ہر کہانی ایک نئی دنیا

  • Home
  • ہر کہانی ایک نئی دنیا

ہر کہانی ایک نئی دنیا ہر کہانی ایک نئی دنیا۔
دلچسپ، خوفناک اور سبق آموز کہانیاں روزانہ پڑھیں۔

16/03/2026

میں دو ہفتوں سے نشہ چھوڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔

میرے اعصاب ایسے لگ رہے تھے جیسے کھلے زخم ہوں۔
ہر آواز… ہر خیال… برداشت سے باہر تھا۔

میری تھراپسٹ نے کہا تھا جب خواہش زیادہ ہو تو باہر جا کر چہل قدمی کرو۔

اسی لیے ایک رات میں برفباری کے دوران باہر نکل گیا۔

گلی بالکل سنسان تھی۔

برف کی وجہ سے ہر آواز دب گئی تھی۔

چند منٹ بعد مجھے تھوڑا سکون محسوس ہونے لگا۔

پھر اچانک دور کہیں سے کسی کے پاگلوں کی طرح ہنسنے کی آواز آئی۔

میں رک گیا۔

میں نے ادھر ادھر دیکھا… مگر سڑک خالی تھی۔

پھر وہ ہنسی دوبارہ آئی۔

اس بار زیادہ واضح۔

میں آگے بڑھا تو اسٹریٹ لائٹ کے نیچے کچھ حرکت نظر آئی۔

میں نے فون نکال کر زوم کیا۔

وہ ایک آدمی تھا۔

گنجا سر…
اور جسم پر صرف پتلا سا پاجامہ۔

وہ برف پر لیٹا ہوا تھا اور اپنے ہاتھ پاؤں ہلا کر سنو اینجل بنا رہا تھا۔

مگر عجیب بات یہ تھی کہ وہ کانپ نہیں رہا تھا۔

وہ ہنس رہا تھا… جیسے اسے سردی کا احساس ہی نہ ہو۔

میرا دل کہہ رہا تھا فوراً وہاں سے چلا جاؤں۔

میں خاموشی سے گزرنے لگا۔

مگر میرے بوٹ کے نیچے برف چرچرا گئی۔

ہنسی فوراً رک گئی۔

وہ آدمی ساکت ہو گیا۔

چند لمحوں بعد وہ پھر ہنسنے لگا۔

میں نے سکون کا سانس لیا اور آگے بڑھ گیا۔

مگر چند قدم بعد سڑک دوبارہ خاموش ہو گئی۔

میں نے پیچھے دیکھا۔

اب وہ آدمی اٹھ کر بیٹھا ہوا تھا۔

اور سیدھا مجھے گھور رہا تھا۔

اس کی آنکھیں حد سے زیادہ کھلی ہوئی تھیں۔

اور مسکراہٹ… غیر فطری حد تک لمبی۔

وہ بولا…

“تمہیں لگا میں نے تمہیں نہیں دیکھا؟”

میں فوراً دوڑ پڑا۔

میرے پیچھے برف پر ننگے قدموں کی آواز آنے لگی۔

اور اس کی پاگل ہنسی۔

میں جنگل میں بھاگ کر ایک جھاڑی کے پیچھے چھپ گیا۔

وہ بھی جنگل میں آ گیا۔

وہ آہستہ آہستہ چل رہا تھا… جیسے کھیل رہا ہو۔

پھر وہ بولا:

“چھپنا چھوڑ دو…
مجھے جعلی فرشتے بنانے سے بوریت ہو گئی ہے۔
آج ایک حقیقی فرشتہ بنائیں گے۔”

میں ایک گھنٹے تک وہیں جما رہا۔

آخرکار اس کے قدموں کی آواز دور ہو گئی۔

میں گھر واپس آیا اور پوری رات جاگتا رہا۔

دو ہفتے بعد پڑوسن نے بتایا کہ جنگل میں ایک لڑکی کی لاش ملی ہے۔

پولیس نے کہا منظر بہت خوفناک تھا۔

قاتل نے اس کی کمر کی جلد کاٹ کر اسے درخت پر پھیلا دیا تھا…

بالکل فرشتے کے پروں کی طرح۔

اس لمحے مجھے سمجھ آیا…

وہ آدمی برف میں کھیل نہیں رہا تھا۔

وہ مشق کر رہا تھا۔

16/03/2026

میں نے وہ کیبن اس لیے کرائے پر لیا تھا کیونکہ مجھے خاموشی چاہیے تھی۔
بریک اپ کے بعد ایسا لگ رہا تھا جیسے دنیا کی ہر آواز مجھے تکلیف دے رہی ہو۔

