A D H O O R I • D a S T a a N

A D H O O R I  •  D a S T a a N � Kuch kahaniyan sirf suni nahi jaati… mehsoos ki jaati hain.

� Emotional Stories | Life Lessons

11/08/2026

sad video story

میری خاموش دعاقسط نمبر 8 — ایک کمرہ، دو دل“ریان… ہمیں معلوم ہے تم دونوں اندر ہو!”باہر سے آنے والی آواز نے عریبہ کے جسم م...
11/08/2026

میری خاموش دعا
قسط نمبر 8 — ایک کمرہ، دو دل
“ریان… ہمیں معلوم ہے تم دونوں اندر ہو!”
باہر سے آنے والی آواز نے عریبہ کے جسم میں خوف کی ایک لہر دوڑا دی۔
وہ بے اختیار ریان کے قریب ہو گئی۔
“اب کیا ہوگا؟”
ریان نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ دو گاڑیوں کی روشنیاں اندھیرے میں پھیل رہی تھیں۔
اس نے فوراً عریبہ کا ہاتھ پکڑا۔
“ہم یہاں سے نکل رہے ہیں۔ ابھی۔”
“لیکن کہاں؟”
“جہاں بھی یہ لوگ نہ پہنچ سکیں۔”
وہ دونوں پچھلے دروازے سے باہر نکلے۔ بارش اب بھی تیز تھی۔ عریبہ کا دوپٹہ ہوا میں اڑ رہا تھا اور کیچڑ میں قدم بار بار پھسل رہے تھے۔
“آہ!”
عریبہ کا پاؤں پھسلا تو ریان نے فوراً اسے تھام لیا۔
“سنبھل کر!”
“میں کوشش کر رہی ہوں!”
“تو میرا ہاتھ پکڑ لو۔”
“میں پکڑے ہوئے ہوں۔”
ریان نے اس کا ہاتھ مزید مضبوطی سے تھام لیا۔
“پھر مجھے چھوڑنا مت۔”
عریبہ نے اس کی طرف دیکھا۔
“تم بھی نہیں چھوڑنا…”
ریان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی نرمی آگئی۔
“مر جاؤں گا، لیکن نہیں چھوڑوں گا۔”
وہ دونوں اندھیرے میں بھاگتے رہے۔
کافی دور جا کر انہیں ایک پرانی سڑک ملی۔ خوش قسمتی سے وہاں سے ایک چھوٹی سی گاڑی گزر رہی تھی۔ ریان نے ہاتھ دے کر اسے روکا۔
کچھ دیر بعد دونوں شہر سے بہت دور ایک خاموش سے علاقے میں پہنچ گئے۔
رات کے تقریباً دو بج رہے تھے۔
بارش رک چکی تھی۔
سڑک کے کنارے ایک پرانا مگر صاف ستھرا گھر نظر آیا۔ دروازے کے پاس زرد روشنی جل رہی تھی۔
ریان نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
کچھ دیر بعد ایک درمیانی عمر کی عورت نے دروازہ کھولا۔ اس کے پیچھے تقریباً اٹھارہ، انیس سال کی ایک لڑکی کھڑی تھی۔
عورت نے دونوں کو حیرت سے دیکھا۔
“اس وقت؟ خیریت تو ہے؟”
ریان نے عریبہ کی طرف دیکھا، پھر عورت سے کہا:
“آنٹی… ہمیں ایک رات کے لیے پناہ چاہیے۔ ہم بہت دور سے آئے ہیں۔”
عورت نے عریبہ کے بھیگے ہوئے کپڑے اور کانپتے ہاتھ دیکھے تو فوراً دروازہ کھول دیا۔
“اندر آ جاؤ بیٹا۔”
عریبہ نے تشکر سے اسے دیکھا۔
“بہت شکریہ…”
عورت مسکرائی۔
“بیٹی، اس وقت شکریہ نہیں… پہلے خود کو گرم کرو۔”
اس لڑکی نے آگے بڑھ کر عریبہ کو تولیہ دیا۔
“میں سارہ ہوں۔”
عریبہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“عریبہ۔”
سارہ کی نظر ریان پر گئی۔
“اور یہ؟”
ریان ایک لمحے کے لیے خاموش ہوا۔
پھر عریبہ کی طرف دیکھ کر بولا:
“میری بیوی۔”
عریبہ نے فوراً اسے دیکھا۔
اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“کیا؟”
ریان نے آہستہ سے اس کے کان میں کہا:
“ابھی بحث مت کرنا۔”
سارہ کی ماں مسکرا دی۔
“اچھا اچھا، میاں بیوی ہو۔ بیٹا تم دونوں کی حالت دیکھو۔”
عریبہ شرمندگی سے نظریں جھکا گئی۔
سارہ کی ماں نے کہا:
“گھر میں ایک ہی کمرہ خالی ہے۔ وہی لے لو۔”
عریبہ نے فوراً ریان کی طرف دیکھا۔
ریان نے بمشکل اپنی ہنسی روکی۔
“جی… ٹھیک ہے۔”
کمرے میں پہنچتے ہی عریبہ نے دروازہ بند کیا اور ریان کی طرف گھور کر دیکھا۔
“تم نے مجھے اپنی بیوی کیوں کہا؟”
ریان نے سنجیدگی سے جواب دیا:
“کیونکہ اگر میں کہتا کہ ہم صرف دوست ہیں تو شاید وہ اتنے اطمینان سے ہمیں اندر نہ آنے دیتیں۔”
“تمہیں کوئی اور رشتہ نہیں ملا تھا؟”
“نہیں۔”
“کیوں؟”
ریان مسکرایا۔
“کیونکہ دل نے پہلے ہی یہی فیصلہ کر رکھا ہے۔”
عریبہ نے اسے گھورا، مگر اس کے گال سرخ ہو گئے۔
“بہت باتیں بنانا آتی ہیں تمہیں۔”
“صرف تمہارے سامنے۔”
کمرے میں ایک ہی بستر تھا۔
عریبہ نے فوراً کہا:
“تم نیچے سوؤ گے۔”
ریان نے فرش کی طرف دیکھا۔
“یہاں؟”
“ہاں۔”
“اور تم بستر پر؟”
“ظاہر ہے۔”
ریان نے مسکرا کر کہا:
“ٹھیک ہے، بیگم صاحبہ۔”
“ریان!”
وہ ہنس پڑا۔
عریبہ نے غصے سے تکیہ اٹھایا اور اس کی طرف پھینک دیا۔
“خاموش!”
ریان نے تکیہ پکڑ لیا۔
“اچھا بابا، خاموش۔”
چند لمحوں بعد عریبہ بستر پر لیٹ گئی۔
مگر نیند کہاں تھی؟
کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔
ریان فرش پر لیٹا ہوا تھا۔
عریبہ نے آہستہ سے پوچھا:
“ریان؟”
“ہمم؟”
“تمہیں نیند آ رہی ہے؟”
“نہیں۔”
“کیوں؟”
“کیونکہ تم بار بار کروٹ بدل رہی ہو۔”
“مجھے ڈر لگ رہا ہے۔”
ریان فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا۔
“کس بات کا؟”
عریبہ نے دھیمی آواز میں کہا:
“کہ وہ لوگ ہمیں ڈھونڈ لیں گے… اور یہ سب ختم ہو جائے گا۔”
ریان کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔
پھر بولا:
“ادھر آؤ۔”
“کہاں؟”
“یہاں بیٹھو۔”
عریبہ ہچکچائی، پھر بستر کے کنارے آ کر بیٹھ گئی۔
ریان نے اپنی جیکٹ اس کے کندھوں پر ڈال دی۔
“تمہیں سردی لگ رہی ہے۔”
“اور تمہیں؟”
“مجھے تمہاری فکر زیادہ ہے۔”
عریبہ نے جیکٹ کو تھام لیا۔
“تم ہمیشہ ایسا کیوں کرتے ہو؟”
“کیا؟”
“اپنی فکر چھوڑ کر میری فکر کرتے ہو۔”
ریان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“کیونکہ تم اب میری فکر ہو۔”
عریبہ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
“اگر کل ہمیں کچھ ہو گیا تو؟”
ریان نے فوراً کہا:
“ایسا کچھ نہیں ہوگا۔”
“تمہیں کیسے یقین ہے؟”
“کیونکہ ابھی بہت سی باتیں تمہیں بتانی باقی ہیں۔”
عریبہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا:
“مثلاً؟”
ریان تھوڑا سا قریب ہوا۔
“مثلاً یہ کہ…”
وہ رک گیا۔
“کیا؟”
“میں تمہیں کب سے پسند کرتا ہوں۔”
عریبہ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
“کب سے؟”
ریان مسکرایا۔
“یہ راز ابھی نہیں بتاؤں گا۔”
“کیوں؟”
“کیونکہ اگر میں سب کچھ ایک ہی رات میں بتا دوں تو ہماری کہانی بہت جلدی ختم ہو جائے گی۔”
عریبہ نے اسے دیکھا۔
پھر بہت آہستہ سے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ دیا۔
ریان ایک لمحے کے لیے بالکل خاموش ہوگیا۔
اس نے بھی کچھ نہیں کہا۔
بس اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
عریبہ نے آنکھیں بند کر لیں۔
“ریان…”
“ہمم؟”
“آج مجھے پہلی بار ڈر نہیں لگ رہا۔”
“کیوں؟”
“کیونکہ تم ساتھ ہو۔”
ریان نے دھیمی آواز میں کہا:
“پھر آنکھیں بند کر لو…”
“کیوں؟”
“کیونکہ میں یہ رات تمہیں ڈرنے نہیں دوں گا۔”
عریبہ نے آنکھیں بند کر لیں۔
اور ریان پوری رات جاگتا رہا۔
صبح کے قریب عریبہ کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا ریان ابھی تک کرسی پر بیٹھا تھا۔
وہ جاگا ہوا تھا۔
عریبہ نے حیرت سے پوچھا:
“تم سوئے نہیں؟”
ریان نے مسکرا کر کہا:
“نہیں۔”
“کیوں؟”
“پہرہ دے رہا تھا۔”
“کس چیز کا؟”
ریان نے اسے دیکھا۔
“تمہاری نیند کا۔”
عریبہ کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آگئی۔
مگر اسی لمحے باہر سارہ کی آواز سنائی دی:
“امی! آپ نے اخبار دیکھا؟”
عریبہ اور ریان نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
سارہ کی ماں کی آواز آئی:
“کیا ہوا؟”
“اس میں دو لوگوں کی تصویر ہے… پولیس انہیں ڈھونڈ رہی ہے۔”
عریبہ کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
سارہ نے اخبار اٹھایا۔
اور اس پر سب سے اوپر…
عریبہ اور ریان کی تصویریں چھپی ہوئی تھیں۔
قسط نمبر 8 ختم۔
❤️plz viewers mery page ko follow kr len is sy page ko reach mily gi men bht mehnat sy bnati hun hr episode ap log acha response ni krty🥹

