08/03/2025
"خمارِ جانم"
"آخری قسط 66"
از۔"ایس مروا مرزا"
Last Episode
°°°°°°
Don't copypaste without my permission 🚫🚫
°°°°°°
💖💖💖
وہ چینج کرے لوز سی شرٹ اور پاجامے میں بال کھولے جب واپس آئی تو جلال نے نظر تو اٹھا کر ڈال لی پر ہٹانی دو بھر ہوئی اور ابرش مسکراہٹ چھپائے جا کر بیڈ پر پائنتی کی جانب بیٹھی، جان بوجھ کر چہرہ بھی موڑا، کمرے کا جائزہ لینے لگی، جلال نے کچھ دیر تو اپنی برداشت کا یہ مظاہرہ سہا مگر پھر ابرش کی مسکراہٹ تب بڑھی جب پانچ منٹ بعد اسے اپنا آپ جلال کی بازووں میں محصور محسوس ہوا ، وہ اسکے ساتھ ہی آکر بیٹھا تھا، ابرش کے بالوں میں چہرہ چھپائے ، انداز میں اک تڑپ سی تھی، اس شخص کے دل کی بھاری دھڑکنیں اور جمی سانسیں ابرش کو اپنے گرد محصور محسوس ہو رہی تھیں۔
" آپکو مجھے یقین دلانا نہیں پڑے گا کہ آپ نے نا جائز ہر تعلق چھوڑ دیا۔ میں یقین ہی مضبوط کر لوں گی اپنا۔ اور وہ یقین ہی آپکو میرا ایماندار بنادے گا۔ میں نے زیادہ رشتے نہیں پائے اپنی زندگی میں۔ نہیں جانتی محبت بھرے احساسات اور رویے کس طرح کی راحت دیتے ہیں لیکن آپ کو دیکھتے ہی میں نے خود کو کہہ دیا تھا اب یہی انسان ہے جسکے ساتھ مجھے باقی
زندگی رہنا ہے، آپ نے اپنی زندگی جتنی عجیب پائی، یہ سب برائیاں آپ میں آنا کوئی بڑی بات نہیں۔ جب ہمیں سمجھانے اور سنبھالنے والے ہی اپنی تکلیفیں جھیل رہے ہوں تو ہم اکثر بہتر رہنمائی و توجہ نہ ملنے پر بھٹک جاتے ہیں۔ آپ کے ساتھ بس یہ ہوا ، ورنہ ہر گناہ کی معافی اللہ ضرور دیتا ہے بس نیست یقین و عاجزی سے بھری ہو۔"
وہ نرم لہجے میں بولتی گئی اور جلال اسکی ہر بات جیسے عجیب آسودہ کرتی محسوس کرنے لگا، یہ سچ تھا وہ واقعی سمجھدار تھی۔
میری طرف پلٹو"
جلال نے اسے ملائم انداز میں اپنی طرف کما کر بٹھایا تو ابرش کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں اک حسرت کا عنصر جگا تھا۔
"میرے جب پیر نٹس کی ڈیتھ ہوئی، اور چا مجھے اپنے گھر لے گئے تو میں سارا دن گھر میں پڑی رہتی۔ کام کاج اور بس تھک ہار جانا۔ زندگی اتنی گھٹن
تھی کہ کیا بتاوں آپکو۔ انکی بیوی اور بچے بہت تیز تھے، میں ویسی نہیں تھی۔ لیکن انکے ساتھ دو سال رہ کر بہت کچھ سیکھا۔ پتا ہے میر ادل بھی بہت
زیادہ پریشان ہونے پر ناجائز چیزوں اور خیالوں کی طرف جاتا تھا۔ میں ٹی وی میں دیکھتی تھی ناں جب تو دل کرتا تھا میرے لیے بھی کوئی شہزادہ آئے اور مجھے لے جائے۔ بہت سا پیار کرے جیسے ڈراموں میں کرتا تھا۔ لیکن کچھ نہیں ہوتا تھا۔ میں الٹا گناہ گار ہو جاتی تھی ایسا سب سوچ کر۔ تو یہ سب فطری ہوتا ہے۔ کچھ خود کو روک لیتے ہیں بھٹکنے سے کچھ نہیں روک