وہاں صرف برف تھی… درخت تھے…
اور ایک ہفتہ جس میں میں خود کو سنبھالنا چاہتا تھا۔

دوسری رات تک برفانی طوفان اتنا بڑھ گیا کہ وہ سڑک بھی غائب ہو گئی جس سے میں آیا تھا۔
کیبن کے باہر دنیا مکمل طور پر سفید دیوار بن گئی تھی۔

اگلی صبح جب میں نے دروازہ کھولا تو ہر چیز برف میں دفن تھی۔
فون میں سگنل نہیں تھا… ریڈیو صرف شور کر رہا تھا۔

اسی دوران میری نظر دور درختوں کے پاس کھڑے ایک سنو مین پر پڑی۔

وہ عجیب سا تھا۔
بغیر آنکھوں کے… بغیر چہرے کے… صرف برف کا ایک بے ڈھنگا ڈھیر۔

مگر سب سے عجیب بات یہ تھی کہ اس کے آس پاس کوئی قدموں کے نشان نہیں تھے۔

میں نے خود کو سمجھایا کہ شاید وہ پہلے سے موجود ہو گا اور نئی برف نے نشانات مٹا دیے ہوں گے۔

مگر رات کو بارہ بجے کے قریب اچانک کھڑکی پر ہلکی سی دستک سنائی دی۔

ٹپ… ٹپ… ٹپ…

میں بستر پر بیٹھ گیا۔
دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ مجھے لگا آواز باہر تک جا رہی ہو گی۔

میں نے خود کو سمجھایا کہ یہ صرف درخت کی ٹہنی ہے جو کھڑکی سے ٹکرا رہی ہے۔

مگر اگلی صبح جب میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا…
سنو مین پہلے سے زیادہ قریب کھڑا تھا۔

اب وہ درختوں کے بجائے کیبن کے آدھے راستے تک پہنچ چکا تھا۔

میں باہر گیا اور اس کے اردگرد گھوما۔

برف بالکل صاف تھی۔
کوئی نشان نہیں… کوئی راستہ نہیں۔

جیسے وہ خود چل کر آیا ہو۔

تیسری رات دستک دوبارہ شروع ہوئی۔
اس بار ایک کھڑکی سے دوسری کھڑکی تک۔

جیسے کوئی شخص آہستہ آہستہ کیبن کے گرد چکر لگا رہا ہو۔

میں نے ہمت نہیں کی کہ باہر دیکھوں۔

اگلی صبح سنو مین بالکل برآمدے کے قریب کھڑا تھا۔

اس کی شکل پہلے سے زیادہ سخت اور واضح لگ رہی تھی۔
اور اس کے اندر کچھ سیاہ سا دکھائی دے رہا تھا۔