میری خاموش دعاقسط نمبر 7 — تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گافیکٹری کے اندھیرے میں عریبہ کی نظریں سامنے کھڑے ریان پر جم گئی تھیں...
10/08/2026

میری خاموش دعا

قسط نمبر 7 — تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا

فیکٹری کے اندھیرے میں عریبہ کی نظریں سامنے کھڑے ریان پر جم گئی تھیں۔

اس کے کپڑوں پر مٹی لگی تھی، ماتھے پر ہلکی سی چوٹ تھی، مگر وہ زندہ تھا۔

عریبہ بے اختیار اس کی طرف بڑھی۔

“ریان…”

“رکو!”

سعد کی آواز گونجی۔

عریبہ رک گئی۔

ریان نے فوراً کہا، “عریبہ، میرے پاس آؤ۔ سعد پر بھروسہ مت کرنا۔”

سعد ہنس دیا۔

وہ ہنسی ایسی تھی جس میں برسوں کا غصہ چھپا ہوا تھا۔

“آخرکار تم دونوں کو سب کچھ بتانا ہی پڑے گا۔”

عریبہ نے کانپتی آواز میں پوچھا، “آپ نے میرے ابو کے ساتھ کیا کیا تھا؟”

سعد کا چہرہ سخت ہوگیا۔

“تمہارے ابو مرنا نہیں چاہتے تھے… لیکن انہیں مرنا پڑا۔”

عریبہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“کیا؟”

ریان نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“اس کی باتوں میں مت آنا۔”

سعد نے غصے سے کہا، “تم خاموش رہو، ریان! تمہارے باپ کی وجہ سے میری پوری زندگی برباد ہوئی!”

“تم جھوٹ بول رہے ہو!” ریان نے کہا۔

“جھوٹ؟”

سعد نے جیب سے ایک پرانی فائل نکالی۔

“یہ ثبوت ہے کہ تمہارے والد نے ہمارے خاندان کے ساتھ دھوکا کیا تھا۔”

ریان نے فائل دیکھی، پھر سرد لہجے میں بولا:

“تمہیں آج بھی یہی لگتا ہے؟”

“ہاں!”

“تو پھر یہ بھی دیکھ لو۔”

ریان نے اپنی جیب سے ایک USB نکالی۔

سعد کا چہرہ ایک دم بدل گیا۔

“یہ تمہیں کہاں سے ملی؟”

“اسی جگہ سے جہاں تم نے دس سال پہلے اصل ثبوت چھپایا تھا۔”

عریبہ حیرت سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔

ریان نے اسے دیکھا۔

“عریبہ، تمہارے ابو بے قصور تھے۔ سعد اور فہد نے مل کر جعلی کاغذات بنائے تھے۔ تمہارے ابو کو جب حقیقت کا پتا چلا تو انہوں نے پولیس جانے کا فیصلہ کیا۔ اسی رات…”

اس کی آواز بھرا گئی۔

“سعد نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔”

عریبہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“بھائی…”

سعد نے نظریں جھکا لیں۔

چند لمحوں تک وہاں مکمل خاموشی رہی۔

پھر سعد نے آہستہ سے کہا:

“ہاں… میں نے انہیں روکا تھا۔”

عریبہ جیسے سن ہو گئی۔

“اور فہد؟”

“وہ میرے ساتھ تھا۔”

“تو… میرے ابو کی موت…”

سعد نے جواب نہیں دیا۔

لیکن اس کی خاموشی ہی سب کچھ کہہ گئی۔

عریبہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“میں آپ کو اپنا بھائی سمجھتی رہی…”

سعد نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔

“میں تم سے نفرت نہیں کرتا، عریبہ۔”

“پھر یہ سب کیوں کیا؟”

“کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ تم سب کچھ جان جاؤ گی۔”

ریان آگے بڑھا۔

“اب اسے چھوڑ دو، سعد۔ سب ختم ہو گیا ہے۔”

سعد نے غصے سے اسے دیکھا۔

“نہیں!”

