S s merwa Mirza

S s merwa Mirza UpcomingNovel _ JäNääN_FirstLook_Oüt ✨
Coming Soon ! More updates Coming Very Soon...!! 🤞🏼

28/03/2025

I got 340 reactions and comments on one of my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

"خمارِ جانم" "آخری قسط 66"از۔"ایس مروا مرزا"Last Episode °°°°°°Don't copypaste without my permission 🚫🚫 °°°°°°💖💖💖وہ چینج...
08/03/2025

"خمارِ جانم"
"آخری قسط 66"
از۔"ایس مروا مرزا"
Last Episode
°°°°°°
Don't copypaste without my permission 🚫🚫
°°°°°°

💖💖💖

وہ چینج کرے لوز سی شرٹ اور پاجامے میں بال کھولے جب واپس آئی تو جلال نے نظر تو اٹھا کر ڈال لی پر ہٹانی دو بھر ہوئی اور ابرش مسکراہٹ چھپائے جا کر بیڈ پر پائنتی کی جانب بیٹھی، جان بوجھ کر چہرہ بھی موڑا، کمرے کا جائزہ لینے لگی، جلال نے کچھ دیر تو اپنی برداشت کا یہ مظاہرہ سہا مگر پھر ابرش کی مسکراہٹ تب بڑھی جب پانچ منٹ بعد اسے اپنا آپ جلال کی بازووں میں محصور محسوس ہوا ، وہ اسکے ساتھ ہی آکر بیٹھا تھا، ابرش کے بالوں میں چہرہ چھپائے ، انداز میں اک تڑپ سی تھی، اس شخص کے دل کی بھاری دھڑکنیں اور جمی سانسیں ابرش کو اپنے گرد محصور محسوس ہو رہی تھیں۔

‏ " آپکو مجھے یقین دلانا نہیں پڑے گا کہ آپ نے نا جائز ہر تعلق چھوڑ دیا۔ میں یقین ہی مضبوط کر لوں گی اپنا۔ اور وہ یقین ہی آپکو میرا ایماندار بنادے گا۔ میں نے زیادہ رشتے نہیں پائے اپنی زندگی میں۔ نہیں جانتی محبت بھرے احساسات اور رویے کس طرح کی راحت دیتے ہیں لیکن آپ کو دیکھتے ہی میں نے خود کو کہہ دیا تھا اب یہی انسان ہے جسکے ساتھ مجھے باقی

زندگی رہنا ہے، آپ نے اپنی زندگی جتنی عجیب پائی، یہ سب برائیاں آپ میں آنا کوئی بڑی بات نہیں۔ جب ہمیں سمجھانے اور سنبھالنے والے ہی اپنی تکلیفیں جھیل رہے ہوں تو ہم اکثر بہتر رہنمائی و توجہ نہ ملنے پر بھٹک جاتے ہیں۔ آپ کے ساتھ بس یہ ہوا ، ورنہ ہر گناہ کی معافی اللہ ضرور دیتا ہے بس نیست یقین و عاجزی سے بھری ہو۔"

وہ نرم لہجے میں بولتی گئی اور جلال اسکی ہر بات جیسے عجیب آسودہ کرتی محسوس کرنے لگا، یہ سچ تھا وہ واقعی سمجھدار تھی۔

میری طرف پلٹو"

جلال نے اسے ملائم انداز میں اپنی طرف کما کر بٹھایا تو ابرش کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں اک حسرت کا عنصر جگا تھا۔

"میرے جب پیر نٹس کی ڈیتھ ہوئی، اور چا مجھے اپنے گھر لے گئے تو میں سارا دن گھر میں پڑی رہتی۔ کام کاج اور بس تھک ہار جانا۔ زندگی اتنی گھٹن

تھی کہ کیا بتاوں آپکو۔ انکی بیوی اور بچے بہت تیز تھے، میں ویسی نہیں تھی۔ لیکن انکے ساتھ دو سال رہ کر بہت کچھ سیکھا۔ پتا ہے میر ادل بھی بہت

زیادہ پریشان ہونے پر ناجائز چیزوں اور خیالوں کی طرف جاتا تھا۔ میں ٹی وی میں دیکھتی تھی ناں جب تو دل کرتا تھا میرے لیے بھی کوئی شہزادہ آئے اور مجھے لے جائے۔ بہت سا پیار کرے جیسے ڈراموں میں کرتا تھا۔ لیکن کچھ نہیں ہوتا تھا۔ میں الٹا گناہ گار ہو جاتی تھی ایسا سب سوچ کر۔ تو یہ سب فطری ہوتا ہے۔ کچھ خود کو روک لیتے ہیں بھٹکنے سے کچھ نہیں روک

سکتے۔ بے بسی بہت بری چیز ہے ، بے سکونی ظالم ۔۔ ہم سکون کی اک بوند کو تڑپ رہے ہوتے ہیں تب عقل شعور نہیں تمیز کرتا کہ یہ سکون جائز ہے یا نا جائز ۔۔۔۔۔ آپ سمجھ رہے ہیں میری باتیں ؟ "

خود کو دیکھتے جلال کو چپ محسوس کرے وہ بدحواس ہوئی کے نجانے وہ شخص اسے سمجھے گا یا نہیں۔

" میں تمہاری باتیں ہی سمجھ رہا ہوں اس وقت بہت خاص باتیں کرتی ہو۔ گہرے زخموں کا درد چھلک رہا ہے تمہارے حرف حرف سے۔"

جلال کا جواب سنے وہ کچھ دلا سا سا پا گئی۔

ہاں ناں۔ اکیلی اور تنہارہ کرتی ہوئی ہوں"

خفیف سا سلگنے کے ساتھ ہی زرا مسکرائی تو جلال بھی ساتھ مسکرایا۔

" آپ کے کام کا بتا یا علیحہ آپی نے کہ آپ انگلینڈ کے ڈان ہیں۔ کوریا کے بھی۔ پر مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں۔ پتا ہے میر افیورٹ کو رئن ڈرامہ ہے ناں جو اس میں بھی ہیر و گینگسٹر ہے اور بڑا بھی۔ تو مجھے تو یہ سب بہت کول لگ رہا ہے۔ آپ کہیں گے کیسی باتونی لڑکی ہے چلیں میں چپ ہو رہی

ہوں۔ اب بتائیں اب کچھ "

اپنی باتوں سے وہ جلال کو خوشی دے رہی تھی پر خود کو لگا زیادہ بولی ہے تبھی چپ ہوئی۔

" بولتی رہو "

جلال نے اسکی ٹھوڑی پر ہاتھ کی پکڑ جماتے چہرہ اوپر کرتے حکم دیا تو ابرش کی پلکیں سی لرزیں، گال بلش ہوتے لال پڑے۔

" آپ صرف سنیں گے ؟"

ابرش کو اب جا کر اپنے اور اسکے بیچ کی نزدیکیوں کا احساس جاگا پر اب بہت دیر ہو چکی تھی ، وہ جلال بخت کے حصار میں جذب تھی۔

" دیکھنا، محسوس کرنا اور سننا، میرے نزدیک بولنے سے افضل ہے۔ کسی

باکردار عورت کو چھوتے دور ، دیکھتے بھی ڈرتا ہوں پر تمہارے پاس گھر جیسا احساس ہے۔ مدت بعد یہ احساس ملا، آخری بار جب بہت سالوں پہلے بابا نے امی کو اپنی ایمانداری کا نیا نیا یقین دلایا تب ملا یہ احساس جب امی نے خوش ہو کر مجھے گلے لگایا اور بولیں کے وہ بہت خوش ہیں پر وہ وقتی تھا۔ اسکے بعد میں اس لائق ہی نہ بن سکا کبھی کہ وہ گلے لگا تیں۔ "

حسرت کا پورا جہاں جلال کے سنجیدہ جملوں میں پنہاں تھا۔

" میں لگالوں گلے ؟"

ابرش کے زرا اسکی جانب دیکھ کر مان لٹانے کے جلال کو کچھ کہنے لائق نہ چھوڑا، بے بس سا کر دیا۔

" تم آل ریڈی میری بازووں میں قید ہو ، اسے گلے لگانا ہی کہتے ہیں آئی تھنک "

وہ سہولت سے بات بنا گیا مگر ابرش نے نفی کرتے ہی دونوں ہاتھ کھولتے اسکی گردن میں باز وہار سے پروئے جب رہے سہے فاصلے کو سمیٹ کر جلال کو گلے لگانے کی ننھی سی کوشش کی تو ان آنکھوں میں اک جلن جگی، پہلی بار کوئی عورت اتنے قریب آکر جسم کے بجائے دل کو بھائی تھی، وہ بے اختیار ہی اسکے نازک وجود کو مزید بازووں میں جکڑ گیا، وہ یہاں اس جگہ جلال کو اپنے ہونے کا احساس دلاتی خوش تھی۔

زیادہ گلے لگنا مجھے کبھی پسند نہیں رہا۔ نادیہ امی گلے لگاتی تھیں بس، یا جب امی زندہ تھیں تو کوئی کمی لگے تو در گزر کریں پر مجھے لگتا ہے گلے لگنا ایسا ہوتا ہے"

