Family Entertainment Center

Family Entertainment Center Complete Family channel
(2)

آپ سب دوستوں کا بہت شکریہ جو پوسٹس کو لائک اور کمنٹ کر کے حوصلہ بڑھاتے ہیں - آپ سب دوستوں کو بھی ضرور اس پیج پہ انوائٹ کریں یا کم سے کم ایک بار اپنی وال پہ پیج کو ضرور شئیر کر دیں -
بہت شکریہ آپ سب دوستوں کا - سلامت رہیں ، مسکراتے رہیں اور مسکراہٹیں بانٹتے رہیں
Thank you very much
ایڈمن :

*بیوی: "شادی سے پہلے تو تم مجھے گھمانے پھرانے لے جاتے تھے، اب کیا ہوا؟🤨**"شوہر: "بیگم! کیا تم نے کبھی کسی کو الیکشن جیتن...
15/05/2026

*بیوی: "شادی سے پہلے تو تم مجھے گھمانے پھرانے لے جاتے تھے، اب کیا ہوا؟🤨*
*"شوہر: "بیگم! کیا تم نے کبھی کسی کو الیکشن جیتنے کے بعد مہم چلاتے دیکھا ہے؟😅*🤪

15/05/2026
مکہ مکرمہ میں 17 برس سے مسجد الحرام کے اندر خدمت کا شرف حاصل کرنے والے سری لنکن جوڑے نے اس بابرکت ذمہ داری پر اپنی خوشی ...
15/05/2026

مکہ مکرمہ میں 17 برس سے مسجد الحرام کے اندر خدمت کا شرف حاصل کرنے والے سری لنکن جوڑے نے اس بابرکت ذمہ داری پر اپنی خوشی اور شکرگزاری کا اظہار کیا ہے۔

یہ شوہر اور بیوی کا جوڑا مسجد الحرام کے تقریباً 12 ہزار خدام میں شامل ہے جو زائرین اور معتمرین کی خدمت پر مامور ہیں۔

اس کہانی کا آغاز 17 سال قبل اس وقت ہوا جب سری لنکن مسلم خاتون فاطمہ کو حرم مکی میں حجاج و معتمرین کی خدمت کے لیے سعودی عرب آنے کا موقع ملا۔ کچھ عرصے بعد فاطمہ نے درخواست دی کہ تنہائی کے باعث اس کے شوہر اشرف کو بھی سعودی عرب بلایا جائے۔

فاطمہ کے مطابق وہ مسجد الحرام میں قالینوں اور جائے نمازوں کے شعبے میں خدمات انجام دیتی تھیں۔ بعد ازاں چار سال کی کوششوں کے بعد انتظامیہ نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کے شوہر کو بھی حرم مکی میں خدمت کے لیے بلا لیا۔

اشرف کے مطابق وہ سری لنکا میں تنہائی محسوس کرتے تھے اور ذہنی سکون نہیں ملتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اب وہ اور ان کی اہلیہ فاطمہ ساتھ ساتھ حرم شریف میں کام کرتے ہیں۔

جوڑے کے مطابق وہ ہر ہفتے عمرہ ادا کرتے ہیں اور سعودی عرب آ کر ان کی زندگی مکمل طور پر بدل گئی ہے جو اب پہلے سے کہیں زیادہ پُرسکون اور بابرکت ہو چکی ہے۔


لاہور کے پرانے محلے میں 80 سالہ ماسٹر اشرف رہتے تھے۔ ریٹائرڈ اردو کے استاد ان کی بیوی 10 سال پہلے فوت ہو گئی تھی۔ بیٹا ک...
09/05/2026