اس نے قریب پڑی میز پر ہاتھ مارا۔

“اب کوئی زندہ نہیں جائے گا۔”

عریبہ خوف سے پیچھے ہٹی۔

ریان نے فوراً اس کے آگے آ کر اسے اپنے پیچھے کر لیا۔

“عریبہ، میرے پیچھے رہنا۔”

“ریان…”

“بس میری بات سنو۔”

سعد نے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔

“تم دونوں آج یہاں سے نہیں جاؤ گے۔”

اچانک باہر تیز بارش شروع ہوگئی۔

ریان نے عریبہ کا ہاتھ پکڑا۔

“میرے ساتھ آؤ!”

دونوں فیکٹری کے پچھلے حصے کی طرف بھاگے۔

سعد ان کے پیچھے آیا۔

ایک پرانا دروازہ آدھا کھلا تھا۔

ریان نے پوری طاقت سے اسے دھکیلا۔

دونوں باہر نکل آئے۔

بارش نے چند ہی لمحوں میں انہیں بھگو دیا۔

“ادھر!”

ریان عریبہ کو لے کر درختوں کے درمیان بھاگنے لگا۔

پیچھے سے سعد کی آواز آ رہی تھی۔

“ریان!”

مگر دونوں رکے نہیں۔

کافی دور جا کر ریان نے عریبہ کا ہاتھ چھوڑا۔

وہ بری طرح ہانپ رہی تھی۔

“ہم… کہاں جا رہے ہیں؟”

ریان نے بھی سانس بحال کرتے ہوئے کہا:

“پتا نہیں۔”

عریبہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“کیا؟”

ریان ہلکا سا مسکرایا۔

“بس اتنا پتا ہے کہ جب تک تم میرے ساتھ ہو، مجھے راستہ مل جائے گا۔”

عریبہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

“مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔”

ریان نے نرمی سے کہا:

“مجھے بھی۔”

“تمہیں بھی؟”

“ہاں۔”

“پھر تم اتنے پرسکون کیوں بن رہے ہو؟”

ریان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

“کیونکہ اگر میں ڈر گیا تو تمہیں کون سنبھالے گا؟”

عریبہ کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آگئی۔

وہ دونوں کچھ دیر مزید چلتے رہے۔

رات گہری ہو چکی تھی۔

آخر انہیں پہاڑی علاقے میں ایک پرانا سا خالی گھر نظر آیا۔

ریان نے دروازہ کھولا۔

“شاید یہاں کوئی رہتا نہیں۔ آج رات یہیں رک جاتے ہیں۔”

عریبہ اندر آئی۔

کمرہ بہت سادہ تھا۔ ایک پرانی کرسی، لکڑی کی میز اور کونے میں چھوٹا سا چولہا۔

بارش کی آواز چھت پر مسلسل پڑ رہی تھی۔

عریبہ ایک کونے میں بیٹھ گئی۔

کچھ دیر بعد اس نے اپنے بازوؤں کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔

ریان نے دیکھا۔

“تمہیں سردی لگ رہی ہے؟”

“تھوڑی سی…”

ریان نے فوراً اپنی جیکٹ اتاری اور اس کے کندھوں پر رکھ دی۔

عریبہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“اور تم؟”

“مجھے سردی نہیں لگتی۔”

عریبہ نے جیکٹ کو اپنے گرد لپیٹ لیا۔

“جھوٹ بول رہے ہو۔ تم خود کانپ رہے ہو۔”

ریان مسکرا دیا۔

“تمہیں میری فکر ہے؟”

“نہیں۔”

“اچھا؟”

“بالکل نہیں۔”

“تو پھر میری جیکٹ واپس کر دو۔”

عریبہ نے فوراً جیکٹ مضبوطی سے پکڑ لی۔

“نہیں!”

ریان ہنس پڑا۔

“بس، یہی سننا تھا۔”

عریبہ بھی ہنس دی۔

کچھ لمحوں کے لیے دونوں بھول گئے کہ وہ کس مصیبت میں ہیں۔

پھر عریبہ نے آہستہ سے کہا:

“ریان…”

“ہمم؟”

“اگر ہم وہاں سے نہ بھاگ پاتے تو؟”

ریان کا چہرہ سنجیدہ ہوگیا۔

وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا۔

“ایسا نہیں سوچو۔”

“لیکن…”

“عریبہ، میری طرف دیکھو۔”

اس نے آہستہ سے اس کی طرف دیکھا۔

ریان نے کہا:

“میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔”

عریبہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

“تم ہر بار مجھے بچانے کی کوشش کیوں کرتے ہو؟”

ریان چند لمحے خاموش رہا۔

پھر بہت دھیمی آواز میں بولا:

“کیونکہ تم میرے لیے صرف ایک ذمہ داری نہیں ہو…”

وہ رک گیا۔

عریبہ کی دھڑکن تیز ہوگئی۔

“پھر کیا ہوں؟”

ریان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا:

“وہ شخص… جسے کھونے کا خیال بھی مجھے اندر سے توڑ دیتا ہے۔”

عریبہ نے نظریں جھکا لیں۔

آنکھ سے ایک آنسو گرا۔

ریان نے آہستہ سے کہا:

“رو مت۔”

“میں رو نہیں رہی…”

“اچھا؟”

“ہاں…”

ریان مسکرایا۔

“تو پھر یہ آنسو بارش کے ہیں؟”

عریبہ نے آنکھیں پونچھتے ہوئے ہنس کر کہا:

“ہاں، بالکل۔”

“جھوٹی۔”

“تم بھی تو جھوٹ بول رہے تھے کہ تمہیں سردی نہیں لگ رہی۔”

دونوں مسکرا دیے۔

باہر بارش مسلسل برس رہی تھی۔

اور اس سنسان گھر میں، دنیا سے دور، پہلی بار عریبہ کو لگا کہ شاید اسے کسی بڑے محل کی نہیں…

صرف ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو مشکل وقت میں اس کا ہاتھ نہ چھوڑے۔

ریان نے آہستہ سے پوچھا:

“عریبہ؟”

“جی؟”

“اگر یہ سب ختم ہو گیا… تو کیا تم میرے ساتھ رہو گی؟”

عریبہ نے کچھ دیر اسے دیکھا۔

پھر دھیمی آواز میں بولی:

“اگر تم نے دوبارہ مجھ سے کوئی سچ نہیں چھپایا…”

ریان نے مسکرا کر کہا:

“وعدہ۔”

عریبہ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔

“پکا؟”

ریان نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

“پکا۔”

مگر اسی لمحے باہر گاڑی کے رکنے کی آواز آئی۔

دونوں ایک دم خاموش ہوگئے۔

ریان نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔

اندھیرے میں گاڑی کی headlights جل رہی تھیں۔

عریبہ کا ہاتھ ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھا۔

ریان نے سرگوشی کی:

“وہ ہمیں ڈھونڈتے ہوئے یہاں تک پہنچ گئے ہیں…”

عریبہ کا چہرہ خوف سے سفید پڑ گیا۔

ریان نے فوراً اسے اپنے قریب کیا۔

“ڈرو مت۔”

باہر گاڑی کا دروازہ کھلا۔

اور کسی نے اندھیرے میں آواز دی:

“ریان… ہمیں معلوم ہے تم دونوں اندر ہو!”