وہ خود امید سے زیادہ سکون ملنے پر زرابو کھلائی تھی ، چند لمحوں میں کسی کا دل جیتنا کے کہتے ہیں یہ آج جلال کو معلوم ہوا تھا، وہ اسے دور کرنے پر راضی ہی نہ تھا۔

بلکل ایسا ہی ہوتا ہے ابرش، مجھے پسند آیا"

وہ زرا اسے خود سے دور کرے دیکھتے بولا تو ابرش کے چہرے پر اپنی کوشش کے کامیاب ہونے کی خوشی دیکھتے اور دل کو اچھا لگا

اب تو آپ سونے کا نہیں کہیں گے ناں؟"

ابرش نے آنکھوں کی شرارت سمیت جلال کو دیکھتے شرمگیں لہجے میں پوچھا تو جناب بنا سوچے سر نفی میں ہلا گئے۔

" تم چا کی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہ کر ان جیسی ہو گئی ہو۔"

جلال کا لہجہ مسکرا رہا تھا۔

یہ آپ نے میری بے تکلفی سے اندازہ لگا یاناں ؟"

ابرش نے فورا سے سوال کیا۔

نہیں۔ تمہارے منہ پھٹ ہونے سے "

وہ مسکرایا تو ابرش بھی بلش کرتی ہیں، آنکھیں جھکا لیں۔

" ظاہر ہے ان لوگوں کے بیچ اپنا بچاو کرنے کے لیے مجھے بھی تو بہادر ہونا تھا

ہر جو اب اس لڑکی کے پاس تھا، جلال نے مسکرا کر اسے آزاد کیے اٹھنا چاہا تو ابرش اسکا ہاتھ پکڑے روک کر بٹھا گئی، یہ بلکل غیر ارادہ تھا۔

" کہاں جارہے ہیں ؟"

اپنی خفت مٹانے کو وہ بات بنا گئی۔

چینج کرنے۔۔۔ کیوں نہ جاوں؟"

محترم کی نظریں کچھ بدلیں، ابرش کو گھبراہٹ دینے لگیں۔

چھوڑیں۔ کیا کریں گے چینج کر کے۔ باتیں کر لیں۔۔۔"

نظریں جھکائے ہی مشورہ دیا۔

" صرف باتیں نہیں کر سکتا ۔ "

جلال کی معنی خیز نظریں ابرش کو چھیڑنے لگیں۔

"تو کس نے کہا صرف باتیں کریں ؟"

وہ بد حواس سا بڑ بڑا تو بیٹھی پر جلال کی بدلتی نگاہوں کو بھانپتے نظریں چرا کر اس سے پہلو رخ بدلتی ، جلال نے اسے کمر میں باز و لیٹے اپنے سینے سے کھینچ کر لگایا۔

اور اسکے بعد جس نرم شدت سے باہمی رشتے کی اجنبیت جلال نے دور کی ، اب کی بار وہ من موہنی پہل ابرش نے کی، اور عورت کی پہل مرد کو بہکانے میں کسی جام سے زیادہ پاور فل اثر رکھتی ہے۔

لگ رہا تھا اجنبیت کے الف سے ت تک حرف مٹنے والے تھے پہلی ہی شب، زہے نصیب !

" کہاں گئے تھے تم لوگ ؟

ذیشان اور زالے گھر تو پہنچ گئے پر گاڑی کے ہارن پر وہ چاروں باشندے فکر و پریشانی سے پورچ میں کھڑے ملے ، آلین نے ہی سوال کیا جبکہ زالے کا دل چاہا کہیں جا کر چھپ جائے ، ویسے تو اسے ذیشان پر بھروسہ تھا کہ وہ یہ بات چھپالے گا پر جس طرح وہ چار مشکوک و فکر مند سامنے کھڑے تھے، یہ بونگا شوخیاں مارتے ہی سب اگل دیتا۔

" ہم اوٹنگ پر نکلے تھے ، زالے کا دل گھومنے کا چاہ رہا تھاماموں۔ آپ لوگ کیوں اٹھ گئے۔ سب ٹھیک ہے "

ذیشان کے سنجیدہ جو اب نے ان چاروں کے ساتھ زالے کا کا نپتا دل بھی نارمل کیا۔

ہاں سب ٹھیک ہے۔ بس گاڑی کا ہارن سے ہم لوگ آگئے کہ سب ٹھیک تو ہے۔ میر ابچہ ٹھیک ہے ؟"

ارمان نے ہی زالے کے چہرے کی اڑی ہوائیاں بھانے پچکارا تو وہ لالہ کے آ کر سینے میں سمٹی۔

ٹھیک ہوں لالا

وہ تھوڑی کمزور پڑی تو بقیہ تین آفراد نے جس مشکوک انداز میں ذیشان کو دیکھا، بہت کوشش کی مسکراہٹ روکے پر بے قابو ہوئی۔

آلین نے چونک کر ارمان کو دیکھا، وہ لوگ کچھ کچھ سمجھ گئے تھے ، جبکہ انسیہ نے جس طرح ذیشان کو آنکھ ماری وہ آفت ادھر ادھر دیکھ کر ہنسی قابو کرنے لگا، جبکہ علیحہ بھی خفیف سا مسکرائی اور ارمان اسکا دل چاہا اس ذیشو کو یہیں گاڑ دے۔

" یہ سب اتنے ٹیلنٹڈ ہوں گے زالے بچاری کو اندازہ نہیں۔ یا اللہ آپ گواہ ہیں کہ میں نے کچھ نہیں بتایا ان چاروں کو۔ یہ ارمان تو مجھے زندہ بنا فرائے کیسے نگل جائے گا، کیسے گھور رہا ہے "

ذیشان کو سبکی نظریں محسوس کیے جان کے لالے پڑ چکے تھے جبکہ زالے خود ہی لالہ سے دور ہوئی تو آلین نے بھی پیار سے بازو کھولے ، وہ ماموں کے سینے سے لگ گئی تو آلین انیہ اور علیحہ اسے اندر لے کر بڑھے جبکہ میدان میں اب صرف دانتوں کی نمائش کر تا ذیشان اور گھورتا ہوا ارمان بچے تھے۔

" کیا وہ امید سے ہے ؟"

ارمان نے پاس رکھتے ذیشان کو گردن سے دبوچا تو ذیشان نے شاہ رخ خان کی طرح کنفو زہاں ناں والا تاثر دیا کہ ارمان نے زور کی چیرہ گردن پر ماری تو جناب کا کنفوز تاثر ہاں میں بدلا۔

" جانو ویر اچھا ہے ناں جلدی جلدی بچوں کے کام سے فری ہو جائیں گے۔ پھر میں شرافت سے تمہاری بزنس میں ہیلپ کروں گا اور زالے ڈاکٹر بنے گی۔ بے بی کو سنبھالنے کے لیے بی جی اور ہالہ ہیں۔"

ذیشان کی پلاننگ سننے ارمان خفیف سا مسکرایا اور پکڑ کر اس گدھے کو اپنے سینے بھینچ لیا کہ خود ذیشان جو پٹنے کے ارادے میں تھا، ایسے رد عمل پر تھرا سا اٹھا

بہت خیال رکھنا اسکا اور جب تک وہ کمفرٹیبل نہیں ہوتی یہی شو کریں گے کہ ہم اس نیوز کے بارے نہیں جانتے۔ میں سبکو منع کر دوں گا کہ اپنی خوشی زالے کے سامنے کنٹرول رکھیں۔ اگر تم نے زالے کو زرا بھی تکلیف ہونے دی تو میں تمہیں پھینٹی لگاوں گا۔ "

ارمان کے خوش ہونے پر ذیشان کی خوشی کو دگنے رنگ لگے۔

وعدہ کرتا ہوں اسے سنبھال لوں گا، تو واقعی خوش ہے جانو ویر ؟"

ذیشان کا دل خفیف سا ابھی بھی پریشان تھا اور ارمان کیا بتاتا کہ یہ خوشی ویسی تھی جیسے زالے کے ذینیہ کی کوکھ میں ہونے کی خبر پر محسوس ہوئی تھی۔

بہت خوش۔ آجا اب اندر۔ اسے کمرے میں لے جا۔ میں باقیوں کو سمجھا دوں گا"۔۔

وہ دونوں ساتھ ہی اندر آئے تو کسی نے بھی زالے کو محسوس نہ ہونے دیا وہ

نیوز جان گئے ، وہ روم میں خود ہی نیند کا بہانہ کیے چلی گئی تو سب ہی ذیشان کے گر دہالہ بنا گئے، جبکہ آلین کی نظر بس روم کی طرف جاتی زالے پر تھی، وہ کتنا خوش ہے یہ اسکی آنکھوں کی سرخی بتارہی تھی، انیہ اور علیحہ بھی نیوز کی تصدیق پر پر جوش تھیں جبکہ ذیشان کی توجہ جب بیٹھے آئین پر گئی تو وہ انکے قدموں میں جب بیٹھا تو آلین نے محبت بھری سرخ آنکھوں والی نظر ذیشان کے خوبصورت چہرے پر ڈالی۔

" آپکی لاڈلی کا پورا خیال رکھوں گا یار سینٹی نہ ہوں۔"

