تو صرف اپنے جیسے شیروں سے، آپ کے سرتاج کی موجودگی میں ہر قسم کی حراسگی سے آپ محفوظ ہیں
دانتوں اور خون خوار پنجوں سے قدرت نے آپ کو انمول دفاعی مہارتوں سے لیس کیا ہے کوی دوسری صنف کے مونثوں و مذکروں سے آپ کو خوف نہیں

اس لیے آپ بیاک ہیں- آپ اس طرح کے پروگرام ترتیب دے کر آواز اٹھا سکتی ہیں
آزادی سے اظہار خیال کر سکتے ہیں جبکہ باقی تمام انواع کی تانیثیں اس طرح کی مراعات اور رعایتوں سے محروم ہیں
میں تو اپنے ہی انواع کے مونثوں اور مذکروں سے جان بچانے کا سوچتی ہوں اور پھر عزت بچانے کا سوچتی ہوں-

آپ کو جان بچانے سے زیادہ عزت بچانے کی فکر ہے ہمیں تو پیدائش سے ہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ باہر نہ جاؤ-
، دور نہ جانا کوئی بھیڑیا کھا جائے گا-
کوئی درندہ اٹھا لے گا-
اس خوف کے عالم میں شباب میں قدم رکھتے ہی ایک اور دھڑکا لگ جاتا ہے کہ جانے کون سا نر ہمیں اپنے تصرف میں لے آئے؟
جانے کون سا طاقتور ہمیں دبوچ لے اور ہماری انا کو کچل کے رکھ دے؟
ہم ہر روز کئی طرح کے خوفوں سے لڑتی ہیں - کئی طرح کی اذیتوں سے مرتی ہیں صرف جان کے جانےکا دھڑکا ہو تو کوئی بات نہیں -
شکم سیری کے لیے شکار ہو جانا تو برداشت ہے لیکن تخم سیری کے لیے جبرا شکار ہونا, اس سے بڑی کوئی رسوائی نہیں
ہماری مائیں بھی ازادی نسواں پر کبھی بول پڑتی ہیں تو ک کتے، بلے، لومڑ سب کے سب ان کی جان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور ہماری مادائیں سر پیٹتی ہیں، سینہ کو بی کرتی ہیں-
آپ جیسی ماداؤں کو بد دعا دیتی ہیں کہ انہوں نے ہمارے بچوں کو غلط تربیت کی، غلط شہ دی جس کا انجام ہمیں دیکھنا پڑا -
ہماری مائیں ہمیشہ ڈر کے اور چپ رہ کر رہنے کو سلامتی سمجھتی ہیں_ ہم شیر نہیں اور نہ ہی شیر دانتوں اور فولادی ہڈیوں سے لیس کسی شیر دل کے حرم میں ہیں-

******* ہم عام ہیں اور ہم خام ہیں*****

ہمیں تو سینگ تک نہ ملے جو ملے تو بہت ناتواں ملے- مضبوط سینگ تو ہمارے نروں کے سروں پر ہوتے ہیں اور وہ ہماری عزت کی حاکمیت کے لیے ان سینگوں کو اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے اپس میں استعمال کرتے رہتے ہیں اور کہیں اپنی گرفت کو کمزور ہوتا ہوا دیکھیں تو وہی سینگ جو دشمن کے سینے کو چیر کرنے کے لیے استعمال ہونے چاہیے تھے وہی سینگ وہ ہمارے رحموں میں اتار دیتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے بانچھ کر دیتے ہیں
یہ ازادی نسواں کے خواب طاقتوروں کے سروں میں پلتے ہیں جبکہ ہمارے جیسے غریب ماداؤں کے شکم میں سوائے دوسروں کی خوراک کی پنیری کے کچھ نہیں اگتا........... 😢
اور پنیری کو بڑا کیا جاتا ہے اور پھر یہ سلسلہ جوں کا توں چلتا ہے ہماری ہماری ازادی اتنی بھی نہیں کہ ہم اپنی مرضی سے چرا گاؤں کا انتخاب نہیں کر سکیں
اپنی مرضی سے پانی نہیں پی سکتیں اور اپنی مرضی سے سو بھی نہیں سکتیں
لہذا میرا مشورہ یہی ہے کہ کہ ان ماداؤں کو معاف کیجئے اور آپ خود آزاد پھریں-
ہماری دعائیں اپ کے ساتھ ہیں،
**** آباد رہیں، شاد رہیں****
✍️ عبدالباسط سبحانی✍️

30/08/2023

***میرا چاند مجھے ایا ہے نظر***

, 23 اگست2023 کی شام چندریانiii کے چاند پر باوقار اور محفوظ اتراؤ کاچرچا تھا پوری دنیا بشمول پاکستان اور میں، تمام لوگ چاند کے غیر معروف، زیادہ تاریک سطح پر اترنے کی ڈیٹا بیس تھری ڈی امیجز دکھ رہے تھے، خوف اور ُامید کے درمیان رفتہ رفتہ لینڈر چاند پر لینڈنگ کر رہا تھا