قسط نمبر 7 ختم۔

❤️ اگلی قسط میں: کیا ریان اور عریبہ وہاں سے بچ پائیں گے؟ اور کون انہیں ڈھونڈتے ہوئے اس سنسان جگہ تک پہنچا ہے؟

اگلی قسط کے لیے پیج کو Follow کر لیں،
Dear viewers plz mery page ko follow kr len 7 episode ho g*i lekin kisi ny follow hi ni kia 🙏🥹

میری خاموش دعاقسط نمبر 6 — تم کہاں ہو؟عریبہ کافی دیر تک فون کی اسکرین کو دیکھتی رہی۔ریان کا آخری message ابھی تک سامنے ت...
10/08/2026

میری خاموش دعا

قسط نمبر 6 — تم کہاں ہو؟

عریبہ کافی دیر تک فون کی اسکرین کو دیکھتی رہی۔

ریان کا آخری message ابھی تک سامنے تھا۔

“میں نے تم سے ایک بہت بڑا سچ چھپایا ہے…”

اس کے بعد کچھ نہیں۔

عریبہ نے دوبارہ call کی۔

فون بند۔

ایک بار…

دوسری بار…

تیسری بار…

ہر بار وہی خاموشی۔

اس نے بے اختیار فون سینے سے لگا لیا۔

“ریان… تم ایسا نہیں کر سکتے۔”

آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

کل تک جو شخص اس کے ساتھ بارش میں چل رہا تھا، جو اسے چھیڑ رہا تھا، جو کہہ رہا تھا کہ “کبھی نہیں جاؤں گا”…

آج وہی شخص بغیر کچھ بتائے غائب ہو گیا تھا۔

کلاس میں بھی عریبہ کا دل نہیں لگا۔

پروفیسر کچھ سمجھا رہے تھے مگر اس کے کانوں میں ایک لفظ بھی نہیں پڑ رہا تھا۔

ہانیہ نے اسے کئی بار دیکھا۔

آخرکار اس نے آہستہ سے پوچھا:

“عریبہ، کیا ہوا ہے؟”

“کچھ نہیں۔”

“تمہاری آنکھیں کچھ اور کہہ رہی ہیں۔”

عریبہ نے فوراً نظریں جھکا لیں۔

“ریان کا فون بند ہے۔”

ہانیہ چند لمحے خاموش رہی۔

“شاید کوئی ضروری کام ہو۔”

“وہ مجھے بتائے بغیر کبھی نہیں جاتا تھا…”

یہ کہتے ہوئے عریبہ کی آواز بھرّا گئی۔

ہانیہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

“تم اسے اتنا چاہنے لگی ہو؟”

عریبہ نے فوراً جواب نہیں دیا۔

کافی دیر بعد بہت دھیمی آواز میں بولی:

“پتا نہیں…”

پھر آنکھوں میں آنسو لیے مسکرا دی۔

“شاید ہاں۔”

اسی وقت اس کا فون بجا۔

Unknown number تھا۔

عریبہ نے فوراً call اٹھائی۔

“ہیلو؟”

دوسری طرف چند لمحوں تک خاموشی رہی۔

پھر ایک مردانہ آواز آئی۔

“ریان کو تلاش کرنا چھوڑ دو۔”

عریبہ کے ہاتھ سے فون تقریباً چھوٹ گیا۔

“کون ہو تم؟”

“جتنا تم ریان کے قریب جاؤ گی، اتنا ہی نقصان تمہارا ہوگا۔”

“مجھے ریان سے بات کراؤ!”

دوسری طرف ہلکی سی ہنسی سنائی دی۔

“اگر وہ تم سے بات کرنا چاہتا… تو اب تک کر چکا ہوتا۔”

Call بند ہوگئی۔

عریبہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

ہانیہ نے گھبرا کر پوچھا:

“کیا ہوا؟”

عریبہ نے کانپتی آواز میں کہا:

“کسی نے کہا ہے کہ ریان کو تلاش نہ کروں…”

اسی شام عریبہ گھر پہنچی تو سعد پہلے ہی اس کا انتظار کر رہا تھا۔

“کہاں تھی؟”

“یونیورسٹی میں۔”

“ریان کے ساتھ؟”

عریبہ نے چونک کر اسے دیکھا۔

“آپ کو کیسے پتا؟”

سعد کچھ لمحے خاموش رہا۔

“عریبہ، میں تمہارا بھائی ہوں۔ تمہاری فکر ہے مجھے۔”

“تو پھر مجھے سچ کیوں نہیں بتاتے؟”

سعد نے نظریں چرا لیں۔

“کون سا سچ؟”

عریبہ کی آنکھوں میں غصہ آگیا۔

“وہی جو آپ مجھ سے چھپا رہے ہیں۔”

“میں کچھ نہیں چھپا رہا۔”

“تو پھر ریان کہاں ہے؟”

سعد خاموش ہوگیا۔

یہ خاموشی عریبہ کے لیے جواب سے زیادہ خوفناک تھی۔

“آپ کو معلوم ہے وہ کہاں ہے…”

سعد نے گہری سانس لی۔

“عریبہ، اس لڑکے سے دور رہو۔”

“کیوں؟”

“کیونکہ وہ تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہے۔”

“یہ فیصلہ آپ کریں گے کہ میرے لیے کون ٹھیک ہے؟”

“ہاں، اگر تمہیں خود اپنی حفاظت کا خیال نہیں!”

عریبہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

“آپ کو میری حفاظت کی فکر ہے یا آپ کو ڈر ہے کہ مجھے کچھ ایسا پتا نہ چل جائے جو آپ چھپا رہے ہیں؟”

سعد کا چہرہ ایک دم بدل گیا۔

عریبہ سمجھ گئی…

اس نے کچھ چھو لیا تھا۔

وہ فوراً اپنے کمرے میں چلی گئی۔

دروازہ بند کیا اور بستر پر بیٹھ گئی۔

کچھ دیر بعد اس کے فون پر notification آئی۔

ایک تصویر تھی۔

عریبہ نے تصویر کھولی تو اس کا دل دھک سے رہ گیا۔

تصویر میں ریان تھا۔

وہ کسی سنسان جگہ پر کھڑا تھا۔

چہرے پر تھکن تھی، شرٹ پر مٹی لگی ہوئی تھی۔

مگر وہ زندہ تھا۔

عریبہ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

تصویر کے نیچے صرف ایک جملہ لکھا تھا:

“اسے دیکھ کر خوش مت ہونا… ابھی کہانی ختم نہیں ہوئی۔”

عریبہ نے فوراً reply کیا:

“تم کون ہو؟ ریان کہاں ہے؟”