سکتے۔ بے بسی بہت بری چیز ہے ، بے سکونی ظالم ۔۔ ہم سکون کی اک بوند کو تڑپ رہے ہوتے ہیں تب عقل شعور نہیں تمیز کرتا کہ یہ سکون جائز ہے یا نا جائز ۔۔۔۔۔ آپ سمجھ رہے ہیں میری باتیں ؟ "
خود کو دیکھتے جلال کو چپ محسوس کرے وہ بدحواس ہوئی کے نجانے وہ شخص اسے سمجھے گا یا نہیں۔
" میں تمہاری باتیں ہی سمجھ رہا ہوں اس وقت بہت خاص باتیں کرتی ہو۔ گہرے زخموں کا درد چھلک رہا ہے تمہارے حرف حرف سے۔"
جلال کا جواب سنے وہ کچھ دلا سا سا پا گئی۔
ہاں ناں۔ اکیلی اور تنہارہ کرتی ہوئی ہوں"
خفیف سا سلگنے کے ساتھ ہی زرا مسکرائی تو جلال بھی ساتھ مسکرایا۔
" آپ کے کام کا بتا یا علیحہ آپی نے کہ آپ انگلینڈ کے ڈان ہیں۔ کوریا کے بھی۔ پر مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں۔ پتا ہے میر افیورٹ کو رئن ڈرامہ ہے ناں جو اس میں بھی ہیر و گینگسٹر ہے اور بڑا بھی۔ تو مجھے تو یہ سب بہت کول لگ رہا ہے۔ آپ کہیں گے کیسی باتونی لڑکی ہے چلیں میں چپ ہو رہی
ہوں۔ اب بتائیں اب کچھ "
اپنی باتوں سے وہ جلال کو خوشی دے رہی تھی پر خود کو لگا زیادہ بولی ہے تبھی چپ ہوئی۔
" بولتی رہو "
جلال نے اسکی ٹھوڑی پر ہاتھ کی پکڑ جماتے چہرہ اوپر کرتے حکم دیا تو ابرش کی پلکیں سی لرزیں، گال بلش ہوتے لال پڑے۔
" آپ صرف سنیں گے ؟"
ابرش کو اب جا کر اپنے اور اسکے بیچ کی نزدیکیوں کا احساس جاگا پر اب بہت دیر ہو چکی تھی ، وہ جلال بخت کے حصار میں جذب تھی۔
" دیکھنا، محسوس کرنا اور سننا، میرے نزدیک بولنے سے افضل ہے۔ کسی
باکردار عورت کو چھوتے دور ، دیکھتے بھی ڈرتا ہوں پر تمہارے پاس گھر جیسا احساس ہے۔ مدت بعد یہ احساس ملا، آخری بار جب بہت سالوں پہلے بابا نے امی کو اپنی ایمانداری کا نیا نیا یقین دلایا تب ملا یہ احساس جب امی نے خوش ہو کر مجھے گلے لگایا اور بولیں کے وہ بہت خوش ہیں پر وہ وقتی تھا۔ اسکے بعد میں اس لائق ہی نہ بن سکا کبھی کہ وہ گلے لگا تیں۔ "
حسرت کا پورا جہاں جلال کے سنجیدہ جملوں میں پنہاں تھا۔
" میں لگالوں گلے ؟"
ابرش کے زرا اسکی جانب دیکھ کر مان لٹانے کے جلال کو کچھ کہنے لائق نہ چھوڑا، بے بس سا کر دیا۔
" تم آل ریڈی میری بازووں میں قید ہو ، اسے گلے لگانا ہی کہتے ہیں آئی تھنک "