وہ آلین کی فکریں بخوبی جانتا تھا، آلین نے مسکر اکر ذیشان کی گال تھپکی۔

" نہیں بس آپی کی یاد آگئی اس نیوز پر۔ وقت بہت جلدی گزر جاتا ہے۔ مجھے تم پر پورا یقین ہے تم ہر طرح زالے لیے سوٹ ایبل ہو۔ بس اسے سٹرونگ رہنے کا کہنا، وہ کافی شائے ہے تو مے بی اس پر بھی پریشان ہوتی رہے۔ سنبھال لینا۔ اب جاوا سکے پاس


وہ ماموں کی تھیکی پر مسکرایا اور انیہ نے بھی صدقہ اتارتے مبارک دی جبکہ علیحہ نے بھی پیار بھری نگاہ ڈالی، ذیشان کے جاتے ہی جہاں انسیہ خوشی سے ارمان کی بازو کے حصار میں سمٹی وہیں علیحہ نے بھی آلین کے پاس بیٹھے اسکا ہاتھ تھاما جو آلین کو تسلی دینے کا انداز تھا، وہ سب خوش تھے اور دگنی خوش زالے روم میں پہنچ کر تھی کیونکہ اسے لگا ذیشان نے مہارت سے معاملہ سنبھال لیا ہے تبھی جب وہ روم میں آیا تو وہ بھاگ کر آتی اسکی کھلی بازووں میں آبی۔

تھینکیو ! ابھی سب سے یہ نیوز چھپانے کے لیے ذیشان "

مشکور کے ساتھ وہ جذباتی بھی تھی ، ذیشان کو ہنسی آئی جسے محترم نے بڑی مشکل سے حلق و ہو نٹوں کے پار دبایا۔

تمہارے لیے کچھ بھی میری جان "

ذیشان نے اسکا ماتھا چومتے ڈھیروں سکون زالے میں اتارا، وہ ہنوز بلش کر رہی تھی، چہرہ سرخیوں میں نہایا تھا۔

اب بتائیں۔ کس انرجی کی بات کی تھی ؟"

وہ جلدی سے اسکے سینے کے قریب سر کی ہی جب ذیشان نے اسکی سانسوں پر گرفت جماتے اسے اپنے سحر میں جکڑا۔

" ذیشان !"

وہ اسے روکنے کو منمنائی۔

" شش ! پیار آرہا ہے مجھے اور تمہیں سمیٹنا ہو گا مجھے میرے ہر جذبے سمیت۔ خوبصورت اور مکمل زندگی مبارک ہو جاناں۔"

اسکے چہرے کو ہاتھوں میں بھرے ذیشان نے اسکی ہر گھبراہٹ کو ایسی نو عید سے راحت میں بدلا کہ وہ دو جسم اک قالب میں ڈھلتے ڈھلتے امر ہو گے۔۔

جلال اور ابرش کے ایک ہونے نے یہ ثابت کیا کہ جب اللہ کوئی فیصلہ کرتا ہے تو بہترین مصلحت شامل رہتی ہے۔ وہ دو جن حالات سے گزر کر ایک دوسرے تک پہنچے تھے ، ایک دوسرے کا مر ہم بنے اور پھر بدر اور نادیہ کا بھی ارمان پورا ہوا کہ جس شخص نے انکی بیٹی کو سنبھالا آج ان سب نے مل کر جلال کے لیے بھی کچھ اچھا کرے صلہ لوٹایا اور سب سے نہال علیحہ تھی، آلین کو سکون ملا، خوشیاں مانو سب کی زندگیوں میں ٹھہر گئیں۔

ولیمہ شاندار رہا اور پھر آلین اور علیحہ کے پیار کے حصار میں وہ چاروں آلسن کو خیر آباد کہہ کر روانہ ہو گئے، ایک منتھ بعد جاکر زیشان نے زالے کی مرضی کے بعد بے بی کی نیوز اپنی فیملی میں اوپن کی اور سبکی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا، ویسے تو وہ چار نفوس جانتے تھے پر سب نے زالے کی پر واہ کی اور نیوز جب خود زالے کی مرضی کے بعد بریک ہوئی تبھی مبارکباد و دعاوں کا سلسلہ شروع ہوا جسکے لیے منتھ بعد خود آلین، علیحہ ، جلال اور ابرش پاکستان آئے اور حسب وعدہ ارمان اور انیہ کے فارم ہاوس میں کپلز ڈنر ہو الیکن فرق یہ تھا

کہ تین کے بجائے چار ہاٹ کپلز نے تباہی مچائی تھی، زندگی اپنی خوبصورت ڈگر پر چل نکلی تھی، خمار جانم کا ہر کردار خوش و مسرور تھا، سب بے حد آسودہ تھے۔

اور پھر ان خوشیوں میں کچھ ماہ بعد اضافے دنیا میں تشریف لائے ، انسیہ اور ارمان کو اللہ نے بیٹے سے نوازا اور علیحہ نے بھی ایک بیٹے کو جنم دیا۔ جبکہ ابرش کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی مگر سب سے آفت کپل کے ہاں اکھٹے ٹونز تشریف لے آئے ، زالے نے دو بہت ہی صحت مند بچوں کو جنم دیا، یہ سچ تھا اسکی اتنی کم عمری میں ٹونز پریگنسی بہت رسکی تھی پر اسے ذیشان نے ان نو ماہ اک لمحہ بھی خود سے دور نہ کیا اور زالے جس بھی درد سے گزری ہو ، وہ آفت کا پر کالہ خوش تھا کہ اکھٹے ہی دو بچے آگئے اب وہ زالے کا نگر کبھی دوبارہ خراب نہ ہونے کا سوچ کر دل کو تسلیاں دیتا پایا گیا، دو بچے

سنبھالنے ایک ساتھ مشکل تھے پر زالے اور ذیشان کو انکی دادیوں نے فیل ہی نہ ہونے دیا کہ وہ دو دو بچوں کے پیر نٹس ہیں کیونکہ خضر اذیشان کو ہالہ

سنبھالتیں اور خذیفہ ذیشان کو مہرین صاحبہ ، خود زالے کو چند ماہ اپنے ایکسٹرا بگھڑے مگر کو واپس ٹھیک کرنے میں لگے اور پریگنسی کے بیچ ہی اسکی

گریجویشن بھی بہت اچھے رینک سے پوری ہوئی، مگر مینٹین کرنے کے بعد جب خضرا اور خذیفہ کچھ سنبھل گئے تب زالے نے میڈیکل یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا، اور ذیشان شرافت سے ارمان کے ساتھ بزنس کے لیے سنجیدہ ہوا، یہ سب اب ایک ساتھ خوش تھے کیونکہ کسی کی لائف میں اب کوئی حسرت باقی نہ تھی، علیحہ اور آلین کی زندگی انکے بیٹے نے مکمل کی تو ارمان کی خواہش انسیہ سے جڑے اس ننھے بچے سے پوری ہوئی جو فائزہ اور شازمہ کی بھی زندگی بن کر آیا تھا، جلال نے کبھی نہیں سوچا تھا وہ باپ بنے گا ہر ابرش نے زندگی میں آکر سب کچھ ہوا کے جھونکے سے بدل دیا۔ یہی تھی خمار جانم کی داستان جو آپکو بھی کسی خمار میں اختتام تک مبتلا کر کے چھوڑے گی۔

The End.....💖

امید ہے آپ سب کو تمام ناول شروع سے لے کر آخر تک اچھا لگا ہوگا دعاؤں میں یاد رکھیے گا ملتے ہیں کسی اگلے ناول میں اور آپ کا بہت شکریہ ناول کو پیار دینے کے لیے ملتے دوسرے ناول میں تب تک اپنا خیال رکھیے گا اللہ حافظ۔۔💖

"خمارِ جانم""قسط نمبر 65"از۔"ایس مروا مرزا"2nd Last Episode°°°°°°Don't copypaste without my permission 🚫🚫 °°°°°°💖💖💖ارمان...
07/03/2025

"خمارِ جانم"
"قسط نمبر 65"
از۔"ایس مروا مرزا"
2nd Last Episode
°°°°°°
Don't copypaste without my permission 🚫🚫
°°°°°°

💖💖💖

ارمان کی ایسی ڈائریکٹ ڈانٹ و خفت پر ذیشان اور شو خاہوا۔

" ماموں بننے کا اتنا ارمان ہے ارمان تجھے ، رہا نہیں جارہا کیا جانو ویر "

اب ارمان سے اسے چھتر کھانے کی طلب تھی، یار کی لہو آشام گھوری پر ذیشان نے اپنی شرارت کو قابو کیا۔

" بہت ہی کوئی منحوس آدمی ہے۔ تو نے زیادہ تنگ تو نہیں کیا اسے ؟"

ارمان فکر بھی کر رہا تھا پر عجیب سی ہچکچاہٹ کے سبب پوچھ بھی نہیں پارہا تھا۔

توانیہ کو تنگ کرتا ہے ؟"

زیشان کے سوال پر ارمان نے سرسری مگر پریشان ہوتے زیشو کو دیکھا۔

" نہیں۔ محبت ہے وہ میری۔"

ارمان نے فوری جواب دیا اور جواب دینے کی دیر تھی کہ زیشان بھی مسکرایا۔

" تیری زالے بھی تو میری محبت ہے۔ تجھے جلن ہو رہی ہے کہ وہ میری جان بن گئی ہے ؟ ہے ناں جانو ویر "