ہمارے پڑوسی ملک کا پہلا کم خرچ بالا نشین نتائج دینے والا لینڈر، چاند کی سطح پہ محفوظ لینڈنگ کر چکا تھا-

یہ سارے مناظر ٹی وی کی سکرین پر دیکھنے پر جہاں اس سائنسی فتح پر خوشی ہو رہی تھی وہاں کچھ ملال بھی ہو رہا تھا کہ

**، خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی***

ملال کی وجہ فطری مسابقت جو ہمارے پڑوسیوں کے ساتھ ہوتی ہے ہمارا پڑوسی اگر ڈنکی لگا کے یونان کی ساحلوں پہ اتر جائے تو بھی ہمیں کافی بے چینی ہوتی ہے،.
انسان اپنے مدِ مقابل انسان سے کسی نہ کسی حد تک مقابلہ یا مسابقت رکھتا ہے مگر یہ معاملہ تو دو قوموں کا تھا-
دل کو افسردہ کیے سارے سین میں نے دیکھے-

دل کی افسردگی میں اضافہ ہمارے دوستوں کے واٹس ایپ، ٹویٹس، ٹک ٹاکس اور فیس بک پر تقابلی تصاویر اور ارٹ ورک اور کمنٹس نے کیا کہ دل بالکل بیٹھ ہی گیا-

چاند کی سطح پر اترنے کے بعد چاند کی ہائیڈروجن کو کشید کر کے چاند سے اس پار مریخ اور اگے کے ستاروں اور سیاروں کی بازگشت سننے کا اگر ارادہ ہے تو بہت اچھا ہے-

اور اگر چاند پر جا کر پھر واپس وہاں سے پڑوسیوں کی زمین تنگ کرنے کا ارادہ ہے تو بہت برا ہے

ویسے 72 کی دہائی میں چاند کے پار اترنے کا خواب اور مون پر ہنی مون بنانے کا تصور بھی ہمارے پڑوس میں مشہور زمانہ پاکیزہ فلم میں بیان کیا گیا تھا -
جس کے بول کچھ اس طرح ہیں
"" چلو دلدار چلو
چاند کے اس پار چلو
ہوکے تیار چلو""
محمد رفیع اور لتا جی کی آواز میں گنگنایا گیا یہ دو گانا کسے کیا خبر تھی کہ واقعی ایک مشینی ربوٹ چاند کی سطح پہ جا اترے گا.
فلم پاکیزہ میں چاند پر جا کر برفانی پانی سے طہارت حاصل کرنے کی پوشیدہ خواہش آخر کار سائنسی روپ دھار گئی اور 23 اگست کی شام کو اس میں کچھ کامیابی بھی مل گئی-

چاند پہ اس طرح پہنچ جانا کوئی ایک دو دن کی بات نہیں یہ ایک لمبی طویل جدوجہد اور ایک سکسیس سٹوری ہے چندریان ٹو کی کرش لینڈنگ پر جن جن نے بھنگڑے اور لڈیاں ڈالی تھی پہلے وہ منہ چھپائے کھمبے نوچ رہے تھے- پھر ان سب دل برداشتہ دکھیوں نے سپارکو کی ایسی مٹی پلید کی کہ ان پہ ترس آنے لگا-

ہمارا ایک دوست اتنا جذباتی ہو گیا کہ اس حد تک جانے کو تیار ہو گیا کہ مڑا مجھے راکٹ سے باندھ دو تین چار آکسیجن کے سلنڈر بھی ساتھ دے دو اور سیدھا مجھے چاند کی طرف اڑا دو کہ میں سب سے پہلے چاند پہ پہنچ کر اپنے وطن کا پرچم لہرانا چاہتا ہوں_ مجھ سے یہ شکست برداشت نہیں ہو رہی-
ایک اور دوست فرما رہے تھے چاند پہ سے پانی کی ہمیں کیا ضرورت ہے ہمیں زمین پہ اپنے حصے کا پانی بھی سنبھالا نہیں جا رہا بلکہ
*** ہمیں اپنے حصے کا پانی ہی لے ڈوبا**
اور اب تو بہت زیادہ پانی کی ضرورت بھی نہیں بس ایک

** ایک چلو بھر پانی ہی کافی ہے **

جن نہتے لوگوں کو بھوک اور ایک وقت کی روٹی میسر نہ ہو جو اپنے گھر آئیں اور اپنے چاند ستاروں کو اپنے ہاتھوں سے دریا برد کر دیں یا زہر دے کے سلا دیں ان کو دور پار کے روشن چاندوں سے کیا مطلب؟؟؟