لاہور کے پرانے محلے میں 80 سالہ ماسٹر اشرف رہتے تھے۔ ریٹائرڈ اردو کے استاد ان کی بیوی 10 سال پہلے فوت ہو گئی تھی۔ بیٹا کینیڈا میں ڈاکٹر تھا۔
ماسٹر صاحب کی روٹین ایک ہی تھی۔ فجر کے بعد چھت پر چڑھ کر کبوتروں کو دانہ ڈالنا، پھر ڈاکخانے کے چکر لگانا۔
پوسٹ ماسٹر ہر روز ہنستا: ماسٹر جی آپ کا کوئی خط نہیں آیا۔ بیٹا تو ای میل کرتا ہوگا۔
ماسٹر صاحب مسکرا کر کہتے:خط کا انتظار نہیں پتر عادت ہے۔
محلے کے بچے ان کا مذاق اڑاتے: بابا جی اس دور میں کون خط لکھتا ہے؟
ایک دن 8 سالہ عائشہ نے پوچھ لیا:دادا جی، آپ کس کے خط کا انتظار کرتے ہیں؟
ماسٹر صاحب کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ بولے: اپنی شاگرد زینب کے۔
50 سال پہلے زینب ان کی کلاس کی سب سے ذہین بچی تھی۔ غربت کی وجہ سے 8ویں کے بعد سکول چھوڑ گئی۔ جاتے ہوئے بولی تھی:ماسٹر جی، میں بڑی ہو کر آپ کو پہلا خط ضرور لکھوں گی۔
پھر وقت گزر گیا۔ ماسٹر صاحب ریٹائر ہو گئے، زینب کی کوئی خبر نہ ملی۔
عائشہ کو بہت ترس آیا۔ اس نے اپنی ٹیچر سے مدد لی۔ فیس بک، اخبار، ہر جگہ زینب، ماسٹر اشرف کی شاگرد کا اشتہار دیا۔
6 مہینے بعد عید کا دن تھا۔ ماسٹر صاحب حسب معمول ڈاکخانے گئے۔
پوسٹ ماسٹر بھاگ کر آیا۔ ہاتھ میں نیلا لفافہ تھا۔ کانپتی آواز میں بولا:ماسٹر جی... خط... زینب کا خط!
ماسٹر صاحب کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ 50 سال بعد خط کی مہر ٹوٹی۔
اندر لکھا تھا:
_میرے محترم استاد جی،_
_معاف کر دینا، 50 سال لگ گئے۔ ماں باپ کے مرنے کے بعد لوگوں کے گھروں میں کام کیا۔ شادی ہوئی، شوہر نشئی نکلا۔ دو بچوں کو تنہا پالا۔ پڑھ نہیں سکی، مگر آپ کا سبق نہیں بھولی:ہار نہیں ماننی۔_
_آج میری بیٹی LUMS میں پروفیسر ہے۔ وہ روز آپ کے دیے ہوئے اقوال زریں پڑھاتی ہے۔_
_میں نے زندگی میں پہلا خط آپ کو لکھا ہے۔ کیونکہ آپ نے کہا تھا،خط دل کا عکس ہوتا ہے۔_
_آپ کی آخری شاگرد، زینب_
خط کے ساتھ ایک چھوٹی سی تصویر تھی۔ زینب، اس کی بیٹی، اور بورڈ پر لکھا تھا: _استاد کی عظمت - ماسٹر اشرف صاحب کے نام_
ماسٹر صاحب وہیں کرسی پر بیٹھ گئے۔ خط سینے سے لگایا اور ہنسنے لگے۔ روتے روتے ہنس رہے تھے۔
عائشہ دوڑتی ہوئی آئی:دادا جی، کیا ہوا؟
ماسٹر صاحب بولے: بیٹا، آج سمجھ آیا خط کا انتظار کیوں کرتا تھا۔
کیوں دادا جی؟
کیونکہ کچھ خط ڈاک سے نہیں، دعاؤں سے پہنچتے ہیں۔ اور کچھ شاگرد سیاہی سے نہیں، زندگی سے جواب لکھتے ہیں۔
اس دن کے بعد ماسٹر صاحب نے ڈاکخانے جانا چھوڑ دیا۔
کہتے تھے:میرا سب سے قیمتی خط مل گیا۔ اب ڈاکیا چھٹی کرے۔