ذیشان کو چسکے لینے کی طلب تھی اور ارمان کیا کر تا ابھی تھوڑا بے چین تھا۔

ہاں تھوڑی سی۔ اسے اس رشتے کے تقاضوں سے زیادہ پریشان نہ کرنا ذیشو۔ معصوم سی ہے۔ میرے لیے تو وہ میر ابچہ ہے بس تبھی ہر سانس کے ساتھ اسکے لیے آسانی مانگتا ہوں "

ارمان کے لہجے سے چھوٹتے انس پر ذیشان کا دل جھوم سا اٹھا۔

میں بھی اسکی آسانی ہی مانگتارہتا ہوں اور اسکی خوشی بننے کی ہر ممکنہ کوشش کرتا ہوں۔ کیا یہ کافی ہے تیری تسلی کو جانو ؟"

اب کی بار گاڑی کی سپیڈ کم کرنے کے ساتھ ارمان نے پیار بھری نگاہ ذیشان پر جمائی۔

" بہت کافی ہے۔ پر تیرے اس ہفتے میں باپ بننے کے دعوے کا کیا ہوا؟"

ارمان کی رارت بھانپتے ذیشان نے منہ بسورا، اتنی ساری ایفرٹ کرنے کے بعد بھی اب تک کوئی نیوز نہ آنے پر وہ خود بھی اداس ہوا۔

زخموں پر نمک مت چھیڑ ظالم آدمی۔ اللہ جی پلیز بے بی میکنگ کا پراسیس فاسٹ کر دیں، میری عزت کا سوال بن گیا ہے "

ہاتھ بلند کیے ذیشان نے جب دعا کو ہاتھ اٹھائے تو ارمان نے زور سے جھانپڑ الحمید کیا۔

" بے غیرت ! کچھ شرم کھا لیا کر۔ تیرے لنگوٹی یار کے ساتھ سالہ بھی ہوں اب۔"

یہ غلطی ارمان کی تھی کہ اس نے غیرت کسی چیز ذیشان حیدر ملک کو دلائی کیونکہ جناب کا تو عرصہ دراز سے اس سے ناطہ نہ تھا، دونوں ہی ہنسے اور چونکہ

ائیر پورٹ آچکا تھا تو فل ایک سائیڈ بھی تھے، خیر جلال کو پک کرنے کے بیچ دونوں نے بڑے ماتمی منہ بنائے جیسے آلین کے لیے پریشان ہوں تو جلال بخت جس نے کئی ملکوں کی خاک چھانی، کھڑے کھڑے سامنے والے کا نظروں سے پوسٹ مارٹم کر لیتا تھا وہ بھی ان منجھے اداکاروں کے آگے دھو کہ کھا گیا۔

خیر ذیشان اور ارمان نے اپنی بے قابو ہوتی سمائیل کو سارا رستہ سنبھالا کیونکہ سارا رستہ جلال ان دو سے آلین کے بارے ہی سوال کرتا رہا۔

سمجھ یہ بھی نہ آئی کہ ایک ہفتے میں اس خوش باش آدمی کو اب کونسے کیڑے نے کاٹ لیا پر بھولے جلال بخت کہاں جانیں کہ انکو جاہ مینشن میں کیڑ ادور ایک ہائی وولٹیج کرنٹ لگنے والا ہے۔

جیسے ہی گاڑی جاہ مینشن کے تاحد نگاہ پھیلے پورج میں رکی ، جلال کی مشکوک نظروں نے ولا کی اب تک موجود سجاوٹ پر ساتھ بیٹھے ارمان اور پھر گردن پھیرے اک اچٹتی نظر پچھلے آفت کے گولے پر ڈالی۔

کیا چکر ہے لڑکو! یہ سجاوٹ کیوں ہے اب تک ؟۔۔۔ اور تم دو کی مینسی شکلیں مجھے کب سے کچھ مشکوک کر رہی ہیں۔ سچ سچ بتاو اس گھر کے اندر کیا کچھڑی پک رہی ہے "

جلال کی بارعب جو اب دہی پر وہ دو ہاٹ سخت لونڈے بھی گڑ بڑاتے معلوم ہوئے اور ارمان نے آنکھ کے اشارے سے ذیشان کو کچھ کہا تو وہ فورا پیچھے سے کار سے نکلتا جلال کی طرف آیا اور ہاتھ پکڑے اسے زبر دستی باہر نکالا۔

آپ اندر چل کر خود ہی دیکھ لیں ناں۔ کچھڑی نہیں، بریانی ایڈ ہے مینو میں "

‏ذیشان کی زبان سے سارا سر پر ائز سلپ ہونے سے پہلے ہی ارمان گاڑی کا ڈور بند کر تا پیچھے سے وارد ہوا۔

" مطلب ؟ کونسی بریانی۔۔۔ مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے تم لوگوں نے مجھ سے وانٹڈ ڈان کو رشتہ داری کی وجہ سے چکر دے کر اغوا کر لیا ہے۔ دیکھو کسی سے میری سپاری تو نہیں پکڑ لی۔۔؟"

جلال کے خدشے بیچ میں ارمان اور ذیشان کو گد گدا گئے ، دونوں مسکرائے اور ہنسی بھی قابو کی۔

"ہاں ایسا ہی سمجھیں۔ لیکن اس سپاری سے آپکی جان کو نہیں، عزت کو خطرہ ارمان لاکھ ذیشان کو آنکھیں نکال رہا تھا پر یہ شے لگتا تھا سچ میں یہیں بھانڈے کو پھوڑنے والی تھی۔

" کیا بڑ بڑا رہے ہو یار "

جلال کے بد حواس شکوے پر ارمان نے خود ہی ذمہ دار ہونے کا ثبوت دیا اور انکے لیے راستہ چھوڑا۔

" اسے چھوڑیں آپ اندر چلیں"

کچھ دیر کی الجھن کے بعد آخر کار جلال نے اندر جانے کا فیصلہ لیا پر جاہ مینشن جس طرح باہر سے سجا تھا، دگنی چہل پہل ، رونق اور بہار اندر تھی، اول تو آلین بلکل ٹھیک تھا اور یار کے ویلکم کے لیے موجود تھا، اور دوسری بات پلٹ کر ذیشان اور ارمان کو گھورا بھی ، او پر پھر مزید تشویش کی بات یہ تھی کہ نادیہ اور بدر بھی جب لاڈ و شفقت سے اسے ملے تب تو جلال کو سچ میں لگا جیسے جس سے ڈرتا تھا یہ دل وہ گھڑی آگئی۔

" یہ سب تیاری ؟ تم سب نے آلین کی طبعیت کا جھوٹ بولاناں۔۔ یہ کمینہ تو ہٹا کٹا ہے۔ دیکھو میں سپینس سے مرنے والا ہو رہا ہوں اب بتا بھی دو"

جلال کی مزید بے قراری کا امتحان نہ لیتے فائنلی علیحہ خود روم سے باہر آئی، لاونچ میں موجود سب نے آتی علیحہ کی طرف دیکھا جو جلال بخت کے سامنے آکر رک چکی تھی۔

"علیحہ ! کیا ہو رہا ہے بچے؟"

سب مینے گھنے لگے تو جلال کو امید تھی کہ بہن تو ضرور اس الجھن سے نکال دے گی جس کا اپنا چہرہ شرارت کا ترجمان تھا۔

" آپکی شادی"

علیحہ نے مسکراتے ہوئے بمب پھوڑا۔

اچھا شادی۔۔۔۔۔۔ ہیں کیا ؟"

پہلے دو لفظ بے ارادہ اور نا سمجھی سے کہتے ہی جب وہ آخری دو لفظوں پر ٹھٹکا تو علیحہ سمیت سب ہی ہنس دیے جبکہ جلال نے سب کو ہی دیکھا ہی گھور کر کہ ہنسی فوری سنبھال لی گئی۔

جی شادی ! آپکے لیے ایک بہت ہی خوبصورت، سمجھدار اور پیاری لڑکی چنی ہے ہم سب نے۔ منگنی تو ہم نے ہفتے پہلے ہی کر دی تھی آپ دو کی مگر نکاح آج ہے اور یہ آپکی نئی فیملی کی طرف سے آپکو سر پر ائز ملا ہے"

علیحہ کی ساری بات تحمل سے سنے جلال اسے رحم طلب نگاہوں میں لے گیا، یہ بیچ میں سر پر گرنے والا سر پرائز ہی تھا۔

" یہ تم سب اپنے اپنے پارٹنر کے ساتھ بزی کیوں نہیں رہتے ہو کہ ایسی خرافاتی سوچیں آتی ہیں۔ میں شادی نہیں کر سکتا۔ گائز میری لائف ایسی نہیں ہے تم سب میری فکر کرتے ہو پر شادی نہیں چاہتا نہ مجھے ضرورت ہے۔ پتا نہیں کسی بچاری کو زدو کوب کر کے تم لوگوں نے میرے لیے چنا۔۔۔۔"

جلال کی بیچارگی عروج پر تھی تو باقی سب نے یوں تاثر دیا جیسے ایک کان سے سن کر وہ سب دوسرے سے نکال باہر کر رہے ہیں۔