ہمارے لیے چاند بس شادی بیاہ کی تاریخ، رمضان کی قید سے آزاد ہونے کا پیغام، رویت ہلال کمیٹی کی تنخوہ حلال کرنے، اصلی شہد کے کشید کا وقت یا چاند کی روشنی میں بھٹکی ہوئی کسی چکور کا پیچھا یا اپنے من پسند کی کوئل کی تلاش کے سوا کچھ بھی نہیں-

** انسان کو خوش گماں ہونا چاہیے خوش فہم نہیں ہونا چاہیے**
چندریان تین چاند کو کھرچ کر تاپ ماند ماپ رہا ہے اور اسے کھڈوں گھایوں میں گرنے سے، زمین پر ہی سے بچایا جا رہا ہے اور ہم زمین پر اپنے بھائیوں کے لیے کھڈے اور قبریں کھود رہے ہیں-
چاند کی تلاش میں کئی جانے لاپتہ ہوئیں کئی زندگیاں کام آئیں، کئی لوگ بھٹکے، کئی ڈگمگائے کئی قربان ہوئے تب جا کے انسان نے پہلا قدم چاند پہ رکھا تھا اور یہ سلسلہ بھی جاری و ساری - لیکن یہاں ہمارے ہاں آنگن کے چاند ستارے لاپتا ہیں کہ کوئی بھی سیٹلائٹ، کوئی کھوجی، کوی سنسر ان کی خاک کی خبر تک نہ لا سکا -
میرے ملک کے ہموطنو!
خصوصا" **سپارکو** والو! اب تو کچھ کرو, کہیں سے توازن لاؤ, جاگو, کوئی راہ نکالو, یہاں فیڈ لیول بناؤ, کچھ وہ کر دکھاؤ کہ ہم بھی کہہ سکیں کہ تیشہ فرہاد سے ملک میں دودھ کی نہریں نہ سہی
چاند سے کوئی ذرہ ریگ ہی لاؤ کہ ملک کی حبس اور جبر میں یہ ذرہ ریگ آخر کار کبھی گو ھر یا آفتاب ہو ہی جائے گا

✍️ # #عبدالباسط سبحانی✍️

20/08/2023

*****اکسفورڈ کے معاشی ماہرین اور اڈاریاں***

تبت کے پہاڑوں کی بلندیوں پر ایک درسگاہ تھی جس کے سب سے زیادہ ماہر مونک نے یعنی ماسٹر نے اپنے 60 سالہ ریاضت اور محنت شاقہ سے ایک نیا ڈسپلن ایجاد کیا -
جس میں جسمانی طاقت، پھرتی کے ساتھ ساتھ روحانی اور ذہنی ترقی کے لیے مراقبے اور یکسوئی کی نت نئی ایکسرسائزز دریافت کی گئی- یہاں کے مونگ بڑے منظم تعلیل نفسی، خود احتسابی اور اشتعال شکنی کے ماہر گرو مانے جاتے تھے -
ایک دن سکول کے ایک مونک کا سامنا ایک غیر تربیت یافتہ ہجوم کے ساتھ ہو گیا ہجوم اس پر حملہ اور ہو گیا-
مونگ نے اپنی تربیت کے دوران سکھائے جانے والی تمام مہارتیں آزما لیں- مگر بے سود کے ہجوم میں کون کہاں سے کب، کیا اور کس طرح سے وار کر رہا ہے اس کی سمجھ سے بالاتر تھا-
بے بسی اور موت کے خوف سے مونک تربیت کے تمام اصول بھول گیا اور بے ہنگم درندوں کی طرح لڑنے لگا ہجوم اس کی وحشت، درندگی اورہیجانی والے مارشل ارٹ کے اس نئے اسلوب سے کچھ تھوڑے سے سہم گئے اور بھاگ کھڑے ہوئے-