کوئی جواب نہیں آیا۔

وہ پوری رات جاگتی رہی۔

صبح ہوتے ہی اسے ایک اور message ملا۔

“اگر ریان کو زندہ دیکھنا ہے تو آج رات پرانی فیکٹری آؤ۔ اکیلی۔”

عریبہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔

اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔

سعد اندر آیا۔

“عریبہ؟”

اس نے جلدی سے فون چھپا لیا۔

“جی؟”

سعد نے اسے غور سے دیکھا۔

“تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو؟”

عریبہ نے پہلی بار اپنے بھائی کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا:

“نہیں…”

سعد باہر چلا گیا۔

دروازہ بند ہوتے ہی عریبہ نے فون دوبارہ ہاتھ میں لیا۔

اس کی آنکھوں میں خوف تھا…

مگر اس خوف سے کہیں زیادہ ریان کو دیکھنے کی خواہش تھی۔

اس نے آہستہ سے خود سے کہا:

“تم نے کہا تھا نا… کبھی نہیں جاؤ گے؟”

ایک آنسو اس کے گال پر پھسل گیا۔

“اب میں بھی تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گی۔”

رات کے آٹھ بجے عریبہ پرانی فیکٹری کے سامنے کھڑی تھی۔

چاروں طرف خاموشی تھی۔

ہوا میں عجیب سی نمی تھی۔

وہ آہستہ آہستہ اندر بڑھی۔

“ریان؟”

کوئی جواب نہیں۔

“ریان!”

اچانک پیچھے سے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔

عریبہ پلٹی۔

کوئی نہیں تھا۔

پھر اندھیرے میں ایک آواز گونجی:

“تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا، عریبہ…”

عریبہ کا دل زور سے دھڑکا۔

“ریان؟”

اندھیرے سے ایک شخص باہر آیا۔

عریبہ نے اسے دیکھا تو اس کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔

وہ شخص ریان نہیں تھا۔

وہ سعد تھا۔

عریبہ کی آنکھوں میں حیرت جم گئی۔

“بھائی…؟”

سعد نے چند لمحے اسے دیکھا۔

پھر اس کی آواز میں ایسی اداسی تھی جو عریبہ نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔

“میں نے تمہیں یہاں آنے سے روکنے کی بہت کوشش کی تھی…”

عریبہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

“ریان کہاں ہے؟”

سعد نے نظریں جھکا لیں۔

“وہ یہاں نہیں ہے۔”

“پھر مجھے یہاں کیوں بلایا گیا؟”

سعد نے جواب دینے سے پہلے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں۔

پھر بولا:

“کیونکہ ریان تمہیں جو سچ بتانے والا تھا…”

وہ رک گیا۔

“وہ سچ میں تمہارا بھائی بھی شامل ہے…”

عریبہ کے چہرے سے رنگ اڑ گیا۔

“کیا مطلب؟”

سعد نے جیب سے ایک پرانی تصویر نکالی۔

تصویر عریبہ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے اس نے کہا:

“یہ تصویر تمہارے ابو کی موت سے ایک رات پہلے کی ہے۔”

عریبہ نے تصویر دیکھی۔

اس میں اس کے ابو تھے…

فہد تھا…

اور سعد بھی۔

مگر تصویر کا اصل راز کچھ اور تھا۔

تصویر کے پیچھے ریان کے ابو کا ہاتھ لکھا ہوا ایک جملہ تھا:

“اگر مجھے کچھ ہو جائے تو عریبہ کو اس شخص سے بچانا جسے وہ اپنا بھائی سمجھتی ہے…”

عریبہ کے ہاتھ سے تصویر گر گئی۔

اور اسی لمحے…

فیکٹری کے دوسرے سرے سے ریان کی آواز آئی:

“عریبہ… میری بات سنو، سعد پر یقین مت کرنا!”

عریبہ نے پلٹ کر دیکھا۔

اندھیرے میں ریان کھڑا تھا۔

زخمی…

مگر زندہ۔

اور اس کے ہاتھ میں ایک پستول تھی۔

قسط نمبر 6 ختم۔

❤️ کیا ریان سعد پر الزام لگا رہا ہے؟ کیا سعد واقعی عریبہ سے کچھ چھپا رہا ہے؟ اور ریان اس حالت میں کہاں سے آیا؟

قسط 7 کے لیے پیج کو Follow کر لیں… کیونکہ اگلی قسط میں عریبہ کو اپنے خاندان کا وہ سچ معلوم ہوگا جس نے برسوں سے سب کی زندگیاں بدل رکھی ہیں۔

میری خاموش دعاقسط نمبر 5 — وہ راز جو دل توڑ دےاگلی صبح عریبہ یونیورسٹی تو پہنچ گئی، مگر اس کا دھیان پڑھائی میں بالکل نہی...
10/08/2026

میری خاموش دعا

قسط نمبر 5 — وہ راز جو دل توڑ دے

اگلی صبح عریبہ یونیورسٹی تو پہنچ گئی، مگر اس کا دھیان پڑھائی میں بالکل نہیں تھا۔

رات بھر ریان کا وہ آخری message اس کے ذہن میں گھومتا رہا۔

“وہ بات جس کے بعد شاید تم مجھے کبھی معاف نہ کرو۔”

آخر ایسی کیا بات تھی؟

وہ ریان سے ناراض بھی تھی اور پریشان بھی۔

اور شاید سب سے زیادہ…

وہ اسے دیکھنے کے لیے بے چین تھی۔

کلاس ختم ہوئی تو عریبہ نے باہر قدم رکھا۔

ریان سامنے کھڑا تھا۔

اسے دیکھتے ہی عریبہ رک گئی۔

ریان بھی چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔

پھر بولا:

“تم آ گئی۔”

عریبہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

“ہاں… لیکن تم نے بلایا کیوں تھا؟”

ریان نے نظریں چرا لیں۔

“چلو کہیں بیٹھتے ہیں۔”

دونوں یونیورسٹی کے پچھلے باغ میں جا کر بیٹھ گئے۔

کچھ دیر تک دونوں خاموش رہے۔

آخر عریبہ نے بے صبری سے پوچھا:

“ریان، اب بتاؤ بھی۔ کل رات سے میرے دل میں عجیب سا خوف ہے۔”

ریان نے اس کی طرف دیکھا۔

“اگر میں تمہیں ایک ایسی بات بتاؤں جو تمہارے ابو سے متعلق ہو تو؟”

عریبہ کا دل دھک سے رہ گیا۔

“میرے ابو سے؟”

“ہاں۔”

“کیا بات؟”

ریان نے گہری سانس لی۔

“تمہارے ابو کی موت کے بارے میں جو کچھ تم جانتی ہو… وہ مکمل سچ نہیں ہے۔”

عریبہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“کیا مطلب؟”

“مجھے بھی یہ بات کچھ عرصہ پہلے معلوم ہوئی۔”

“کس سے؟”

ریان نے جواب دینے کے بجائے اپنا فون نکالا۔

اس نے ایک پرانی تصویر عریبہ کے سامنے رکھ دی۔

تصویر میں تین آدمی کھڑے تھے۔

ایک اس کے ابو تھے۔

دوسرے ریان کے ابو۔

اور تیسرا…

عریبہ کے ہاتھ کانپ گئے۔

“یہ… فہد ہے؟”

ریان نے سر ہلایا۔

“ہاں۔”

“لیکن امی نے کہا تھا فہد صرف business partner تھا۔”

“وہ صرف business partner نہیں تھا۔”

ریان کی آواز میں سختی آگئی۔

“وہ تمہارے ابو کا سب سے قریبی دوست تھا۔”

عریبہ کچھ لمحے تصویر دیکھتی رہی۔

“پھر دشمن کیسے بن گیا؟”

ریان نے دھیرے سے کہا:

“کیونکہ تمہارے ابو کو اس کے بارے میں کچھ ایسا پتا چل گیا تھا جس کی وجہ سے فہد نے انہیں خاموش کرنے کا فیصلہ کیا۔”

عریبہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

“تو میرے ابو کو…”

“ہاں۔”

ریان نے نظریں جھکا لیں۔

“لیکن ایک بات اور ہے۔”

“کیا؟”

“اس رات فہد اکیلا نہیں تھا۔”

عریبہ نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔

“اس کے ساتھ کون تھا؟”

ریان خاموش ہوگیا۔

“ریان!”