وہ سہولت سے بات بنا گیا مگر ابرش نے نفی کرتے ہی دونوں ہاتھ کھولتے اسکی گردن میں باز وہار سے پروئے جب رہے سہے فاصلے کو سمیٹ کر جلال کو گلے لگانے کی ننھی سی کوشش کی تو ان آنکھوں میں اک جلن جگی، پہلی بار کوئی عورت اتنے قریب آکر جسم کے بجائے دل کو بھائی تھی، وہ بے اختیار ہی اسکے نازک وجود کو مزید بازووں میں جکڑ گیا، وہ یہاں اس جگہ جلال کو اپنے ہونے کا احساس دلاتی خوش تھی۔
زیادہ گلے لگنا مجھے کبھی پسند نہیں رہا۔ نادیہ امی گلے لگاتی تھیں بس، یا جب امی زندہ تھیں تو کوئی کمی لگے تو در گزر کریں پر مجھے لگتا ہے گلے لگنا ایسا ہوتا ہے"
وہ خود امید سے زیادہ سکون ملنے پر زرابو کھلائی تھی ، چند لمحوں میں کسی کا دل جیتنا کے کہتے ہیں یہ آج جلال کو معلوم ہوا تھا، وہ اسے دور کرنے پر راضی ہی نہ تھا۔
بلکل ایسا ہی ہوتا ہے ابرش، مجھے پسند آیا"
وہ زرا اسے خود سے دور کرے دیکھتے بولا تو ابرش کے چہرے پر اپنی کوشش کے کامیاب ہونے کی خوشی دیکھتے اور دل کو اچھا لگا
اب تو آپ سونے کا نہیں کہیں گے ناں؟"
ابرش نے آنکھوں کی شرارت سمیت جلال کو دیکھتے شرمگیں لہجے میں پوچھا تو جناب بنا سوچے سر نفی میں ہلا گئے۔
" تم چا کی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہ کر ان جیسی ہو گئی ہو۔"
جلال کا لہجہ مسکرا رہا تھا۔
یہ آپ نے میری بے تکلفی سے اندازہ لگا یاناں ؟"
ابرش نے فورا سے سوال کیا۔
نہیں۔ تمہارے منہ پھٹ ہونے سے "
وہ مسکرایا تو ابرش بھی بلش کرتی ہیں، آنکھیں جھکا لیں۔
" ظاہر ہے ان لوگوں کے بیچ اپنا بچاو کرنے کے لیے مجھے بھی تو بہادر ہونا تھا
ہر جو اب اس لڑکی کے پاس تھا، جلال نے مسکرا کر اسے آزاد کیے اٹھنا چاہا تو ابرش اسکا ہاتھ پکڑے روک کر بٹھا گئی، یہ بلکل غیر ارادہ تھا۔
" کہاں جارہے ہیں ؟"
اپنی خفت مٹانے کو وہ بات بنا گئی۔
چینج کرنے۔۔۔ کیوں نہ جاوں؟"
محترم کی نظریں کچھ بدلیں، ابرش کو گھبراہٹ دینے لگیں۔
چھوڑیں۔ کیا کریں گے چینج کر کے۔ باتیں کر لیں۔۔۔"
نظریں جھکائے ہی مشورہ دیا۔
" صرف باتیں نہیں کر سکتا ۔ "
جلال کی معنی خیز نظریں ابرش کو چھیڑنے لگیں۔
"تو کس نے کہا صرف باتیں کریں ؟"
وہ بد حواس سا بڑ بڑا تو بیٹھی پر جلال کی بدلتی نگاہوں کو بھانپتے نظریں چرا کر اس سے پہلو رخ بدلتی ، جلال نے اسے کمر میں باز و لیٹے اپنے سینے سے کھینچ کر لگایا۔
اور اسکے بعد جس نرم شدت سے باہمی رشتے کی اجنبیت جلال نے دور کی ، اب کی بار وہ من موہنی پہل ابرش نے کی، اور عورت کی پہل مرد کو بہکانے میں کسی جام سے زیادہ پاور فل اثر رکھتی ہے۔
لگ رہا تھا اجنبیت کے الف سے ت تک حرف مٹنے والے تھے پہلی ہی شب، زہے نصیب !