اتنی دیر میں مونک کو موقع ملا اور اس نے فرار کی رہ لی اور اپنی جان بچائی-

محترم قارئین! ہمارے معاشی ماہرین بھی دنیا بھر کی بہترین درسگاہوں سے قابل عمل جدید معاشی نظام، قوانین اور معاشی پالیسیاں سیکھ کر آتے ہیں اور جب ان کا واسطہ ایک بے ترتیب ہجوم سے پڑھتا ہے اس ہجوم میں ہر ایک بیوپاری اپنا الگ کاروباری اصول اور مال جمع کرنے کے لیے دیسی ٹوٹکے ازما رہا ہے اور عوام کو لوٹنے کے لیے ہزارہا، جال پھندے، کنڈیاں کانٹے، ہتھوڑے بلچے، کلہاڑیاں تلواریں موجود ہیں ہر کوئ قوانین جن سے ملکی خزانے میں اضافہ ہو سکتا ہے اس میں سقم تلاش کرنے کے لیے لوکل ماہرین کی ملی بھگت سے اکسفورڈین ماہرین کو نیچا دکھانے کے لیے بے ہنگم وار کیے جا رہے ہیں یہ اکسفورڈ کے ماہرین بے بسی کی تصویر بنے ہوئے حیرت زدہ ہو کر کچھ ہی عرصہ میں اپنی جان چھڑانے کے لیے ناقابل عمل قوانین کی بوچھاڑ کیے جا رہے ہیں-اس حالت کیفیت میں جب کچھ نہیں بن پڑتا تو اکسفورڈ سے درامد کیے گئے ماہرین اپنے ہاتھ جوڑ لیتے ہیں- اپنے اگلے اور پیچھے بقاجات کلیئر کرواتے ہیں- بس یوں سمجھیے کہ وہ اسپیشل اشنان کے لیے مخصوص حالات میں آ کے اپنے گناہوں کی گٹھڑیوں کو اپنے سر اور کندھوں پہ لاد کے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں، نہاتے ہیں اور خود کو پوتر کرتے ہوئے، ُسچے صاف ستھرے ہو کر پھر ایک لمبی اڈاری بھرتے ہیں اور جاتے ہوئے صرف ہمیں ایسے نظر اتا ہے جیسے کہ یہ فصلی بٹیرے تھے اور فصل کی ختم ہونے پر انہوں نے ڈار کی شکل میں لمبی اڈاری لگائی ہے اور اب کی بار یہ خوشگوار موسموں میں وہ سمندر کے پار جا کے اتریں گے- اور اگلی گرمیوں کا انتظار کریں گے😢😢

✍️ عبدالباسط سبحانی✍️

18/08/2023

*آزاد لوگ، خواہش کے غلام*
اگر ہمارا مسئلہ انگریز تھے تو وہ تو چلے گئے اگر ہمارا مسئلہ ہندوستانی تھے تو ہم ان کو چھوڑ ائے اور اگر ہمارا مسئلہ بنگالی تھے تو انہوں نے بھی ہم سے دامن چھڑا لیا اور اگر ہمارا مسئلہ، مسئلہ کشمیر ہے تو وہ ایک cronic مسئلہ ہے اور اس cronic مسئلے کے ساتھ 75 سال سے جی رہے ہیں-

یہ سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی ہمارے مسائل میں کمی نہ ائی- ہمارے مسائل جوں کہ تو ہی رہے- آخر ہمارا مسئلہ ہے کیا؟
ہمارا مسئلہ اور بیماری ہم خود ہیں- دنیا کے سب سے زیادہ آزاد قوم، قانون، اخلاقیات اور ائین سے ماورا خواہش کے غلام، خواہش کے پجاری -
بقول شاعر
** ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے**

سچ بولنے اور سچ لکھنے اور سچ کا ساتھ دینے سے کیا ہمیں ملکہ برطانیہ نے روک رکھا ہے؟ قوانین کا احترام کرنے دوسروں کے لیے خیر خواہ ہونے اور اسلامی نظام حکومت نافذ کرنے میں کیا گاندھی جی سامنے کھڑے ہیں؟ ٹیکس دینے، حلال کمانے کھانے اور کھلانے، تعلیم کے فروغ، سائنسی ایجادات کرنے کی راہ میں کیا بنگالی حائل ہیں؟ ڈیم بنانے ایگریکلچر کو پروموٹ اور جدید کرنے ذخیرہ اندوزی کو لعنت سمجھنے میں کیا مسئلہ کشمیر اڑے ا رہا ہے؟
یقینا ایسا نہیں ہے تو پھر ہمیں خود کو خود ہی سنوار نہ ہوگا - ہمیں منافقت چھوڑنی ہوگی- ہمیں دشنام طرازی سے اجتناب کرنا ہوگا- ہمیں اپنے ذمہ داریاں خود نبھانی ہوں گی ہمیں اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا- ہمیں اپنی غلطیوں کی خود تصیح کرنی ہوگی- ہمیں ملک سے محبت کرنی ہوگی

**** ہمیں عوام سے محبت کرنی ہوگی**

ہمیں زہریلی دلفریب جمہوریت نما حسینہ کے عشوا و اداؤں سے دور رہنا ہوگا
بقول شاعر
حسین سانپ کے نقش و نگار خوب سہی
نگاہ زہر پہ رکھ خوشنما بدن پہ نہ جا
ہمیں اصلی اور حقیقی جمہوریت لانی ہوگی ہمیں اپنا نظام خود بنانا ہوگا - ہمیں مل بیٹھنا ہوگا- ہمیں تفریق اور تقسیم سے بچنا ہوگا - 🙏
ہم کسی معجزے کی تلاش میں ہیں-ہم نے اللہ کی پسندیدہ قوم ہونے کی غلط فہمی پال رکھی ہے - ہم میں اللہ کی پسندیدہ قوم ہونے کی کوئی خوبی نہیں-
اجتماعی طور پر بھی نہیں، انفرادی طور پر بھی نہیں-
ہم منافقت کے اعلی ترین درجہ پر فائز نظر اتے ہیں اور یہی ہمارا اصلی خود پیدا کردہ مسئلہ ہے ہمیں ہدایت کی ضرورت ہے 🤲😢😢