“مجھے نہیں معلوم کہ تم یہ سننے کے لیے تیار ہو یا نہیں۔”

“میں اپنے ابو کی موت کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں۔ چاہے کتنا ہی درد کیوں نہ ہو۔”

ریان نے دھیرے سے کہا:

“اس رات وہاں تمہارے گھر کا ایک شخص بھی موجود تھا۔”

عریبہ کا دل رک سا گیا۔

“میرے گھر کا؟”

“ہاں۔”

“کون؟”

ریان نے جواب دینے کے بجائے اس کی طرف دیکھا۔

“میں تمہیں نام بتا دوں گا… لیکن وعدہ کرو کہ تم پہلے میری بات پوری سنو گی۔”

عریبہ نے آنکھوں میں آنسو لیے سر ہلا دیا۔

“وعدہ۔”

ریان نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ اچانک اس کا فون بج اٹھا۔

اسکرین پر ایک نام دیکھ کر اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

عریبہ نے پوچھا:

“کون ہے؟”

ریان نے فون بند کر دیا۔

“کوئی نہیں۔”

“جھوٹ مت بولو۔”

ریان نے خاموشی سے فون جیب میں رکھ لیا۔

عریبہ نے پہلی بار غصے سے کہا:

“تم پھر مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو!”

ریان اس کے قریب آیا۔

“میں تمہیں بچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔”

“مجھے کسی سے بچانے کی ضرورت نہیں!”

“ہے!”

اس کی آواز پہلی بار بلند ہوئی۔

دونوں خاموش ہوگئے۔

ریان نے اپنی آواز دھیمی کی۔

“عریبہ… تمہیں اندازہ نہیں کہ تمہارے آس پاس کون ہے۔”

“تو پھر مجھے بتاؤ!”

ریان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

“وہ شخص جس پر تم سب سے زیادہ بھروسہ کرتی ہو…”

وہ رک گیا۔

“وہی شخص تمہارے ابو کی موت کا راز جانتا ہے۔”

عریبہ کے آنسو بہہ نکلے۔

“کون؟”

ریان نے آہستہ سے کہا:

“سعد…”

عریبہ جیسے پتھر کی ہوگئی۔

“میرے بھائی؟”

ریان نے فوراً کہا:

“میں نے یہ نہیں کہا کہ وہ قاتل ہے۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ اس رات وہاں موجود تھا۔”

عریبہ نے سر پکڑ لیا۔

“نہیں… میرا بھائی ایسا نہیں کر سکتا۔”

ریان نے کچھ نہیں کہا۔

عریبہ اٹھ کر وہاں سے جانے لگی۔

ریان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“رکو!”

عریبہ نے ہاتھ چھڑا لیا۔

“مجھے سوچنے دو۔”

وہ چند قدم ہی چلی تھی کہ ریان کی آواز پیچھے سے آئی:

“عریبہ!”

وہ پلٹی۔

ریان اسے دیکھ رہا تھا۔

“ایک بات یاد رکھنا…”

“کیا؟”

“اگر کبھی تمہیں لگے کہ پوری دنیا تمہارے خلاف ہے…”

وہ آہستہ سے مسکرایا۔

“تو میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں گا۔”

عریبہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

وہ کچھ کہنا چاہتی تھی…

مگر الفاظ نہیں ملے۔

وہ وہاں سے چلی گئی۔

رات کو گھر میں سب معمول کے مطابق تھا۔

ہانیہ ٹی وی دیکھ رہی تھی۔

امی کچن میں تھیں۔

سعد اپنے کمرے میں تھا۔

عریبہ خاموشی سے اپنے کمرے میں گئی۔

مگر ریان کی بات نے اس کے دل میں شک پیدا کر دیا تھا۔

وہ کچھ دیر بعد سعد کے کمرے کے باہر جا کر رک گئی۔

دروازہ آدھا کھلا تھا۔

اندر سعد فون پر کسی سے بات کر رہا تھا۔

عریبہ رک گئی۔

سعد کہہ رہا تھا:

“میں نے کہا نا، عریبہ کو کچھ نہیں پتا چلنا چاہیے۔”

عریبہ کا دل زور سے دھڑکا۔

دوسری طرف سے کیا کہا گیا، وہ سنائی نہیں دیا۔

سعد نے دوبارہ کہا:

“اگر اسے فہد کے بارے میں پتا چل گیا تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔”

عریبہ کے قدم وہیں جم گئے۔

اچانک سعد نے دروازے کی طرف دیکھا۔

عریبہ فوراً پیچھے ہٹ گئی۔

وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں آئی اور دروازہ بند کر لیا۔

اس کی سانس تیز چل رہی تھی۔

“یا اللہ…”

اس نے آنکھیں بند کر لیں۔

کیا ریان سچ کہہ رہا تھا؟

کیا سعد واقعی کچھ چھپا رہا تھا؟

اسی وقت اس کے فون پر ایک unknown number سے message آیا۔

صرف ایک تصویر۔

عریبہ نے تصویر کھولی۔

اس تصویر میں…

سعد، فہد اور اس کے ابو ایک ہی جگہ کھڑے تھے۔

نیچے صرف ایک جملہ لکھا تھا:

“اب بھی اپنے بھائی پر بھروسہ ہے؟”

عریبہ کے ہاتھ سے فون تقریباً گر گیا۔

اور اسی لمحے دوسرا message آیا:

“اگر اصل سچ جاننا ہے تو کل رات 8 بجے اکیلی پرانی فیکٹری آنا…”

عریبہ نے screen کو دیکھا۔

پھر message کے نیچے لکھی آخری لائن پڑھ کر اس کی سانس رک گئی۔

“اور ریان کو ساتھ مت لانا… کیونکہ وہ پہلے ہی ہمارے قبضے میں ہے۔”

قسط نمبر 5 ختم۔

❤️ اگلی قسط میں کیا عریبہ اکیلی فیکٹری جائے گی؟ ریان کہاں ہے؟ اور سعد آخر کیا چھپا رہا ہے؟

اگر آپ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ آگے کیا ہوگا تو پیج کو ابھی Follow کر لیں، کیونکہ قسط 6 میں راز مزید گہرا ہونے والا ہے۔ ❤️