" کہاں گئے تھے تم لوگ ؟
ذیشان اور زالے گھر تو پہنچ گئے پر گاڑی کے ہارن پر وہ چاروں باشندے فکر و پریشانی سے پورچ میں کھڑے ملے ، آلین نے ہی سوال کیا جبکہ زالے کا دل چاہا کہیں جا کر چھپ جائے ، ویسے تو اسے ذیشان پر بھروسہ تھا کہ وہ یہ بات چھپالے گا پر جس طرح وہ چار مشکوک و فکر مند سامنے کھڑے تھے، یہ بونگا شوخیاں مارتے ہی سب اگل دیتا۔
" ہم اوٹنگ پر نکلے تھے ، زالے کا دل گھومنے کا چاہ رہا تھاماموں۔ آپ لوگ کیوں اٹھ گئے۔ سب ٹھیک ہے "
ذیشان کے سنجیدہ جو اب نے ان چاروں کے ساتھ زالے کا کا نپتا دل بھی نارمل کیا۔
ہاں سب ٹھیک ہے۔ بس گاڑی کا ہارن سے ہم لوگ آگئے کہ سب ٹھیک تو ہے۔ میر ابچہ ٹھیک ہے ؟"
ارمان نے ہی زالے کے چہرے کی اڑی ہوائیاں بھانے پچکارا تو وہ لالہ کے آ کر سینے میں سمٹی۔
ٹھیک ہوں لالا
وہ تھوڑی کمزور پڑی تو بقیہ تین آفراد نے جس مشکوک انداز میں ذیشان کو دیکھا، بہت کوشش کی مسکراہٹ روکے پر بے قابو ہوئی۔
آلین نے چونک کر ارمان کو دیکھا، وہ لوگ کچھ کچھ سمجھ گئے تھے ، جبکہ انسیہ نے جس طرح ذیشان کو آنکھ ماری وہ آفت ادھر ادھر دیکھ کر ہنسی قابو کرنے لگا، جبکہ علیحہ بھی خفیف سا مسکرائی اور ارمان اسکا دل چاہا اس ذیشو کو یہیں گاڑ دے۔
" یہ سب اتنے ٹیلنٹڈ ہوں گے زالے بچاری کو اندازہ نہیں۔ یا اللہ آپ گواہ ہیں کہ میں نے کچھ نہیں بتایا ان چاروں کو۔ یہ ارمان تو مجھے زندہ بنا فرائے کیسے نگل جائے گا، کیسے گھور رہا ہے "
ذیشان کو سبکی نظریں محسوس کیے جان کے لالے پڑ چکے تھے جبکہ زالے خود ہی لالہ سے دور ہوئی تو آلین نے بھی پیار سے بازو کھولے ، وہ ماموں کے سینے سے لگ گئی تو آلین انیہ اور علیحہ اسے اندر لے کر بڑھے جبکہ میدان میں اب صرف دانتوں کی نمائش کر تا ذیشان اور گھورتا ہوا ارمان بچے تھے۔
" کیا وہ امید سے ہے ؟"
ارمان نے پاس رکھتے ذیشان کو گردن سے دبوچا تو ذیشان نے شاہ رخ خان کی طرح کنفو زہاں ناں والا تاثر دیا کہ ارمان نے زور کی چیرہ گردن پر ماری تو جناب کا کنفوز تاثر ہاں میں بدلا۔
" جانو ویر اچھا ہے ناں جلدی جلدی بچوں کے کام سے فری ہو جائیں گے۔ پھر میں شرافت سے تمہاری بزنس میں ہیلپ کروں گا اور زالے ڈاکٹر بنے گی۔ بے بی کو سنبھالنے کے لیے بی جی اور ہالہ ہیں۔"
ذیشان کی پلاننگ سننے ارمان خفیف سا مسکرایا اور پکڑ کر اس گدھے کو اپنے سینے بھینچ لیا کہ خود ذیشان جو پٹنے کے ارادے میں تھا، ایسے رد عمل پر تھرا سا اٹھا