✍️ #عبدالباسط سبحانی✍️

17/08/2023

**اور جن کو کبھی چین سے سونا نصیب نہ ہوا وہ بے تاج بادشاہ بالاخر سونے کے تابوت میں چین سے ابدی نیند سو رہے ہیں**
جماعت دہم کے انگلش کے نصاب میں *The little daisy* نام کی ایک اختصاری کہانی پڑھی تھی جس میں ایک دو دن کی مختصر زندگی کہ ایک پھول نے اپنے مختصر زندگی میں ایک Epic ہیرو سے بڑھ کر کارنامہ سر انجام دیا تھا-
یہ معصوم سا پھول ایک بلبل جو کہ انسان کی لامحدود حاکمیت کی خواہشِ حرص میں قید تھا، کو خوش کرنے کے لیے انسان پر بازی لے گیا-
پھول نے اپنے حصے کا حق کما حقہُ پورا کیا - آخر میں حضرت انسان نے اس ہیرو کو اٹھایا اور باہر دور ویرانے میں پھینک دیا - یہ گم نام ہیرو اس گمنامی میں امر ہو گیا جبکہ بلبل ازاد فضا کی جدائی نہ سیہ سکا - آزاد منش پنچھی کو زرک برق سلاخوں کی چمک خیرا نہ کر سکی - سونے کے پنجرے میں سونے کا نوالہ کھا کر بھی آزادی پسند پنچھی کی روح زندہ نہ رہ سکی،
***آزادی کی فضا میں دو چار دانے قید و بند کے ہزار نوالوں سے بہتر ہیں ***
ہمارے نصاب سے آب اس طرح کی کہانیاں ختم کر کے ہم نے مادیت پرستی کو شہ دی ہے - ہم نے اپنے ماڈرن اور مذہبی دونوں طرح کے تعلیمی اداروں میں اصلاحات ہی نہیں کیں. جن کی بد اثرات ہمارے ہر شعبہ زندگی میں نظر ارہے ہیں- خود پرستی خود نمائی مفاد پرستی انفرادی مفادات جیسی قبیح خصلتوں کی آبیاری کی وجہ سے معاشرے میں فساد برپا ہو چکا - رشوت اقر با پروری، دولت کی بالادستی کے زائلی اثرات ہیں- قانون کی بالادستی اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک قانون سے بالا دست دراز کو کاٹ کر سرعام چوراہوں پر عبرت کا نشان نہ بنا دیا جائے -
جب قانون کے محافظ ہی دولت کی بالادستی کو تسلیم کر چکے ہوں بلکہ بک چکے ہوں تو ان منصفوں کو کون صاحب مسند اور حق پرست سمجھے گا-
*** جب قانون مصلحت پسند ہو جائے تو عوام انتہا پسند ہو جاتی ہے**
اور ہر گلی محلے میں اپنی اپنی عدالت اپنی ذاتی دفعات اور مفادات کے تحت چلتی ہیں جیسا کہ ابھی ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے جس کی مثال سیالکوٹ کا دردناک واقعہ اور ابھی جڑانوالہ میں انجیل کی بے حرمتی جیسے بیمانہ اقدام پہ منتج ہوا-
مذہب باقاعدہ ایک تجارت کی حیثیت حاصل کر چکا ہے ہمارے موجودہ نظام میں تشدد اور عدم برداشت کی وجہ، مذہب کی اپنی تشریحات ہیں - جن میں علماء، پالیسی ساز اور سیاستدان برابر کے شریک ہیں-
ایمان کی صفات بغیر معانی کے جب رٹائی جائیں گی تو الہامی کتب اور انبیاء کا احترام کا مفہوم بھی سمجھ نہ آ سکے گا-
دین اسلام امن کا دین ہے- جنگ و جدل کے دوران بھی اس کے ماننے والے قوانین پر سختی سے عمل کرتے ہیں دین اسلام نے دوسروں کے جھوٹے خداؤں کو گالی دینے سے ا روکا ہے- دین اسلام نے کسی بھی جارحیت اور ظلم کے خلاف ری ایکٹ کرنے کے لیے بھی اصول اور دستور بنائے-

دین اسلام کا ماننے والا کسی صورت میں بھی دوسرے مذاہب کی توہین اور بے توقیری نہیں کر سکتا- جس معاشرے میں انسان کی زندگی بے وقت اور انسانیت مر جائے اس معاشرے کا دین دار ہونا اور بے دین ہونا چہ معنی؟