خیال رکھو بر خوردار ! کہیں نکاح ہوتے ہی ہماری ابرش نہ تمہیں زدو کوب کر ڈالے۔"

اس بار بدر منصور نے چھیڑ اتو جلال بخت بچار ا سا منہ لے کر رہ گیا اور باقی سب ہنستے نظر آئے ، انیہ اور زالے اندر دلہن کے ساتھ ہی تھیں جو بہت ہی خوبصورت کورین دلہن ہی بنی تھی، وائیٹ گاون ڈریس کے ساتھ ، جو گلے سے تھوڑا سا وائیڈ تھا جبکہ بازو ساری نیٹ کی تھیں، وہ سچ میں بہت ہی خوبصورت دلہن لگ رہی تھی۔

" آپ بھی اپنے پارٹنر میں بڑی ہوں، میں بس یہ چاہتی تھی۔ وہ دن دور نہیں جب آپ اس پر مجھے شاباش دیں گے ۔ وہ آپکی زندگی کے بارے کافی کچھ جانتی ہے۔ پھر بھی آپ سے شادی کے لیے تیار ہے تو اسے اللہ کا فیصلہ سمجھ لیں بھائی۔ میں آپکو اکیلا نہیں دیکھ سکتی۔ اب تو ہر گز نہیں جب خود آلین کے ساتھ بہت خوش ہوں "

جلال کی اب بھی اعتراض کی کاوشوں کو مد نظر رکھتے علیحہ نے ہی اک بار پھر جلال کو قائل کرنے کی کوشش کی اور سبکو محسوس ہوا جیسے سچ میں وہ ہوا بھی ہے۔

"ہاں تا کہ تم ہمارے بیچ کباب کی ہڈی نہ بنو۔ میرا مقصد تو یہ تھا"

اب ماحول سنجیدہ تھا تو آلین نے بھی سنجیدہ گفتگو میں شرارت گھول دی، سب مسکرادیے اور جلال بس اک آس و تاسف بھری نظر آلین پر ڈال کر رہ گیا

تم سب نے قسم اٹھارکھی ہے۔ نہ جیواں گے ناں جین دیاں گے۔ اچھا ٹھیک ہے پر اس لڑکی سے مجھے خود پوچھنا ہے ، اگر اس نے کہا اسے اعتراض ہے تو یہ شادی نہیں ہو گی۔ اور اگر وہ میرے بارے میں سب جاننے کے بعد بھی شادی پر آمادہ ہوئی بس تبھی یہ نکاح ہو گا"

آخر سب کی خوشی کا خیال رکھتے جلال نے اپنی تشفی کا معاملہ بھی سامنے رکھا، سب سوچ میں ڈوبے پر پھر فیصلہ جلال کے حق میں ہوا۔

ارمان اور ذیشان نے اپنی والفز کو روم سے باہر بلوایا اور تبھی جلال کو خود ابرش سے بات کرنے کے لیے اندر روم میں روانہ کیا گیا کیونکہ کچھ دیر میں گیسٹس آنے والے تھے۔۔

جلال کے اندر جاتے ہی سب تھوڑے متفکر تھے کہ یہ آدمی نجانے اندر جا کر کیا کہہ دے، جلال نے اندر داخل ہوتے ہی کمرے میں موجود اس لڑکی کو دیکھتے قدم اسکی طرف بڑھائے جو دلہن بنی آنے والے کو دیکھتی چہرے

کے خدو خال میں گھلتی گھبراہٹ چھپانہ سکی تھی، ایک ہفتے پہلے ابرش نے جلال کو انٹر نیٹ پر سرچ کیا تھا، اسکی مختلف ایپس پر آئی ڈی ڈھونڈی پر تصویروں میں نظر آنے والا جلال بخت اور یہ انسان یکسر الگ تھے ، وہ بلا شبہ ایک پر کشش انسان تھا پر ابرش نے امید نہیں کی تھی کہ عمر میں جلال اس سے اتنا بڑا ہو گا ، وہ پھر بھی ابرش کو نا منظور نہ تھا۔

ان سب نے زبر دستی کی تمہارے ساتھ ؟"

پہلا سوال ہی پاس رک کر ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں دھنسا کر ابرش کے چہرے کے تاثرات کا تفصیلی جائزہ لیتے کیا تو ابرش نے جلدی سے نفی میں سر کمایا۔

چالیس سے اوپر کا ہوں میں اور تم ؟"

جلال کا لہجہ زر ا سنجیدہ تھا، ابرش کے تاثرات سے بدلے۔

" انیس سال کی ہو جاوں گی جلد "

ابرش نے نے نظریں واپس نیچے کر لیں جبکہ جلال کو اسکی خوبصورتی سے زیادہ اسکی نظریں جھکائے رکھنا متوجہ کر رہا تھا، یا وہ نظریں اٹھاتی بھی تو اس مضبوط آدمی کی گردن ، شانے یا سینے تک اٹھا پاتی۔

انتہائی غیر مناسب ہے ہماری شادی ، تم مان کیسے گئی بولو ؟"

اب کی بار جلال کو تھوڑا غضب چڑھا۔

"میرے چچا میری شادی ستر سال کے بوڑھے انکل سے کر دیتے ، علیحہ آپیا نے تو مجھے بر وقت بچالیا۔ انہوں نے کہا آپ بہت اچھے ہیں، تھوڑے بڑے

ہیں پر دنیا کے بیسٹ انسان۔ آپکو کیا میں پسند نہیں آئی؟"

پھر سے نظریں زیرک کیسے ہی ہاتھوں کو نرو سنیں سے مسلتی ابرش نے سوال پر بات رو کی۔

" مجھے بھی بوڑھا ہونے میں زیادہ ٹائم نہیں۔ پھر مجھ سے بچنے کے لیے کیا کرو "گی

سوال تھوڑا عجیب تھا پر ابرش کو محسوس نہ ہوا۔

" نہیں جانتی پر آپ مجھے اچھے لگے ، اور جو انسان اچھا لگ جائے یا دل کو بھا جائے اس سے جڑا کچھ بھی پریشان نہیں کرتا"

وہ ایسے جواب کی امید نہیں رکھتا تھا تبھی تو جلال کچھ لمحے کچھ بول نہ سکا، وہ اسکی گردن، اسکے بال جو سیاہ اور کچھ سنہری جھلک دیکھا رہے تھے ، اسکا پورا ڈریس، اسکی جھکی آنکھیں سب فرصت سے دیکھ کر نرم سنجید گی میں مبتلا تھا۔

" میرے جوانی کے عروج سے اب تک کئی ناجائز تعلقات رہ چکے ہیں۔ ناجائز تعلق تو سمجھتی ہو گی ناں۔ بنا کسی رشتے لڑکیوں کے ساتھ سویا ہوں، ناجائز تعلق بنائے۔ اس کے بعد تو تم ہوش ضرور کرو گی۔ دیکھو میں تمہاری شادی بہت اچھی جگہ کروادوں گا، تمہارے چچا کو مہلت نہیں ملے گی

تمہاری زندگی خراب کرنے کی۔ کوئی تمہارا ہی ہم عمر یا کچھ سال بڑا لڑکا ڈھونڈوں گا۔ "

ابرش کے اندر اٹھتی کیکی اس نے مہارت سے دبالی پر اس بار وہ آنکھیں اٹھانے میں کامیاب تھی، سیاہ خوبصورت اداس آنکھیں، جلال کچھ لمحہ بے چین نظر آیا۔

" کوئی ناجائز اولاد بھی ہے آپکی ؟"

ایک بار پھر امید سے الٹ سوال

نہیں۔ لیکن میں بیوی کے لائق آدمی نہیں ہوں۔ میں فیملی سپور ٹیو انسان نہیں۔ میری ماں میری حرکتوں اور عادتوں سے بہت دیر پہلے ہی مر چکی ہوتی پر علیحہ کے سبب وہ اتنے سال جی لیں، بس تبھی علیحہ کا کہا میرے لیے حکم ہے لیکن میں تمہاری زندگی خراب کر دوں گا ابرش۔ اس لیے اپنے حق میں خود فیصلہ لو اور ایسا لو کہ تمہارا ذہنی سکون بنے "

جلال نے اسے بھر پور فکر جتاتے سمجھایا پر وہ بس خاموشی سے جلال کو دیکھتی رہی۔

"میر اول کسی ہم عمر یا کچھ سال بڑے لڑکے سے شادی پر بھی کبھی آمادہ نہیں ہو گا۔ بلکہ میں شادی ہی نہیں کروں گی کبھی "

ابرش نے کہہ کر واپس نظر جھکالی، جلال کا سر گھوم گیا۔

واٹ ا لیکن ایسا کیوں کرو گی ۔ تم ابھی بچی ہو۔ تمہاری لائف میں بھی وہ سب آئے گا جو ہر لڑکی کی زندگی میں آتا ہے۔ ادھر دیکھو ابرش میری طرف"

وہ منہ پھیر گئی تبھی جلال نے اسے بازو سے پکڑے جب اپنے سامنے پلٹائے دوسری بازو بھی پکڑی تو وہ بے اختیار ہی جلال کے قریب آگئی اور ستم کہ جلال کو اس نزدیکی سے فرق پڑا۔