بہت خیال رکھنا اسکا اور جب تک وہ کمفرٹیبل نہیں ہوتی یہی شو کریں گے کہ ہم اس نیوز کے بارے نہیں جانتے۔ میں سبکو منع کر دوں گا کہ اپنی خوشی زالے کے سامنے کنٹرول رکھیں۔ اگر تم نے زالے کو زرا بھی تکلیف ہونے دی تو میں تمہیں پھینٹی لگاوں گا۔ "
ارمان کے خوش ہونے پر ذیشان کی خوشی کو دگنے رنگ لگے۔
وعدہ کرتا ہوں اسے سنبھال لوں گا، تو واقعی خوش ہے جانو ویر ؟"
ذیشان کا دل خفیف سا ابھی بھی پریشان تھا اور ارمان کیا بتاتا کہ یہ خوشی ویسی تھی جیسے زالے کے ذینیہ کی کوکھ میں ہونے کی خبر پر محسوس ہوئی تھی۔
بہت خوش۔ آجا اب اندر۔ اسے کمرے میں لے جا۔ میں باقیوں کو سمجھا دوں گا"۔۔
وہ دونوں ساتھ ہی اندر آئے تو کسی نے بھی زالے کو محسوس نہ ہونے دیا وہ
نیوز جان گئے ، وہ روم میں خود ہی نیند کا بہانہ کیے چلی گئی تو سب ہی ذیشان کے گر دہالہ بنا گئے، جبکہ آلین کی نظر بس روم کی طرف جاتی زالے پر تھی، وہ کتنا خوش ہے یہ اسکی آنکھوں کی سرخی بتارہی تھی، انیہ اور علیحہ بھی نیوز کی تصدیق پر پر جوش تھیں جبکہ ذیشان کی توجہ جب بیٹھے آئین پر گئی تو وہ انکے قدموں میں جب بیٹھا تو آلین نے محبت بھری سرخ آنکھوں والی نظر ذیشان کے خوبصورت چہرے پر ڈالی۔
" آپکی لاڈلی کا پورا خیال رکھوں گا یار سینٹی نہ ہوں۔"
وہ آلین کی فکریں بخوبی جانتا تھا، آلین نے مسکر اکر ذیشان کی گال تھپکی۔
" نہیں بس آپی کی یاد آگئی اس نیوز پر۔ وقت بہت جلدی گزر جاتا ہے۔ مجھے تم پر پورا یقین ہے تم ہر طرح زالے لیے سوٹ ایبل ہو۔ بس اسے سٹرونگ رہنے کا کہنا، وہ کافی شائے ہے تو مے بی اس پر بھی پریشان ہوتی رہے۔ سنبھال لینا۔ اب جاوا سکے پاس
وہ ماموں کی تھیکی پر مسکرایا اور انیہ نے بھی صدقہ اتارتے مبارک دی جبکہ علیحہ نے بھی پیار بھری نگاہ ڈالی، ذیشان کے جاتے ہی جہاں انسیہ خوشی سے ارمان کی بازو کے حصار میں سمٹی وہیں علیحہ نے بھی آلین کے پاس بیٹھے اسکا ہاتھ تھاما جو آلین کو تسلی دینے کا انداز تھا، وہ سب خوش تھے اور دگنی خوش زالے روم میں پہنچ کر تھی کیونکہ اسے لگا ذیشان نے مہارت سے معاملہ سنبھال لیا ہے تبھی جب وہ روم میں آیا تو وہ بھاگ کر آتی اسکی کھلی بازووں میں آبی۔
تھینکیو ! ابھی سب سے یہ نیوز چھپانے کے لیے ذیشان "
مشکور کے ساتھ وہ جذباتی بھی تھی ، ذیشان کو ہنسی آئی جسے محترم نے بڑی مشکل سے حلق و ہو نٹوں کے پار دبایا۔
تمہارے لیے کچھ بھی میری جان "
ذیشان نے اسکا ماتھا چومتے ڈھیروں سکون زالے میں اتارا، وہ ہنوز بلش کر رہی تھی، چہرہ سرخیوں میں نہایا تھا۔
اب بتائیں۔ کس انرجی کی بات کی تھی ؟"
وہ جلدی سے اسکے سینے کے قریب سر کی ہی جب ذیشان نے اسکی سانسوں پر گرفت جماتے اسے اپنے سحر میں جکڑا۔
" ذیشان !"