مذہبی ہونا سے مراد سخت گیر، متشدد اور کرخت ہونا نہیں ہوتا- مذہبی ہونا صرف وعید سنانا نہیں ہوتا- مذہبی ہونا روکھا، بنجر اور دوزخ کا دروغہ ہونا نہیں ہوتا- مذہبی ہونا غیر معمولی، مافوق الفطرت ہونا نہیں ہوتا- مذہبی ہونا نرم خو ہوتا ہے- مذہبی ہونا تابع فطرت ہوتا ہے- مذہبی ہونا معتدل اور خدا ترس ہوتا ہے- مذہبی ہونا صاحب بصیرت اور اعتدال پسند ہوتا ہے-
مذہبی وہ جس کے وجود سے تحفظ کا احساس ہو- مذہبی وہ جس سے اخوت اور ہمدردی کی راہ ہموار ہو- مذہبی وہ جس سے معاشرے میں برداشت اور انسانیت کی بقا کی ضمانت ملے - مذہبی وہ جو خدا کو محبت سے تلاشنا سکھائے- مذہبی وہ جو خدا کو مخلوق کی محبت میں سے پہچانوائے- مذہبی وہ جس سے حجر و شجر اپنے دل کی بات کر سکیں - مذہبی وہ جس سے چرند و پرند کے حقوق کا تحفظ سیکھا سکھائے- مذہبی وہ جو سراپا امن ہو-

مذہبی وہ جس کے عمل کو دیکھ کر صدیوں کی روایات کے محافظ اپنے عقائد کی تصیح کر لیں- مذہبی وہ جس کے حسن اخلاق سے بچے اسے اپنے والدین پہ فوقیت دیں-

* ایسا مذہبی ہونے کے لیے ہمیں بس ایک ہی نسخہ کیمیا میسر ہے کہ ہم سنت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سمجھیں اور سیرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم پہ عمل پیرا ہوں*🇵🇰🇵🇰🇵🇰
✍️ #عبدالباسط سبحانی

16/08/2023

"حکومتی اسکیمیں اور پری پول ریگنگ"
تحریر عبدالباسط سبحانی
صحت, تعلیم, حفاظت اور آزادی رائے کسی مہذب معاشرے اور ریاست کی خوشحالی کے انڈیکیٹرز ہیں جن کے رجحانات کو درستگی سے ماپنے اور درجہ بندی کرنے سے ہم آسانی سے معاشرے کی قدروں، اخلاقیات اور مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کر سکتے ہیں-
جتنے یہ انڈیکیٹرز مثبت اتنا ہی معاشرہ مثبت اور خوشحالی کی راہ پر گامزن، جتنے یہ انڈیکیٹرز پست یا منفی اتنا ہی وہ معاشرہ تباہی اور بربادی کی طرف لڑک رہا ہوتا ہے
ہمارے ملک میں یہ انڈیکیٹرز منفی اور ترتیب نزولی کی طرف مائل ہیں- ہر نئی حکومت* نئی نویلی دلہن *کی طرح میں ائی تو بو گئی کا راگ الاپتی ہے اور اپنی بساط سے بڑھ کر بہتر اشاریے ظاہر کرنے کا دعوی کرتے کرتے اقتدار کے ایوانوں میں غل مچاتی ہے اور ملک کی موجودہ حالت کا ذمہ دار سابقہ حکومت کو سمجھتے ہوئے paid میڈیا کے ذریعے ساری کالک سابقہ حکومت کے منہ پر مل رہی ہوتی ہے