غصے میں آ کر میں نے بیلچہ اٹھایا اور اس پر وار کیا۔

برف کا اوپری حصہ ٹوٹ کر گر گیا۔

اور اس کے اندر سے ایک چیز باہر گری۔

ایک اسکارف۔

سرخ دھاریوں والا…
بالکل ویسا ہی جیسا میرے پاس تھا۔

پھر ایک دستانہ گرا…
جس کی انگلیاں منجمد ہو کر مڑی ہوئی تھیں۔

پھر سیاہ بالوں کے گچھے باہر نکل آئے۔

میرے ہاتھ سے بیلچہ گر گیا۔

میں دوڑ کر کیبن کے اندر گیا اور دروازہ بند کر لیا۔

اس رات میں نے کمرے کا دروازہ بھی بند کر کے اس کے آگے فرنیچر لگا دیا۔

12:16 پر پھر دستک ہوئی۔

اس بار میرے بیڈروم کی کھڑکی پر۔

میں نے آہستہ سے پردہ ہٹایا…

اور میری چیخ نکل گئی۔

کھڑکی کے بالکل باہر ایک دوسرا سنو مین کھڑا تھا۔

چھوٹا… مگر زیادہ مضبوط۔

اور اس کے سینے میں منجمد بالوں کا گچھا دبا ہوا تھا۔

جیسے کسی نے جان بوجھ کر دکھانے کے لیے رکھا ہو۔

صبح ہوتے ہی میں وہاں سے بھاگ گیا۔

کئی دن بعد میں نے انٹرنیٹ پر تلاش کیا۔

پتا چلا پچھلے سال اسی علاقے میں ایک عورت لاپتہ ہوئی تھی۔

وہ بھی بریک اپ کے بعد اکیلی اسی طرف گئی تھی۔

اس کی لاش کبھی نہیں ملی۔

اور نہ ہی اس کے کپڑے۔

آج تک سوچتا ہوں…

وہ دوسرا سنو مین…
کیا کسی قاتل کا پیغام تھا کہ وہ مجھے ساری رات دیکھتا رہا؟

15/03/2026

ہم تین لڑکیاں نیویارک کے ایک پرانے اپارٹمنٹ میں رہتی تھیں۔

ایملی… بروک… اور میں۔

ہم سب ایک ہی خواب کے پیچھے شہر آئی تھیں۔

ماڈلنگ۔
رن وے۔
اور بل بورڈز پر اپنا چہرہ دیکھنے کا خواب۔

ایک دن ایملی نے اعلان کیا کہ اسے وزن کم کرنے والی دوا کا نسخہ مل گیا ہے۔

اس کے لیے یہ دوا نہیں…
کیرئیر کا ہتھیار تھا۔

انہوں نے مجھے بھی شامل ہونے کو کہا۔

مگر میں نے انکار کر دیا۔

میں نے کہا میں آہستہ اور نارمل طریقے سے وزن کم کرنا چاہتی ہوں۔

ایملی ہنس پڑی۔

“نارمل لڑکیاں کامیاب نہیں ہوتیں۔”

شروع میں سب ٹھیک لگ رہا تھا۔

انہوں نے فریج پر ایک چارٹ لگا دیا۔
جس میں خوراک اور ہدف وزن لکھا تھا۔

مگر جلد ہی کھانے کم ہوتے گئے۔

پہلے پورا سیب۔
پھر آدھا۔

اور پھر…
تین حصوں میں تقسیم ایک سیب۔

ڈنر میں صرف بلیک کافی۔

اگر ایک کا وزن زیادہ کم ہوتا تو دوسری کے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ آ جاتی۔

دوستی آہستہ آہستہ دشمنی میں بدل رہی تھی۔

ایملی کنٹرول کے جنون میں مبتلا ہو گئی۔
وہ کھانا چھپا دیتی اور بروک پر چوری کا الزام لگاتی۔

بروک خفیہ ہو گئی۔

میں نے اسے ایک بار اس دن انجیکشن لگاتے دیکھا جو اس کی باری نہیں تھی۔

اس کی آنکھیں خوفزدہ جانور جیسی تھیں۔

گھر میں عجیب خاموشی پھیلنے لگی۔

رات کو میں اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے سونے لگی۔

کیونکہ مجھے باہر کے لوگوں سے نہیں…
اپنی روم میٹس سے خوف آنے لگا تھا۔

پھر ایک صبح…

میں نے بروک کو باتھ روم کے فرش پر پایا۔

وہ ٹائلوں پر گری ہوئی تھی۔

آنکھیں کھلی تھیں…
مگر خالی۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ابھی بھی وزن کے اسکیل پر نمبر آنے کا انتظار کر رہی ہو۔

میں چیخنے لگی۔

ایملی دوڑتی ہوئی آئی۔
وہ مسلسل ایک ہی جملہ دہرا رہی تھی۔

“آج اس کی خوراک کا دن نہیں تھا…”

پولیس آئی۔
اور انہوں نے ہمیں سیکیورٹی کیمرے کی ویڈیو دکھائی۔

وقت تھا…
رات کے 3:17۔

ویڈیو میں ایملی اپنے کمرے سے باہر آئی۔

اس کی آنکھیں آدھی بند تھیں۔
جیسے نیند میں چل رہی ہو۔

وہ انجیکٹر لے کر باتھ روم میں داخل ہوئی۔

کچھ منٹ بعد کیمرے میں آئینے کے ذریعے اس کا عکس نظر آیا۔

وہ بروک کے اوپر جھکی ہوئی تھی۔

اور آہستہ سے کہہ رہی تھی:

“تم مجھ سے آگے نکل رہی ہو…
میں تمہیں جیتنے نہیں دوں گی۔”