میری خاموش دعاقسط نمبر 4 — بارش میں تمصبح سے ہی عریبہ کے دل میں عجیب سی بے چینی تھی۔ رات کو ابو کا خط پڑھنے کے بعد اسے ج...
09/08/2026

میری خاموش دعا

قسط نمبر 4 — بارش میں تم

صبح سے ہی عریبہ کے دل میں عجیب سی بے چینی تھی۔ رات کو ابو کا خط پڑھنے کے بعد اسے جیسے سکون ہی نہیں آیا تھا۔ بار بار وہی الفاظ ذہن میں گھوم رہے تھے۔

“ریان بے قصور ہے…”

وہ جملہ پڑھتے ہی اس کی آنکھوں کے سامنے ریان کا چہرہ آ جاتا تھا۔

وہ سوچتی رہی، آخر اتنے سالوں سے وہ اس سے اتنا دور کیوں رہا؟ اگر وہ واقعی بے قصور تھا تو پھر اس نے کبھی اپنے دل کی بات کیوں نہیں کہی؟

عریبہ نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بال ٹھیک کیے اور خود کو دیکھا۔

“بس بھی کرو عریبہ… ایک ہی لڑکے کے بارے میں اتنا سوچنا بھی کوئی ضروری ہے؟”

وہ خود ہی بڑبڑائی اور پھر ہلکا سا مسکرا دی۔

“اور ویسے بھی… وہ کون سا تمہیں پسند کرتا ہے۔”

یہ کہتے ہوئے اس کے گال خود ہی سرخ ہوگئے۔

“یا شاید کرتا ہے…”

اس نے فوراً اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔

“یا اللہ! مجھے کیا ہو گیا ہے؟”

نیچے سے ہانیہ کی آواز آئی۔

“عریبہ! جلدی کرو، یونیورسٹی نہیں جانا کیا؟”

“آ رہی ہوں!”

وہ جلدی سے بیگ اٹھا کر نیچے آگئی۔

ناشتے کی میز پر سعد پہلے سے بیٹھا تھا۔

“آج بڑی خوش لگ رہی ہو؟”

سعد نے چھیڑا۔

عریبہ نے فوراً نظریں جھکا لیں۔

“میں؟ نہیں تو۔”

ہانیہ نے فوراً بات پکڑ لی۔

“ہاں ہاں، بہت خوش لگ رہی ہے۔ آخر آج project بھی تو ہے نا…”

عریبہ نے اسے گھورا۔

“ہانیہ!”

ہانیہ ہنس پڑی۔

“اچھا بابا، میں نے کچھ نہیں کہا۔”

سعد دونوں کو دیکھ کر مسکرایا، مگر اس کی نظر ایک لمحے کے لیے عریبہ کے چہرے پر ٹھہر گئی۔ اسے شاید اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کی بہن کے دل میں کچھ بدل رہا ہے۔

یونیورسٹی پہنچتے ہی عریبہ کی نظر بے اختیار ریان کو ڈھونڈنے لگی۔

وہ گیٹ کے پاس کھڑا تھا۔

سفید شرٹ، ہاتھ میں کتابیں اور چہرے پر وہی ہلکی سی مسکراہٹ۔

جیسے ہی اس کی نظر عریبہ پر پڑی، وہ سیدھا اس کی طرف چل پڑا۔

“Good morning.”

عریبہ نے جان بوجھ کر بے نیازی سے کہا:

“Hmm… morning.”

ریان نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔

“کیا ہوا؟”

“کچھ نہیں۔”

“پھر اتنی سنجیدہ کیوں ہو؟”

“میں ہمیشہ ایسی ہی ہوتی ہوں۔”

ریان ہنس دیا۔

“نہیں، جب تم میرے ساتھ ہوتی ہو تب زیادہ ایسی ہوتی ہو۔”

عریبہ نے اسے گھورا۔

“تم ہر وقت اتنی باتیں کیوں کرتے ہو؟”

“کیونکہ تم ہر وقت خاموش رہتی ہو۔”

“تو؟”

“تو مجھے ڈر لگتا ہے کہیں تم مجھے بھول نہ جاؤ۔”

عریبہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوگئی۔

اس نے ریان کی طرف دیکھا۔

وہ مذاق کر رہا تھا یا واقعی دل کی بات کہہ رہا تھا؟

“تمہیں لگتا ہے میں تمہیں بھول سکتی ہوں؟”

یہ الفاظ اس کے منہ سے بے اختیار نکل گئے۔

ریان بھی خاموش ہوگیا۔

دونوں چند لمحے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔

پھر عریبہ کو احساس ہوا کہ اس نے کیا کہہ دیا ہے۔

وہ فوراً نظریں چرا گئی۔

“چلو… project کرنا ہے۔”

ریان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔

“جی، بالکل۔”

دونوں library میں جا کر بیٹھ گئے۔

شروع میں واقعی project پر کام ہوا۔

پھر ریان نے اچانک اس کی notebook اپنی طرف کھینچ لی۔

“یہ کیا کر رہے ہو؟”

“تمہاری writing دیکھ رہا ہوں۔”

“کیوں؟”

“بس ایسے ہی۔”

“واپس کرو۔”

“نہیں۔”

“ریان!”

“پہلے ایک سوال کا جواب دو۔”

“کیا؟”

“تم نے کل رات میری بات کے بارے میں سوچا تھا؟”

عریبہ خاموش ہوگئی۔

“کون سی بات؟”

ریان نے مسکرا کر کہا:

“وہی… جو میں نے کہا تھا کہ تم مسکراتی ہو تو اچھی لگتی ہو۔”

عریبہ نے notebook اس کے ہاتھ سے چھین لی۔

“نہیں سوچا!”

“جھوٹ۔”

“میں جھوٹ نہیں بولتی۔”

“اچھا؟”

ریان تھوڑا سا آگے جھکا۔

“تو پھر میری طرف دیکھ کر کہو۔”

عریبہ نے اس کی طرف دیکھا۔

ریان خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔

عریبہ چند سیکنڈ بھی اس کی آنکھوں میں نہ دیکھ سکی۔

اس نے نظریں جھکا لیں۔

“میں نے کہا نا… نہیں سوچا۔”

ریان ہنس پڑا۔

“تم بہت بری جھوٹی ہو۔”

“اور تم بہت فضول انسان ہو۔”

“پھر بھی میرے ساتھ project کر رہی ہو۔”

“مجبوری ہے۔”

“صرف project کی؟”

عریبہ نے اسے دیکھا۔

اس بار ریان خاموش تھا۔

اس کی آنکھوں میں مذاق نہیں تھا۔

عریبہ کا دل زور سے دھڑکا۔

وہ کچھ کہنے ہی والی تھی کہ باہر سے بارش کی آواز آنے لگی۔

دونوں نے ایک ساتھ کھڑکی کی طرف دیکھا۔

بارش اچانک بہت تیز ہوگئی تھی۔

عریبہ کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آگئی۔

ریان نے پوچھا:

“بارش پسند ہے؟”

“بہت زیادہ۔”

“مجھے معلوم تھا۔”

“تمہیں کیسے؟”

ریان نے چند لمحے اسے دیکھا۔

“کیونکہ تم بچپن میں بھی بارش دیکھ کر ایسی ہی مسکراتی تھیں۔”