بیچاری عوام کے لیے ہر نیا حکمران آتے ہوئے مسیحا، نجات دہندہ بن کر اتا ہے مگر کچھ ہی دنوں کے بعد لوگ گورکن کے ابو کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں
اب حکومت بہ حکومت کالک ملنے کی روایات مستحکم ہو چکی ہیں- ہم مشرقی ہیں اور اپنی روایات کے امین ہونے کا ہمارا دعوی سو فیصد سچا ہے
ہر حکومت صحت، تعلیم، حفاظت اور حق دہی کی چھتری تلے اپنی سیاسی تشہیر کرتی ہے حکومتی خزانے بیرونی قرض اور اندرونی ٹیکسز سے جمع شدہ دولت کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی تشہیر کرتی ہے- اگلی بار کے لیے اپنی جگہ مستحکم کرنے کے لیے پری پول ریگنگ کے طور پر بے شمار اسکیموں کا اجرا کرتی ہے- جس میں ٹوٹی، پائپ، پانی نوکری کا جھانسا اور اب جدید نظام بھی متعارف کرائے جا چکے ہیں-
ان میں لیپ ٹاپ اسکیمیں، انکم سپورٹ پروگرام اور صحت کارڈ وغیرہ وغیرہ نئی اختراعات شامل کی گئی ہے-
ان اسکیموں میں جہاں بظاہر بہت سے مفاد بھی ہیں وہاں یہ سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو رہی ہیں- وضاحت کے لیے میں دو مثالیں پیش خدمت کرتا ہوں صحت کارڈ کے استعمال کے لیے ڈاکٹرز کا رویہ اچانک انقلابی حد تک تبدیل ہو جاتا ہے- جس سے بہت سے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں- وہ ڈاکٹر جن کی اپوائنٹمنٹ کے حصول کے لیے کئی سفارشیں کروانی پڑتی تھیں، کئی مہینے ترلے منتیں کرنے پڑتے تھے تب جا کے ہماری درخواست ڈاکٹر صاحب کی حضور قبولیت کا شرف حاصل کرتی تھی اور اب یہ عالم ہے کہ بس فون کال پر اتنا بتا دیں کہ میرے پاس صحت کارڈ موجود ہے تو دیکھیے کس طرح متحرک اور فعال نظام ڈاکٹر پلس عملہ گھر سے اپریشن تھیٹر تک اپ کی نگرانی رہنمائی بلکہ ٹریکنگ کرتا ہے- ان کا خیال ہے کہ دام میں ائے ہوئے صید کو کوئی اور صیاد نہ لے اڑے-
حالات اس قدر اچھے معلوم ہوتے ہیں کہ وہ تمام نجی ہسپتال جن میں ڈیڈ باڈیز بھی بل کی ادائیگی کے بغیر قبرستان روانہ نہیں ہو سکتی تھی وہاں کے ڈاکٹرز اور عملہ صحت کی کارڈ کی چمک کو ایک نگاہ سے دیکھنے کے لیے ہمارے راہ تک رہے ہوتے ہیں- صحت کارڈ کارڈیک مسائل سے دوچار مریضوں کے علاج میں زیادہ فعال اور معاون ثابت ہو رہے ہیں - انجیوگرافی کے لیے لیٹے ہوئے مریض کو پل صراط پر ہی گھیر لیا جاتا ہے- زندہ انسان کے ورثا کے سامنے اس زندہ انسان سے عزرائیل کے بعد منکر و نکیر کے سوالات کا مکالمہ سنا دیا جاتا ہے-
بندنسوں کے بیج ایک سے زیادہ پائپ یعنی سٹنٹس کے لیے عملے کی سرکسی چھلانگیں اور کلا بازیاں یعنی سٹنٹس دیکھنے کے لائق ہیں- صحت کارڈ سے مطلوبہ رقم کی کٹوتی کے بعد جلد از جلد مریض کو گھر پہنچانے کے لیے گھر بر رہ کر جلد روبہ صحت ہونے کے رومانوی اور افسانوی قصہ کہانیوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے- اس طرح کی سکیموں کی مانیٹرنگ اشد ضروری ہے اور مانیٹرک کے نظام کو شفاف اور بہتر ہونے کی ضرورت ہے-
جوان ہمارے معاشرے کا اثاثہ ہیں اور ہمارے ملک میں جوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور اب ان کی ووٹروں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہو رہی ہے تو سب سے زیادہ ٹارگٹ اور شکار بھی ہمارے نوجوان ہی ہوتے ہیں اسی طرح کی ایک اور سکیم جس کو لیپ ٹاپ سکیم کہتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے طلباء کو حصول علم کے لیے لیپ ٹاپ سکیموں کے فوائد سے انکار نہیں لیکن ان لیپ ٹاپ سکیموں کے ذریعے جو ایک سیاسی تشہیر کی جاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان لیپ ٹاپ سکیموں کی میں دیے جانے والوں والے لیپ ٹاپ کی کوالٹی ا ان کی قیمت کے تعین کے حوالے سے بہت مبالغہ ارائی بھی کی گئی ہے
حکومتیں اس طرح کے اسکیموں سے اگلی بار الیکشن لڑنے کے لیے اپنے ووٹ بینک کا اضافہ چاہتے ہیں اور لیپ ٹاپ یا کارڈ دے کے ووٹ کو خریدنے کا بندوبست کیا جا رہا ہوتا ہے جو کہ پری پول ریگنگ سے کسی صورت بھی کم نہیں-

لوگوں کو سہولیات دی جانی چاہیے جو ان کا بنیادی حق ہے نہ کہ ووٹ کے صلہ میں اور ان کو منتخب کرنے کے صلہ میں حکومتیں عوام کے ٹیکس کے پیسے کو اپنی ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کریں اس طرح کی سکیموں میں سربراہ اور ا افراد کے اہل ہونے ساتھ ساتھ دیانت دار اور غیر جانبدار ہونا بھی بہت ضروری ہے-🇵🇰
عبدالباسط سبحانی #✍️

15/08/2023

13 اگست 1947 رات کے 12 بج کے 27 منٹ لاہور کے ریڈیو اسٹیشن سے مصطفی علی حمدانی ایک ازاد خود مختار مملکت خداداد کے قیام کا اعلان کر رہے تھے
اعلان ہونے کے فورا بعد ہی لوگ خوشی خوشی جھوم اٹھے رمضان کا مہینہ تھا اور اس بڑی نعمت پہ لوگ اللہ کے حضور سر بسجود ہو کر شکرانے کے نوافل ادا رہے تھے-