" میں پچھلے کئی دنوں سے خود کو آپکی امانت سمجھ کر جی رہی تھی، تھوڑا انس ہونے لگا تھا۔ ایسے میں آپ مجھے اپنے رنگین ماضی کا بتائیں گے اور میرے ہی ہو کر مجھے کسی اور سے شادی کی ترغیب دیں گے تو کیا مجھ سے برداشت ہو گا؟"

ابرش کے لہجے اور آنکھیں دونوں نمی کی زد میں تھیں جبکہ جلال تو " میرے " پر ہی پتھر بن گیا، کس قد حق جم گئی تھی وہ لڑکی پہلی ہی ملاقات میں۔

ابھی ہمارا نکاح نہیں ہوا۔ میر افرض ہے تمہیں ہر چیز و سچائی سے خبر دار کرنا۔"

جلال کو بات کرنے کے لیے سوچنا پڑا، وہ سامنے تھی، قریب تھی۔ دلہن بنی تھی۔

" آپ اگر وعدہ کریں کے بقیہ زندگی اپنا ہر تعلق مجھ سے جوڑیں گے ، میں آپکے گندے ماضی کو بھول جاوں گی "

وہ بہت بڑا دعوی کر رہی تھی۔

" یہ آسان نہیں ہو تا۔ تم نا سمجھ ہو ابھی "بھاری گھمبیر لہجہ گریز کی چاشنی سے لپٹا تھا۔ جلال نے اسکی بازووں کو ہاتھوں کی گرفت سے آزاد کیا اور فاصلہ سمیٹ گیا۔

" جتنی سمجھ جینے کو چاہیے اتنی تو ہے ہی۔ آپ تو بہ کر لیجئے گا۔ اللہ بھی معاف کر دیتا ہے تو پھر بندوں کی کیا ویلیو ؟"

" بیوی کی بہت ویلیو ہوتی ہے۔ وہ اپنے شوہر کے ماضی سے تا عمر جھلستی رہتی ہے۔ میرے بابا بھی ایسے ہی تھے ، مجھ سے ہزار درجہ برے۔ میری ماں

جیسے جلی سلگی میں اسکا اللہ کے بعد دوسرا گواہ ہوں۔ بابا ہر روز نئی عورت کے ساتھ سو کر آتے اور میری ماں ہر روز مرتی۔ میں کچھ سمجھدار ہوا تو انکا بابا سے رشتہ تڑوانے کی جد و جہد کرنے لگا، ایسا نہیں تھا وہ امی سے پیار نہیں کرتے تھے ، بس وہ گندی خصلت کے مالک تھے۔ جب میں نے امی کو طلاق لینے پر مجبور کیا تو بابا نے توبہ کر لی وہ اب کسی غیر عورت کو چھوئیں گے

نہیں۔ میں اسکا بھی گواہ ہوں کہ پھر بابا سچ میں صرف امی کا بن کر رہے لیکن میری ماں کی تکلیف میں انکا سدھرنا کمی نہ لا سکا۔ بابا یقین دلاتے دلاتے دنیا سے چلے گئے ، جب علیحہ مجھے ملی تھی ہم بابا کی موت کے دکھ میں گرے تھے۔ میری ماں مر جاتی اگر مجھ سے بد بخت بیٹے کے سہارے ہوتی لیکن انکی کچھ زندگی لکھی تھی کہ علیحہ کو ہمارے پاس بھیج دیا۔ تبھی کہہ رہا ہوں تم بھی تکلیف محسوس کرو گی۔ جب جب میرے قریب آوگی میرے کیسے اعتراف جرم تمہیں نوچ لیں گے۔ تو ابھی وقت ہے سنبھل جاو"

وہ اپنی زندگی کی پوری کہانی کھڑے کھڑے سمیٹ گیا اور ابرش کتنی دیر اس پر سے نظریں نہ ہٹا سکی، وہ انسیت جو منگنی کے سبب تھی، یکدم کسی نئے جذبے میں بدلی۔

" میں آپکے قریب آکر کوشش کیا کروں گی بس آپ کو ہی یاد رکھوں۔ باقی ساری دنیا بھول جاوں۔ مجھے اپنی زندگی کی مختصر سہی پر کہانی سنا کر آپ نے تھوڑا تو اپنایا ہے ، اور یوں تھوڑی سی اپنائی جاتی لڑکی کو آپ کسی اور قابل تو نہیں چھوڑ رہے ناں۔۔ "

ابرش کے لہجے میں آس تھی، جلال حیرت کا شکار تھا مگر نہیں وہ پریشانی تھی کہ یہ لڑکی آنکھوں دیکھی مکھی کس دل سے نکلنے پر آمادہ ہے۔

" میں نے تمہیں نہیں اپنایا۔۔ بس سمجھا رہا ہوں "

وہ اپنانے والی بات پر عجیب سے انداز میں جھٹلا گیا تو وہ بے رنگ سا مسکرائی۔

مجھے سمجھ نہیں آرہی آپکے سامنے کوئی بات۔ آئی لائک یو"

وہ اعتراض و گریز جھنجھلائے ہی سمیٹ گئی، جلال کے پاس کوئی حرف نہ رہا، الٹا وہ اس لڑکی کے بات سمیٹنے کے انداز پر مضطرب ہوا۔

" ابرش!"

وہ خفیف سی خفگی میں مبتلا گھورا۔

"شادی کر لیتے ہیں "

وہ باز نہ آئی۔

"‏رہی میری بات۔۔ "

‏تم سمجھ نہیں

اب کی بار غصہ تھا جلال کی جلالی آنکھوں میں۔

" مجھے کچھ نا جائز کرنے پر مجبور کر رہے ہیں اب آپ۔۔۔"

ابرش نے جس طرح جواب دیتے بے بسی عیاں کی جلال کو لگا اب یہاں سے نکلنا ہی سیو ہے۔

واٹ ! کیا کر لو گی تم ۔۔۔ ہو کتنی اور بات دیکھو اپنی بد تمیز "

جلال کا پارہ چڑھا۔

" آپ میر ا موجود ہونا نہیں دیکھ رہے تو مجھے اپنی بات کہاں نظر آئے گی۔ میں نے بنا سوچے کہہ دیا سوری۔۔ میں آپکو کھونا نہیں چاہتی۔ دور سے اچھی نہیں لگی تو شاید قریب سے لگ جاؤں "

ابرش نے افسردہ ہوتے ہی رخ بدلنا چاہا جب وہ اسکے فیصلے پر پلٹنے کا خیال ترک کرکے تھم سی گئی۔

" میں تم سے شادی کر رہا ہوں۔ تمہارا گناہ گار ہو نا برداشت نہیں کر پایا "

جلال کہہ کر رکا نہیں اور روم سے نکل گیا پر ابرش پر ضرور صدمہ اتار گیا، جبکہ باہر سب جلال کے سپاٹ چہرے کو دیکھ کر زرا خوف زدہ نظر آئے مگر جلال نے جب سکو شادی کرنے کا بتایا تو گویا خوشی کی لہر سی ہر طرف دوڑ گئی۔

لیکن پورے ایونٹ کے بیچ جلال اور ابرش میں بات نہ ہوئی پر وہ دو سب کی خوشی پر ضرور مسکراتے نظر آئے۔

رسموں وغیرہ میں زیادہ ٹائم ویسٹ نہ کرتے جلال بخت کے ساتھ ابرش کو رخصت کیا گیا کیونکہ اب جلال کا گھر تو بدر اور نادیہ کا گھر تھا تو ابرش و ہیں رخصت ہوئی تھی۔

علیحہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا جب وہ لوگ بارات کو سی آف کرے واپس جاہ مینشن کے اندر آئے ، سب تھک بھی چکے تھے پر خوش بھی تھے۔

کل ولیمے کے بعد زالے کی بھی ذیشان کے ساتھ اسلامہ آباد رخصتی والی روانگی تھی اور انسیہ ارمان کی بھی۔

لیکن ابھی بھی آلین اور علیحہ کا دل نہیں بھر اتھا چاروں سے پر کیا کرتے ، سب کے کام کاج اور دھندے بھی اہم تھے۔

اف ذیشان ! میں نہیں کر رہی ٹیسٹ "

وہ لوگ ارمان اور انسیہ کے روم میں جاتے ہی خود بھی روم میں آئے پر زیشان اسے پریگنسی ٹیسٹ کرنے پر مجبور کرے تنگ کر رہا تھا۔

‏ پلیز ناں ! میری تسلی کے لیے کر لو۔"

وہ اسے عقب سے بازووں میں بھرے قائل کرنے میں لگا تھا جب زالے نے گھبر اگر آئینے کے عکس سے ہی ذیشان کو پریشان ہوتے دیکھا۔

" آپ کیوں اتنے پاگل ہیں۔ دو ہفتے میں کونسی پریگنیسی شو ہوتی ہے ذیشان ؟"

اب کی بار پیار سے سمجھایا گیا۔

" رئیر کیسیز میں ہو جاتی ہے۔ تم میرے لیے اتنا نہیں کر سکتی؟ ویسے بھی ہفتے سے ڈبل او پر دن ہو گئے ہماری شادی کو اب "

وہ اتنا چی تھا ہر معاملے میں کہ زالے بس انکار کا سوچ ہی پاتی ، کرنا مشکل تھا۔

اور اگر پازیٹو آ گیا ٹیسٹ ؟ میں صدمے سے مرور گئی تو ؟"