ایملی کو کچھ یاد نہیں تھا۔

ڈاکٹروں نے کہا یہ بھوک، نیند کی کمی اور جنون کا نتیجہ تھا۔

مگر قانون نے اسے قتل کہا۔

ایملی کو ہتھکڑی لگا کر ذہنی اسپتال بھیج دیا گیا۔

اور میں…

میں آج بھی اس اپارٹمنٹ میں رہتی ہوں۔

کبھی کبھی آنکھیں بند کرتی ہوں تو بروک کو وہیں فرش پر پڑا دیکھتی ہوں۔

اور کبھی کبھی…

مجھے لگتا ہے باتھ روم میں کوئی سرگوشی کر رہا ہے۔

15/03/2026

چار ڈاکٹر مجھے پہلے ہی انکار کر چکے تھے۔

ہر کسی کا ایک ہی جواب تھا:
“ڈائٹ کرو… ورزش کرو… زندگی کا طریقہ بدلو۔”

مگر آن لائن دنیا اور بھی ظالم تھی۔

جب میں نے وزن کم کرنے کے مشورے مانگے تو لوگوں نے میمز بنا دیے۔
کسی نے کہا میں جم کے لیے نہیں… گودام کے لیے بنا ہوں۔

وہ غلط بھی نہیں تھے۔
میں واقعی گودام میں بکس اٹھاتا تھا۔

۳۴ سال کا…
کمر ہمیشہ درد میں…
اور لوگ میرے جسم پر مذاق کرنے کے عادی۔

پھر مجھے ایک ٹیلیگرام پوسٹ نظر آئی۔

“اصلی وزن کم کرنے والی دوا۔
بغیر نسخے کے۔
آدھی قیمت میں۔”

میں نے بہت دیر تک اس پوسٹ کو گھورا۔
پھر پیغام بھیج دیا۔

جواب فوراً آیا۔

“آج رات۔
شہر کی ایک بند دکان کے پیچھے والی گلی میں۔
صرف کیش۔”

گلی میں بدبو تھی۔
سڑے ہوئے کچرے اور گندے پانی کی۔

اوپر ایک ٹمٹماتی اسٹریٹ لائٹ جل رہی تھی۔

میں انتظار کر رہا تھا جب اچانک قدموں کی آواز آئی۔

دو آدمی کچرے کے ڈبے کے پیچھے سے نکلے۔

ایک مسکرایا۔
دوسرا خاموش رہا۔

پھر مسکرانے والے نے کہا:
“کیلب…”

میرا دل ڈوب گیا۔

میں نے اپنا اصل نام تو بتایا ہی نہیں تھا۔

وہ میرے قریب آیا…
اور میرے پیٹ کو انگلیوں سے دبایا جیسے آٹا چیک کر رہا ہو۔

“واہ… واقعی آسان شکار۔”

پھر انہوں نے سب کچھ لے لیا۔
میرا بٹوہ… فون… بیگ۔

میں دیوار کے ساتھ لگا کھڑا تھا۔
دل سینے سے باہر نکلنے کو تھا۔

پھر خاموش آدمی نے جیب سے ایک سرنج نکالی۔

باریک سوئی…
چمکتی ہوئی۔

وہ بولا:
“آرام کرو… یہی لینے آئے تھے نا؟”

میرے جسم میں سردی دوڑ گئی۔

وہ ہنسنے لگے۔
کہ لوگ اپنے جسم سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ اجنبیوں کی سوئی پر بھی یقین کر لیتے ہیں۔

سوئی میری جلد کو چھونے ہی والی تھی…

کہ دور کہیں پولیس سائرن کی آواز آئی۔

وہ لمحہ بھر کو رکے۔

میں نے پوری طاقت سے دھکا دیا…
اور دوڑ پڑا۔

میں پھسل کر گرا…
گھٹنوں سے خون بہنے لگا۔

مگر میں بھاگتا رہا۔

جب تک سڑک کی روشنیاں نظر نہ آئیں۔

گھر پہنچ کر دروازہ بند کیا اور فرش پر بیٹھ گیا۔

آئینے میں دیکھا تو جسم پر نیل پڑ چکے تھے۔

اور اس لمحے مجھے ایک بات سمجھ آئی۔

اصل خطرہ وہ جعلی دوا نہیں تھی۔

اصل خطرہ…
میری اپنی بے بسی تھی۔

مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب سوزین ایک ویٹر کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ہم شہر کے ایک مصروف ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے جہاں مد...
13/03/2026

مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب سوزین ایک ویٹر کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔
ہم شہر کے ایک مصروف ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے جہاں مدھم روشنی ہر شخص کو حقیقت سے زیادہ خوبصورت بنا دیتی تھی۔

وہ ویٹر کے قریب جھکی، اس کے بازو کو چھوا اور ہنسنے لگی۔
اور میں… میں سامنے بیٹھا تھا جیسے میں وہاں موجود ہی نہ ہوں۔