قائد اعظم کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے- اس کے بعد دنیا نے دیکھا ایک بہت بڑی ہجرت شروع ہوئی جس میں برصغیر کے طول و ارض پہ ناقابل بیان، اذیت ناک، دردناک فسادات کا سلسلہ شروع ہو گیا- اپنے نئے ملک میں انے کے لیے لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں- نسلوں کو کھویا, کئ خاندانوں کے سر قلم ہوئے - کئی خاندان بے ابر ہوئے، کئ خاندان تہ تیغ کر دیے گئے کئ ماؤں، بہنوں بیٹیوں کی ابرو تار تار ہوئی- کئی خاندان بچھڑ گئے-
اس کے باوجود لوگوں نے ہمت نہ ہاری اور ایک فلاحی اسلامی ریاست کے قیام کے لیے ایک جگہ جمع ہونا شروع ہو گئے- یہ لٹے کٹے پھٹے لاچار اور بے بس لوگ اندر سے بہت زیادہ مضبوط، حوصلہ مند جرات مند اصل میں محب وطن تھے- پاکستان زندہ باد کہہ رہے تھے یوں پاکستان آباد ہوا قربانیوں سے حاصل کیا گیا پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان-
آج 75 سال بعد پھر تیرا اگست رات 11 بج کے 59 منٹ اچانک میری انکھ کھل گئی - ساتھ والی گلی سے مجھے پاں پاں کی اواز آنے لگی- ایک طوفان بدتمیزی پر پا ہو گیا ہر طرف سے پٹاخے بارود، شور و فغاں، الحفیظ الاماں-
"
میں نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پاکستانی قوم سوئی ہوئی قوم ہے، مگر یہ قوم ایسی بیدار ہوئی ہوئی نظر آئی کہ نہ خود سوتی ہے نہ دوسروں کو چین سے سونے دیتی ہے-
راولپنڈی مری روڈ کہ ہر فلائی اور برج پر تمام قوانین سے آزاد.،موٹر سائیکل سوار ایک پہیے پہ رولنگ فرکشن کو کم کرتے ہوئے خود کو سلائیڈنگ فرکشن میں بدل رہے تھے اور وہ پولیس جس کو گاڑیوں اور بائکس پر جھنڈے لگوانے کا ٹاسک دیا گیا تھا وہ جھنڈے کے ڈنڈوں سے پنڈی بوائز کی پشت مالی کر رہی تھی- چائنہ کے پٹاخے لوگ ایک دوسرے کی طرف اچھال رہے تھے لوگوں کے گریبانوں میں ڈال رہے تھے اور چلتے ہوئے مسافروں کے قدموں میں اچانک پٹخ کی آواز, پاس سے گزرتے ہوئے پاں پاں پاں پاں لوگوں کا ترہ نکالنے کو شغل اور فن سمجھتے تھے-
شکرانے کے نوافل تو کجا، غل گپاڑا اور بینہ سائلنسر کے بائیکوں کا شور، دھواں باقی کسر سرکاری سرپرستی میں آتش بازی نے پوری کر دی - کالے شیشوں والی گاڑیاں ہوا بازی کے جوہر دکھاتے ہوئے کبھی اس طرف کو سکیٹنگ کبھی اُس طرف اسکیٹنگ-
آج صحیح معنوں میں آزادی کا مفہوم سمجھ آ رہا تھا یعنی آزاد، عقل و شعور سے آزاد، تہذیب سے آزاد، قوانین سے آزاد اور وطن کی محبت سے آزاد
ہر طرف پوں پوں پاں پاں ہوں ہاں ہاں
جھنڈوں کو گاڑیوں کے پیچھے اس طرح لٹکایا ہوا تھا کہ چاند زمین کو بوسہ دیے جا رہا تھا- ڈسکو ڈانس اور بلو کے گھر جانے کے لیے ٹکٹوں کی قطاروں کا پیغام مگر کوئی بھی بندہ قطار میں کھڑا نہ تھا
منہ پر سبز ہلالی پرجم اویزاں کیا ہوا ہر کوئی شخص کام حلالی کے بالکل متضاد کیے جا رہا تھا
ہاں ہاں پاں پوں پاں پاں پاں شوں شڑاں، دما دم مست قلندر اور کہیں پسوڑی کے گانے چل رہے تھے
اللہ پسوڑی کے گانوں اور ان کے جیسوں کو ماننے والوں سے محفوظ فرمائے
اللہ پاکستانی قوم کو محفوظ فرمائے
اللہ چوری سے ازادی کا جشن بنانے والون سے محفوظ فرمائے
اللہ ہمیں صحیح معنوں میں وطن کی محبت وطن کی قدر کی سمجھ عطا کرے
امین

Address

Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abdul basit subhani official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share