زالے کا دل سوکھے پتے سا کانپ رہا تھا۔

" مجھ سے قہر سے نہیں مری تم۔۔ یہ نیوز تو ویسے بھی زندگی جیسی ہوتی ہے۔ تمہیں کیوں لگتا ہے زالے کہ میں تمہیں آنچ بھی آنے دوں گا۔ تم جانتی نہیں یہ سب کسی شرط کی وجہ سے نہیں ہے بس اس باپ بننے کے

احساس کے لیے ہے جو پہلی خواہش بنا تھا میری تمہیں پاتے ہی۔ میں تم سے مزید کنکٹ ہونا چاہتا ہوں۔ بہت زیادہ "

زالے کا دل جو ڈر رہا تھا، مسکر اسا دیا، وہ اسکے لیے اتنا ہر صورت کر سکتی تھی۔

" اوکے میں ٹیسٹ کرتی ہوں پر آپ مجھے اکیلا چھوڑیں اس کے لیے پلیز ۔ "

زالے مان گئی تو زیشان نے اسکی گال چومتے فورا آزاد کرے اجازت دی کہ وہ خود ہی ذیشان کی خوشی پر بلش کرتی وہاں سے چلی گئی۔

پانچ منٹ میں زالے نے اپنا کام کیا مگر باہر انتظار میں چکر کاٹتے زیشان کا تو پتا نہیں ، زالے کا دماغ ضرور الٹا کیونکہ پر ٹینیسی سٹرپ پر ایک لائن تو پیور ریڈ تھی پر دوسری اتنی لائیٹ پنک کے بمشکل غور کرنے سے نظر آرہی تھی اور اس سٹرپ کے پیک پر لکھا تھا اگر دوسری پنک لائن ہے تو ٹیسٹ دوبارہ کریں۔ زالے کا دماغ الجھا۔

اب یہ کونسی دنیا کا رزلٹ آگیا۔ نہ ہاں میں نہ ناں میں ۔ "

زالے نے سٹریپ اٹھائی اور الجھن حل کرنے وہ روم میں آئی، ذیشان فورا اسکی طرف آیا۔

ذیشان ! یہ تو عجیب سارزلٹ آیا ہے۔ اسے نو سمجھیں پالیس؟"

ذیشان کو وہ سٹرپ دیکھاتی معصومیت سے منمنائی تبھی ذیشان بھی حیرت بھرا مسکرایا۔

یہ تو بیچ میں لڑکا یا تم نے مجھے نکمی۔ چلو ہم ہوسپٹل چل رہے ہیں۔ تمہارا بلڈ ٹیسٹ کروانا ہے مجھے ابھی "

ذیشان نے فورا سے فون اور گاڑی کی چابی اٹھائی پر زالے کو وہیں صدمے سے جما دیکھے رکا۔

اس وقت ؟ ذیشان بہت نیند آرہی ہے۔ کل چلتے ہیں پلیز"

رونا بس آنکھوں تلک امڈ آیا تھا۔

" ابھی اور اسی وقت۔ میں ساری رات تم پر رومنٹک ظلم ڈھاوں گا اگر منظور ہے تو نہیں جاتے "

ذیشان کے پاس آلسی بنی زالے کو ٹھیک کرنے کے لیے دھمکیوں کی کمی کہاں تھی ، زالے کا دل لرزا ۔

" جاتے ہیں۔ میں زرا اسے پھینک آوں اور ہاتھ دھو کر آتی ہوں "

زالے جلدی سے جان چھڑوا کر بھاگی تو ذیشان ہنس دیا، تھوڑا اپنی جذباتی حرکتوں پر ایکسائیڈ بھی تھا۔

خیر آدھے گھنٹے تک وہ ہوسپٹل تھے ، بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ ویسے تو دو گھنٹے بعد ملتی تھی مگر ذیشان نے ریکوسٹ کی کہ انھیں زرا جلدی ہے تبھی جیسے ہی رپورٹ کی ریڈنگ آن لائن آئی، اسے مل گئی جسے وہ ڈاکٹر کو دے آیا تھا جو پانچ منٹ میں آنے کا بول چکی تھیں۔

زالے اندر روم میں ہی میٹرس پر بیٹھی تھی ، کافی نروس بھی تھی۔

" ذیشان ! مجھے ڈر لگ رہا ہے "

پاس بیٹھے ذیشان کا ہاتھ تھامے وہ با قاعدہ کا نپتی محسوس ہوئی تبھی تو محترم نے بازو گر د حصار کر اپنے ساتھ لپٹایا۔

" کیوں جاناں ! سوچو اگر رپورٹ پازیٹو آتی ہے تو تمہارا کیا ہو گا۔ تم پر اتنا پیار لٹاوں گا کہ خود میں گھول لوں گا۔ سہہ لو گی میر امزید پیار ؟"

اس وقت وہ آفت بچاری کو مزید ستانے پر تلا تھا جسکی پلکیں عجیب سے احساس نے نم کیں

" اگر پازیٹو آتا ہے سب تو پلیز کسی سے نہیں کہیے گا ابھی۔ میں نے شرم سے مر جانا ہے ذیشان۔ میں ریکوسٹ کر رہی ہوں "

وہ سینے میں سمٹ کر بھاری سانس لینے لگی تبھی ذیشان نے اسے خود میں بھر پور سا سمیٹا۔

تم حکم کر سکتی ہو۔ ریکوسٹ کا سوچنا بھی مت۔ اب ر تلکس ہو جاو۔ یہ سب نیچرل ہے۔ ہر لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے۔ تم تو میری ایکسٹر ابہادر جان ہو تو میری طرح ایکسائیڈ ہو جاو شاباش "

وہ لاکھ سمجھا لیتا، لاڈ جتا لیتا، وہ ابھی ٹھیک نہیں تھی اور رہی سہی کسر رپورٹ لے کر آتی ڈاکٹر نے پوری کی۔

ذیشان نے زالے کو زرا خود سے دور کیا اور اٹھا تبھی ڈاکٹر گھبرائی زالے اور ذیشان کے پاس آر کی تھی ، زالے نے سختی سے ذیشان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھا جیسے ابھی ڈاکٹر ہاں کہے گی اور زالے کی جان نکل جائے گی۔

باڈی ایزی ٹو کنسیو تھی انکی اور وقت بھی بہترین تھا، یہ امید سے ہیں۔ کئیر کریں ایکسٹرا کیونکہ ابھی سٹارٹ ہے۔ بہت مبارک ہو آپ دونوں کو ۔ "

ڈاکٹر نے جب یہ خوشی کے لفظ کہے ، زالے کی ذیشان کے ہاتھ پر جمی گرفت ڈھیلی پڑی، ذیشان اپنی بے قابو خوشی سنبھالے ڈاکٹر صاحبہ کا شکر یہ ادا کیے انکے روم سے نکلتے ہی زالے کی طرف متوجہ ہو ا جو ذیشان کے بیٹھتے ہی اسکے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رودی۔

یہ رونا میرے ایکسٹر اپیار کو سہنے کی وجہ سے ہے زالے؟"

اس لڑکی کے نرم و ملائم وجود کو اپنے مضبوط سینے میں چھپائے ذیشان نے اسکے رونے میں شدت خود میں بھینچتے کم کی اور سوال بھی دلچسپ پوچھا تھا۔

ن۔۔ نہیں۔ اپنے وجود سے جڑی آپکی اک اور خواہش کی تکمیل رلا گئی مجھے۔ ی۔۔ یہ سچ میں ہو گیا ذیشان۔۔۔۔م۔۔ میں ۔۔۔؟"

وہ روتی روتی بدحواس ہوئی تو ذیشان اسے روبر ولایا، ٹوٹ کر پیار آ رہا تھا۔

ہاں ناں۔۔ سچ میں کر دیکھایا آپن نے۔ اب سینہ تان کر ان دو کو کہہ

سکوں گا میں بھی بابا ہوں۔۔۔"

وہ اسکے ارادوں پر اور سہی۔

" خدا کے لیے ذیشان۔ کچھ ویک تک نہیں پلیز۔۔۔ مجھے مارنا چاہتے ہیں

آپ ؟"

زالے کی آواز گلے میں بیٹھی۔

"ہاں۔ اپنی محبت سے ۔۔۔۔"

ذیشان نے اسکی ناک چومتے چھیڑا۔

" پلیز ناں"

وہ منت کر اٹھی۔

آجاو واپس چلیں۔۔۔ تمہیں انرجی کی ضرورت ہے "

ذیشان نے اسکو کمر میں ہاتھ لیٹے اٹھایا تو وہ انرجی والی بات پر خوفزدہ ہوئی۔

"م۔۔ مجھے تنگ نہیں کریں"

وہ بے قراری سے بولی تو زیشان نے اسے اپنے گلے لگایا، وہ ٹوٹی شاخ سی اسکے وجود میں سمٹ گئی۔

بہت کروں گا اس بچے کے آنے تک۔۔۔ "