جب ویٹر چلا گیا تو اس نے شرمندگی محسوس کرنے کے بجائے صرف اپنا فون دیکھا اور پوچھا:
“کھانا ختم ہوگیا؟”

اس رات گھر میں ہماری سخت لڑائی ہوئی۔
میں نے کہا کہ اپنی بیوی کو دوسروں سے فلرٹ کرتے دیکھنا مجھے توڑ دیتا ہے۔

مگر اس نے طنزیہ انداز میں کہا:
“اگر تم خود کو بہتر بنالو تو تمہیں اتنا عدم تحفظ محسوس نہیں ہوگا۔”

اسی لمحے مجھے لگا… اگر میں نے اپنا وزن کم نہ کیا تو شاید وہ مجھے چھوڑ دے گی۔

رات کے تین بجے میں نے ایک مشکوک ویب سائٹ سے وزن کم کرنے کی دوا آرڈر کر دی۔
نہ کوئی نسخہ… نہ کوئی سوال۔

ایسا لگا جیسے میں نے اپنی زندگی کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کر لیا ہو۔

پھر تبدیلیاں شروع ہوئیں۔
اور بہت تیزی سے ہوئیں۔

ہر صبح وزن کم ہوتا جا رہا تھا۔
اور سوزین پھر سے مجھ پر مسکرانے لگی۔

اس کی وہ مسکراہٹ…
مجھے کسی بھی نشے سے زیادہ خطرناک طریقے سے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔

کھانا میرے لیے دشمن بن گیا۔
اس کی خوشبو سے ہی متلی آنے لگتی تھی۔

میں کھانا چھوڑنے لگا… پہلے غلطی سے۔
پھر جان بوجھ کر۔

نیند ختم ہو گئی۔
رات کو بار بار جاگ جاتا… دل تیزی سے دھڑک رہا ہوتا۔

مجھے لگتا شاید سوتے ہوئے میرا وزن بڑھ گیا ہو۔

میں دن میں کئی بار وزن چیک کرنے لگا۔
اور اگر نمبر وہی رہتا… تو خوف میری ریڑھ کی ہڈی میں رینگنے لگتا۔

پھر ایک دن میں باتھ روم کے فرش پر جاگا۔
سر میں شدید درد تھا۔

آئینے میں دیکھا تو میرے ہونٹوں کے گرد خشک خون لگا ہوا تھا۔

چند دن بعد پھر یہی ہوا۔
مگر اس بار میرے پیٹ پر گہرے خراشوں کے نشان تھے۔

اور مجھے یاد ہی نہیں تھا کہ یہ کیسے لگے۔

آئینے میں دیکھتا تو لگتا میں وزن کم نہیں کر رہا…
بلکہ میرے اندر سے کچھ چھین لیا گیا ہے۔

آنکھیں اندر دھنس گئی تھیں۔
جلد ہڈیوں پر کھنچ گئی تھی۔

پھر ایک دن دفتر میں اچانک زمین گھومنے لگی۔
اور میں بے ہوش ہو گیا۔

جب آنکھ کھلی تو میں اسپتال میں تھا۔

ڈاکٹر میرے پاس بیٹھا تھا۔
اس کے چہرے پر تشویش صاف نظر آ رہی تھی۔

اس نے آہستہ آواز میں کہا:
“تمہارا جسم اب چربی نہیں جلا رہا… اب یہ پٹھے کھا رہا ہے۔”

وہ رکا… پھر بولا۔

“اور شاید تمہارے اعضاء بھی۔”

اس لمحے مجھے احساس ہوا…

میں مر رہا تھا۔

اور سوزین؟
وہ کئی دن سے مجھ سے رابطہ بھی نہیں کر رہی تھی۔

میں کسی ایسے شخص کے لیے خود کو تباہ کر رہا تھا
جسے یہ تک معلوم نہیں تھا کہ میں مرنے کے قریب ہوں۔

اسی اسپتال کے بستر پر لیٹے ہوئے میں نے ایک فیصلہ کیا۔

میں نے سوزین کو طلاق کا نوٹس بھیج دیا۔

اب میں صحت یاب ہو رہا ہوں۔
اور اس بار میں صرف جسم نہیں…

اپنی خودی بھی دوبارہ بنا رہا ہوں۔

16/10/2025
26/09/2025

゚viralfbreelsfypシ゚viral

25/09/2025

Address


Telephone

+923174702772

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ہر کہانی ایک نئی دنیا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Club

Send a message to ہر کہانی ایک نئی دنیا:

  • Want your club to be the top-listed Nightclub?

Share