وہ اسے روکنے کو منمنائی۔
" شش ! پیار آرہا ہے مجھے اور تمہیں سمیٹنا ہو گا مجھے میرے ہر جذبے سمیت۔ خوبصورت اور مکمل زندگی مبارک ہو جاناں۔"
اسکے چہرے کو ہاتھوں میں بھرے ذیشان نے اسکی ہر گھبراہٹ کو ایسی نو عید سے راحت میں بدلا کہ وہ دو جسم اک قالب میں ڈھلتے ڈھلتے امر ہو گے۔۔
جلال اور ابرش کے ایک ہونے نے یہ ثابت کیا کہ جب اللہ کوئی فیصلہ کرتا ہے تو بہترین مصلحت شامل رہتی ہے۔ وہ دو جن حالات سے گزر کر ایک دوسرے تک پہنچے تھے ، ایک دوسرے کا مر ہم بنے اور پھر بدر اور نادیہ کا بھی ارمان پورا ہوا کہ جس شخص نے انکی بیٹی کو سنبھالا آج ان سب نے مل کر جلال کے لیے بھی کچھ اچھا کرے صلہ لوٹایا اور سب سے نہال علیحہ تھی، آلین کو سکون ملا، خوشیاں مانو سب کی زندگیوں میں ٹھہر گئیں۔
ولیمہ شاندار رہا اور پھر آلین اور علیحہ کے پیار کے حصار میں وہ چاروں آلسن کو خیر آباد کہہ کر روانہ ہو گئے، ایک منتھ بعد جاکر زیشان نے زالے کی مرضی کے بعد بے بی کی نیوز اپنی فیملی میں اوپن کی اور سبکی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا، ویسے تو وہ چار نفوس جانتے تھے پر سب نے زالے کی پر واہ کی اور نیوز جب خود زالے کی مرضی کے بعد بریک ہوئی تبھی مبارکباد و دعاوں کا سلسلہ شروع ہوا جسکے لیے منتھ بعد خود آلین، علیحہ ، جلال اور ابرش پاکستان آئے اور حسب وعدہ ارمان اور انیہ کے فارم ہاوس میں کپلز ڈنر ہو الیکن فرق یہ تھا
کہ تین کے بجائے چار ہاٹ کپلز نے تباہی مچائی تھی، زندگی اپنی خوبصورت ڈگر پر چل نکلی تھی، خمار جانم کا ہر کردار خوش و مسرور تھا، سب بے حد آسودہ تھے۔
اور پھر ان خوشیوں میں کچھ ماہ بعد اضافے دنیا میں تشریف لائے ، انسیہ اور ارمان کو اللہ نے بیٹے سے نوازا اور علیحہ نے بھی ایک بیٹے کو جنم دیا۔ جبکہ ابرش کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی مگر سب سے آفت کپل کے ہاں اکھٹے ٹونز تشریف لے آئے ، زالے نے دو بہت ہی صحت مند بچوں کو جنم دیا، یہ سچ تھا اسکی اتنی کم عمری میں ٹونز پریگنسی بہت رسکی تھی پر اسے ذیشان نے ان نو ماہ اک لمحہ بھی خود سے دور نہ کیا اور زالے جس بھی درد سے گزری ہو ، وہ آفت کا پر کالہ خوش تھا کہ اکھٹے ہی دو بچے آگئے اب وہ زالے کا نگر کبھی دوبارہ خراب نہ ہونے کا سوچ کر دل کو تسلیاں دیتا پایا گیا، دو بچے
سنبھالنے ایک ساتھ مشکل تھے پر زالے اور ذیشان کو انکی دادیوں نے فیل ہی نہ ہونے دیا کہ وہ دو دو بچوں کے پیر نٹس ہیں کیونکہ خضر اذیشان کو ہالہ
سنبھالتیں اور خذیفہ ذیشان کو مہرین صاحبہ ، خود زالے کو چند ماہ اپنے ایکسٹرا بگھڑے مگر کو واپس ٹھیک کرنے میں لگے اور پریگنسی کے بیچ ہی اسکی
گریجویشن بھی بہت اچھے رینک سے پوری ہوئی، مگر مینٹین کرنے کے بعد جب خضرا اور خذیفہ کچھ سنبھل گئے تب زالے نے میڈیکل یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا، اور ذیشان شرافت سے ارمان کے ساتھ بزنس کے لیے سنجیدہ ہوا، یہ سب اب ایک ساتھ خوش تھے کیونکہ کسی کی لائف میں اب کوئی حسرت باقی نہ تھی، علیحہ اور آلین کی زندگی انکے بیٹے نے مکمل کی تو ارمان کی خواہش انسیہ سے جڑے اس ننھے بچے سے پوری ہوئی جو فائزہ اور شازمہ کی بھی زندگی بن کر آیا تھا، جلال نے کبھی نہیں سوچا تھا وہ باپ بنے گا ہر ابرش نے زندگی میں آکر سب کچھ ہوا کے جھونکے سے بدل دیا۔ یہی تھی خمار جانم کی داستان جو آپکو بھی کسی خمار میں اختتام تک مبتلا کر کے چھوڑے گی۔
The End.....💖
امید ہے آپ سب کو تمام ناول شروع سے لے کر آخر تک اچھا لگا ہوگا دعاؤں میں یاد رکھیے گا ملتے ہیں کسی اگلے ناول میں اور آپ کا بہت شکریہ ناول کو پیار دینے کے لیے ملتے دوسرے ناول میں تب تک اپنا خیال رکھیے گا اللہ حافظ۔۔💖