زیشان نے قسم اٹھار کھی تھی کبھی نہ سدھرنے کی ، وہ لوگ گاڑی تک آئے تو ذیشان نے خوشی سے چمکتے ہوئے اپنی ہلکان حسینہ کے لیے کار ڈور اوپن کیا اور پھر اسے بٹھائے خود بھی دوسری طرف سے آکر تشریف رکھی۔

وہ اب تک روہانسی، رونے والی شکل بنائے جب سیٹ بیلٹ فکس کر رہی تھی تو ذیشان نے اسکی بازو پکڑتے اٹھا کر اپنی طرف کھینچا تو زالے ذیشان پر جھک آئی، آنکھیں اب بھی شکوے سے لبریز تھیں۔

یہ کیا کر دیا آپ نے میرے ساتھ ؟"

زالے کی آنکھیں پھر سے بھیگیں۔

" وہ جو تم نے اچانک میری زندگی میں آکر ہلچل مچائی، مجھے دیوانہ کیا اپنا۔ یہ اسکار یونج ہے جاناں۔ میں تمہیں کبھی نہیں بتا سکتا کہ میں تم سے کتنا خوش ہوں۔ وہ لفظ ہی نہیں بنے جو میرے اس زالے نام کے سکھ کو بیان کر سکیں۔ ہم اس بے بی کو بی جی کے سپر د کرے اپنی زندگی جلد نارمل کر لیں گے تم گھبر انا مت۔ نہ تمہار ا ڈا کٹر بننے کا خواب ایفیکٹ ہو گا اس سے۔ بس میں تم سے تا عمر کے لیے مزید کنکٹ ہو گیا اسکی خوشی افف۔۔۔ میری جان ! میں تم سے آج جا کر کچھ بھر اہوں۔۔ لیکن مکمل بھروں گا یہ کبھی سوچنا بھی مت "

زالے کے سارے ڈر ، خدشے ، گھبراہٹ ذیشان کے ہونٹوں کا اک بھر پور لمس سمیٹ گیا، جو زالے کو اپنے اندر تک زائقے اتار تا محسوس ہوا، وہ اسکے ہر طرح کے چھونے پر بس ہیل کرتی تھی، کچھ بولنا مشکل تھا تبھی اسکے سینے میں سمٹ کر رہ گئی۔

بدر اور نادیہ کی ڈھیر دعائیں اس نئے کپل کو ملی تھیں، ابرش کو وہ خود کمرے میں چھوڑ کر آئی تھیں پر وہ کافی زیادہ نروس تھی تو واپس آکر بدر کو اشار تاکہا کہ جلال کو روم میں بھیجیں کیونکہ وہ بدر صاحب سے گپیں لگانے میں بزی تھا، ابرش تو جہاں ڈریسنگ کے سامنے کھڑی تھیں وہیں جمی تھی جب دروازے پر آہٹ پر گھبر اکر پلٹی، جلال بخت اپنی پر کشش پرسنالٹی اور مخصوص سنجیدگی کے ہمراہ اندر داخل ہوتے ہی ابرش پر اک بھر پور نگاہ ڈالنا نہ بھولا ۔

پر وہ اتنی کنفوز اور گھبرائی تھی کہ جلال نے اپنا کوٹ اتار کر ہینگ کرنے کے بیچ نگاہوں کا زاویہ و شدت دونوں بدلیں اور بنا کوئی بات کیسے شرٹ کی آستینیں کھول کر کف چڑھائے فون لیے صوفے پر جا بیٹھا جیسے تھک گیا ہو۔

ابرش اسکے مخاطب نہ کرنے پر مزید اسی جگہ گڑ گئی کیونکہ جلال ایک ہاتھ سے سر کے بال سنوار کر فرصت سے فون پر بزی تھا جیسے بہت ہی اہم کام کر رہا ہو۔

کچھ دیر تو ابرش نے یہ خاموشی اور لا تعلقی سہہ لی اور پھر اپنا ہیوی ڈریس سنبھالتی وہ بیڈ کر اس کرے کا وچ کے ساتھ سے ہوتی ہوئی واش روم جاتے جاتے رکی اور کاوچ کے پاس رک کر اک بار پھر جلال کو دیکھا۔

" مجھے دیکھا بھی نہیں انہوں نے ، کیا فائدہ میرا اپھر سجے سنورے رہنے کا "

دل مسوس لیتی وہ جانے لگی پر جلال نے فورا گردن اٹھائی پر جب ابرش پلٹی ، وہ چالا کی سے دھیان واپس فون پر جما گیا، ابرش کو لگا اک کوشش خود بات کرنے کی کر لی جائے۔ " میں نے کچھ کہنا ہے "

وہ اسکو دیکھتی صوفے کی بازو پر بیٹھی جو کاوچ پر آرام دہ انداز میں بیٹھا فون سکرول کر رہا تھا، سرسری سی نظر ابرش پر ڈالی پر تب بھر پور دیکھنے پر مجبور ہوا جب وہ صوفے کی مخملی بازو سے سلپ ہوتی جلال کے ساتھ گرتے ہوئے آ بیٹھی ، اس مومنٹ پر جلال کی آنکھیں ابرش کی گھبراہٹ پر زرا مسکرائیں۔

" مجھے کچھ کہنے کے لیے وہ جگہ بھی مناسب تھی پر یہ بھی اچھی ہے "

جلال نے فون غیر ضروری چیز کی طرح سامنے رکھا اور جان بوجھ کر ابرش کی طرف کھسک کر بیٹھا تو وہ فورا اسکی بازو کے ساتھ آگی - "کہو"

جلال نے اسکے چہرے کی طرف جھکتے اپنے اک قہر جیسے لفظ پر زور دیا تو اسکی قربت پر ابرش کا ما تھا اتنی ٹھنڈک کے باوجود عرق آلود ہوا۔ " آپ ک۔۔ کچھ پوچھ لیں۔ مجھے میری بات بھول گئی "

بمشکل سمٹی سانسیں کھینچے ابرش نے بات بنائی، جلال محظوظ ہوا۔

" اچھا یہ بتاو تم نے جب کہا کچھ نا جائز کر بیٹھوں گی۔ اس ناجائز میں کیا چھپا تھا، بگ یا کس ؟"

اس سوال سے بہتر تھا کہ وہ دم دے، سرخیاں چھوڑ کر اندر بر پا حشر کی خبر جلال کو دے دیں۔

"استغفر اللہ ! میں تو مکا مارنے کا سوچ رہی تھی۔۔۔۔ وہ تب نا جائز ہی تھا

ناں" اسکی ہانپتی جوابی کاروائی پر کھل کر مسکرایا جو بات بنانے کے چکر میں بگاڑ بیٹھی۔

میں کچھ جائز کرنے کا سوچ رہا ہوں "

جلال کی نظریں ابرش کی گردن پر سر کیں پھر اسکے گلابی ہونٹوں پر آر کیں ، گلا اسکے ڈریس کا ڈیپ نہیں تھا پر وائیڈ بوٹ شیپ تھا جس سے اس لڑکی کی گردن کا بھر پور حصہ آویزاں تھا۔

"ک۔۔ کیا ؟"

ابرش نے اپنے بال کانوں کے پیچھے ارسائے تبھی جلال نے ہاتھ بڑھا کر اسکا چہرہ ٹھوڑی سے اٹھائے انگوٹھے کی پور نیچلے لپ سے مسل کر لپ سٹک مٹائی ، ابرش سانس روک کر رہ گئی ، تب تک سانس رکا رہا جب تک اسے رہا اپنے زیریں ہونٹ پر جلال کا استحقاق جذب ہو تا محسوس نہ ہوا، بقیہ لپ سٹک تو باہمی نرم قربت کی بھینٹ چڑھی ، وہ نرمی روا ر کھتے ہی شدت بڑھنے تو با پر خود دور ہو ا تو ابرش کا ہاتھ جلال کی شرٹ کے گریبان تک بے اختیار جکڑا گیا، سانسیں منجمد ہوئے جلال کی ایسی قربت پر دہائی دیتی محسوس ہوئیں اور اس لڑکی کو یہ نیا احساس دل و جان سے شرطیہ بہاراں کرنے کا موجب تھا۔ " جاو سو جاو"

جلال نے اسکا ہاتھ پکڑے خود سے دور ہونے دیا اور فون واپس اٹھالیا۔

ابرش نے اسکے فون کو جھپٹ کر دوسری طرف میز پر رکھ دیا، اسے بر الگا۔

" سو جاو جا کے ابرش"

وہ اس بار خفا ہو اتو وہ جلدی سے اسکے سامنے گھوم کر بیٹھی۔

"میری ڈریس کی ہک کھول دیں "

جلال کے ہاتھ بے قابو ہو جاتے اسی ڈر سے وہ اسے چھو نہ رہا تھا مگر جب وہ سامنے بیٹھی بال گردن سے ہٹا گئی تو جلال کو اسکی ڈریس کی ہک کھولنئی پڑی، ابرش چپ چاپ سامنے سے اٹھ کر چلی گئی کے جلال کو اپنا دھیان بھٹکانے کے لیے فون یوز کرنا پڑا۔
💖💖💖

امید ہے آپ سب کو سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ پسند آئی ہوگی-❤️🥰

Address

Indus Labour Colony Site Area Hyderabad
Hyderabad

Telephone

+923173228841

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when S s merwa Mirza posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Club

Send a message to S s merwa Mirza:

Share