25/04/2025
اسلام آباد کی رات کچھ عجیب سی خاموشی لیے ہوئے تھی۔ شہر کی روشنیاں مدھم ہو چکی تھیں، اور سرد ہوائیں درختوں کے پتوں کو ہلا رہی تھیں۔ زریان خان اپنی بلیک میں بیٹھا، نیشنل سیکیورٹی ہیڈکوارٹر کے باہر کھڑا تھا۔ وہ خاموشی سے اپنی گھڑی کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے کسی کا انتظار کر رہا ہو۔
"وہ آ رہی ہے۔" اس کے کان میں ایئرفون سے آواز آئی۔
"کیا وہ جانتی ہے کہ اسے کس لیے بلایا جا رہا ہے؟" زریان نے پوچھا۔
"نہیں۔ ہم نے بس اتنا کہا ہے کہ اسے ایک سیکیورٹی پروجیکٹ پر کام کرنا ہے۔"
چند لمحوں بعد، ایک سلور رنگ کی کار ہیڈکوارٹر کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔ گاڑی سے ایک لڑکی اتری، لمبے بال، آنکھوں میں ہلکی سی الجھن، ہاتھ میں لیپ ٹاپ بیگ۔
زریان نے پہلی بار آئمہ کو دیکھا۔ ایک عام سی لڑکی، لیکن اس کی آنکھوں میں ذہانت چھپی ہوئی تھی، جیسے دنیا کو پڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
خوش آمدید، مس آئمہ۔" زریان نے رسمی انداز میں کہا۔
"شکریہ۔ مگر مجھے اب تک واضح نہیں کہ میں یہاں کیوں ہوں؟"
"آپ کو بہت جلد پتا چل جائے گا۔" زریان نے مسکرا کر کہا۔
نائٹ شِفٹ بریفنگ
آئمہ کو ایک کانفرنس روم میں لے جایا گیا، جہاں دیواروں پر بڑی بڑی اسکرینز اور مانیٹرز لگے تھے۔ چار پانچ افراد وہاں پہلے سے موجود تھے۔ زریان نے ایک بٹن دبایا اور ایک خفیہ ویڈیو چلائی۔
"یہ ویڈیو 72 گھنٹے پہلے، خیبر پختونخواہ کے ایک دور دراز گاؤں میں ریکارڈ ہوئی۔"
ویڈیو میں کچھ مسلح افراد، ایک جدید ڈیوائس
تعارف زریان خان : 28 سالہ نوجوان، پاکستان کی ایک خفیہ انٹیلیجنس ایجنسی کا سینئر افسر۔ آئمہ سعید : 25 سالہ ہونہار کریپٹو اینالسٹ، جو سائبر ...