عریبہ کی مسکراہٹ آہستہ آہستہ ختم ہوگئی۔

“تمہیں واقعی سب یاد ہے؟”

ریان نے ہلکی آواز میں کہا:

“تم سے جڑی ہوئی بہت سی چیزیں یاد ہیں۔”

عریبہ کچھ نہ بولی۔

بارش اور تیز ہوگئی۔

کچھ دیر بعد library تقریباً خالی ہو گئی۔

پروفیسر نے آ کر کہا:

“آپ دونوں کام ختم کر کے نکل جائیں، آج موسم خراب ہو رہا ہے۔”

دونوں نے اپنا سامان سمیٹا اور باہر آگئے۔

بارش اتنی تیز تھی کہ سامنے کا راستہ بھی دھندلا نظر آ رہا تھا۔

عریبہ نے پریشان ہو کر کہا:

“اب میں گھر کیسے جاؤں گی؟”

ریان نے umbrella کھولا۔

“میرے ساتھ آ جاؤ۔”

“نہیں، میں رکشہ لے لوں گی۔”

“اس بارش میں؟”

“ہاں۔”

“اور اگر راستے میں بھیگ گئی تو؟”

“تو بھیگ جاؤں گی۔”

ریان نے اسے دیکھا۔

“تمہیں ہر بات میں ضد کرنی ضروری ہے؟”

“ہاں۔”

“ٹھیک ہے۔”

وہ umbrella بند کرنے لگا۔

عریبہ نے حیرت سے پوچھا:

“کیا کر رہے ہو؟”

“تمہیں اکیلے بھیگنا ہے نا؟”

عریبہ نے چند لمحے اسے دیکھا۔

پھر آہستہ سے umbrella کے نیچے آ کر کھڑی ہوگئی۔

ریان نے مسکرا کر umbrella دوبارہ کھول لیا۔

“بس اتنی سی بات تھی۔”

“زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔”

دونوں ایک ہی چھتری کے نیچے چلنے لگے۔

بارش کے قطرے سڑک پر پڑ رہے تھے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ عریبہ کا دوپٹہ بار بار ہوا میں اڑتا تو وہ اسے سنبھالنے کی کوشش کرتی۔

ایک بار دوپٹہ ریان کے ہاتھ میں آ گیا۔

وہ رک گیا۔

“یہ بھی تمہارا ہے؟”

عریبہ نے شرمندہ ہو کر دوپٹہ واپس لیا۔

“ہاں!”

“اچھا… مجھے لگا بارش کے ساتھ مفت ملا ہے۔”

عریبہ ہنس پڑی۔

“تم واقعی پاگل ہو۔”

“اور تم ابھی ہنسی ہو۔”

“تو؟”

“کچھ نہیں… اچھی لگ رہی تھی۔”

عریبہ نے کچھ نہ کہا۔

چند قدم آگے جا کر اس کا پاؤں پھسلا۔

“ریان!”

ریان نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

وہ اس کے بالکل قریب آ گئی۔

چند لمحے دونوں ویسے ہی کھڑے رہے۔

بارش ان کے اردگرد برس رہی تھی۔

ریان کا ہاتھ ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا۔

عریبہ نے آہستہ سے کہا:

“میرا ہاتھ…”

ریان نے جیسے چونک کر ہاتھ چھوڑ دیا۔

“Sorry.”

عریبہ نے مسکرا کر کہا:

“تم ہر بات پر sorry کیوں کہتے ہو؟”

“کیونکہ مجھے ڈر لگتا ہے کہیں میری کوئی بات تمہیں بری نہ لگ جائے۔”

“اور اگر لگ جائے؟”

ریان نے اسے دیکھا۔

“تو تم ناراض ہو جانا…”

“پھر؟”

“پھر میں منا لوں گا۔”

عریبہ کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔

“اگر میں نہ مانی تو؟”

ریان نے دھیمی آواز میں کہا:

“تو پوری زندگی منا تا رہوں گا۔”

عریبہ نے فوراً نظریں جھکا لیں۔

اس کے دل میں کچھ بہت نرمی سے اتر گیا تھا۔

کچھ ایسا…

جسے وہ نام نہیں دینا چاہتی تھی۔

گھر پہنچ کر عریبہ اپنے کمرے میں گئی۔

اس نے کپڑے بدلے، بال خشک کیے اور بستر پر بیٹھ گئی۔

اس کے چہرے پر ابھی بھی ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔

پھر اچانک اسے اپنا فون یاد آیا۔

اسکرین پر ریان کا message تھا۔

“گھر پہنچ گئی؟”

عریبہ نے reply کیا:

“ہاں۔ تم؟”

فوراً جواب آیا:

“میں بھی۔”

چند سیکنڈ بعد ایک اور message آیا۔

“آج کی بارش یاد رہے گی۔”

عریبہ نے لکھا:

“کیوں؟”

ریان:

“کیونکہ آج پہلی بار تم میرے ساتھ اتنی دیر خاموش رہیں… اور مجھے تمہاری خاموشی بھی اچھی لگی۔”

عریبہ نے موبائل اپنے سینے سے لگا لیا۔

پھر اچانک اس کی نظر میز پر پڑے ابو کے خط پر گئی۔

اس نے خط اٹھایا۔

کاغذ کے آخری حصے پر انگلی پھیرتے ہوئے اسے محسوس ہوا کہ وہاں کچھ لکھا ہوا تھا، مگر صفحہ پھٹا ہوا تھا۔

عریبہ نے حیرت سے کاغذ کو روشنی کے سامنے کیا۔

پیچھے بہت مدھم الفاظ نظر آ رہے تھے۔

اس نے غور سے پڑھا۔

“عریبہ کو ریان سے دور رکھنے کی اصل وجہ یہ نہیں کہ وہ دشمن کا بیٹا ہے…”

آگے کا حصہ پھٹا ہوا تھا۔

عریبہ کا دل ڈوب گیا۔

اسی لمحے فون دوبارہ بجا۔

ریان کا message تھا:

“عریبہ… مجھے تمہیں ایک بات بتانی ہے۔ کل مل سکتی ہو؟”

عریبہ نے پوچھا:

“کیا بات ہے؟”

کافی دیر تک کوئی جواب نہیں آیا۔

پھر صرف ایک جملہ آیا:

“وہ بات جس کے بعد شاید تم مجھے کبھی معاف نہ کرو۔”

عریبہ کی مسکراہٹ آہستہ آہستہ غائب ہوگئی۔

باہر بارش اب بھی ہو رہی تھی۔

مگر اس بار…

بارش کی آواز سے زیادہ تیز اس کے دل کی دھڑکن تھی۔

قسط نمبر 4 ختم۔

اگر آپ عریبہ اور ریان کی اس کہانی کا اگلا راز جاننا چاہتے ہیں تو پیج کو ابھی Follow کر لیں ❤️🙏
کیونکہ اگلی قسط میں ریان عریبہ کو وہ سچ بتانے والا ہے… جس کے بعد ان کے درمیان سب کچھ بدل جائے گا۔

کیا عریبہ ریان کو معاف کر پائے گی؟
جاننے کے لیے اگلی قسط کا انتظار کریں… 🌧️❤️

Address

Multan
34030

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when A D H O O R I • D a S T a a N posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share