09/05/2026

تو شادی کیوں نہیں کرتا؟۔۔۔
حضرت ربیعہ بن کعبے فرماتے ہیں کہ میری ڈیوٹی تھی رسول اللہ کو وضو کرانے کی فرماتے ہیں میں رات کو نبی پاک کا وضو کراتا کتنے دن گزر گئے وضو کراتے تو ایک دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ربیعہ تو شادی کیوں نہیں کرتا کہتے میں نے کہا یا رسول اللہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی کام ایسا کروں جس سے اپ کی خدمت رہ جائے اور ویسے بھی حضور نہ رنگ روز بین نہ کوئی بڑا قبیلہ ہے نہ کوئی کاروبار ہے کون مجھے رشتہ دے گا کہتے ہیں حضور خاموش ہو گئے دوسرا دن پھر وضو کرایا تو نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا ربیعہ شادی کیوں نہیں کرتے میں نے کہا حضور ایک تو میں خدمت سے نہیں رکنا چاہتا دوسرا نہ کاروبار نہ کوئی پیسہ نہ رنگ روپ کون رشتہ دے گا کہتے ہیں حضور پیر خاموش ہو گئے جب میں باہر نکلا نا تو دوسرے دن تو میرے دل میں خیال ایا کہ تو کتنا بیوقوف ہے حضور کو دلیلیں دیتا ہے جب نبی پاک کہتے ہیں شادی کیوں نہیں کرتا تو تجھے کہنا چاہیے حضور جیسے دل کرتا ہے کر دے فرماتے ہیں تیسرے دن میں ارادہ کر کے ایا کہ جیسے حضور نے کہنا ہے میں نے ویسے ہی کر لینا ہے کہتے ہیں سارا ہی وضو ہو گیا پر نبی پاک نے پوچھا ہی کوئی نہیں میں پکا پروگرام بنا کے ایا ہوں اور وضو سارا ہی ہو گیا کہتے ہیں وضو مکمل ہو گیا تو میں کھڑا ہو گیا ہوں اور ہلکے پھلکے قدم اٹھانے لگا جانے کے لیے ، پر دل تھا کہ آپ ص وہی سوال کرتے لیکن کوئی نہیں ہوتا فرماتے ہیں جب میں باہر نکلنے لگا اور دروازے کے قریب پہنچا تو اللہ کے حبیب نے اواز دی حضور فرمانے لگے ربیعہ شادی کیوں نہیں کرتے ؟میں نے کہا یا رسول اللہ جس کے ساتھ دل کرتا ہے کر دیں تو نبی پاک نے فرمایا جا فلانے سردار کے پاس جا فلاں نے قبیلے کے فلاں سردار کے پاس اور اسے کہہ کے نبی پاک کہتے ہیں اپنی بیٹی کی شادی میرے ساتھ کر دو حضرت ربیعہ بن کعب کہتے ہیں میں گیا جا کے پیغام دیا میں قبیلہ نہ مال نہ دولت نہ حسن اک چیز پکی ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ کا غلام تھا تو ہر وہ کام کرتا تھا جس کا میرے نبی حکم دیتے سنت شریعت پر عمل پورا دین داری پوری حضور نے دینداری کی بنیاد پر رشتہ بھیجا حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب ان کے گھر گیا میں نے کہا حضور نے کہا رشتہ دے دو تو ماں اور باپ بچی کا ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے انکار نہیں کیا باپ کہنے لگا حضور سے جا کے عرض کرنا میں شام کو اؤں گا کہتے میں باہر نکلنے لگا تو وہ بیٹی پردے کے پیچھے سے کہنے لگی غلام ٹھہر جاؤ تو میں رک گیا اور وہ اپنے ماں باپ سے کہنے لگی ابا جی آپ کو میری فکر ہے تو آپ میری فکر نہ کریں مجھے میرے نبی کے حوالے کر دیں حضرت ربیعہ بن کعب کہتے ہیں انہوں نے رشتہ دے دیا یہ بھی شادی ہے اور طریقہ وہ جو بندے کو اللہ کا محبوب بنا دے فرماتے ہیں نبی پاک نے حضرت حارثہ بن نعمان کو بلایا اور فرمایا اس نے اپنی بیوی کو حق مہر دینا ہے تو تُو نے گٹھلی کے برابر سونے کا بندوبست کرنا ہے پھر نبی پاک نے حضرت ابوبکر صدیق کو بلایا اور فرمایا اس کی بیوی اور اس کے لیے دو دو جوڑوں کا بندوبست کر دے ۔ انہوں نے بھی دو جوڑوں کا بندوبست کر دیا تو حضور نے حضرت عثمان غنی سے کہا ایک بکری کا بندوبست کر میرے ربیعہ نے شادی کرنی ہے پھر آپ رض فرماتے ہیں کہ بارات کیساتھ حضور ساتھ گئے شادی کر کے میں اپنی بیوی لے آیا۔ حضرت عثمان بکری لائے اسے ذبح کیا ظہر کی نماز مسجد نبوی میں پڑھی تو حضور نے فرمایا ابھی جتنے نمازی ائے ہو چلو اؤ میرے ربیعہ کا ولیمہ کھائیں فرماتے ہیں اس طرح میری شادی ہو گئی ۔۔۔
تو بھائی لوگوں سنت اور شریعت تجھے آسان کرتی ہے تیری تکلیفیں دور کرتی ہیں تو تم بھی اذیت میں نہ پڑو پریشانی میں نہ پڑو چھوڑ دو یہ چکر، ساری ہم نے مصیبتیں کھڑی کی ہوئی ہیں اس لیے تو ہماری جان ہی نہیں چھوٹ رہی۔ شادی کو آسان بنائیں گے تو مسئلے حل ہو ں گے۔۔

آج کل کے دور میں جہاں طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے، وہیں گھر بسانے کے لیے ایسی ایسی شرائط سامنے آ رہی ہیں کہ عقل دنگ رہ ج...
05/05/2026

آج کل کے دور میں جہاں طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے، وہیں گھر بسانے کے لیے ایسی ایسی شرائط سامنے آ رہی ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے۔ حال ہی میں ایک صلح نامہ نظر سے گزرا جس کی تحریر پڑھ کر یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ دو خاندانوں کو جوڑنے کی کوشش ہے یا کسی قیدی کے لیے جیل کے قوانین مرتب کیے گئے ہیں۔
اس صلح نامے کی چند حیران کن باتیں ملاحظہ کریں مطالبہ ہے کہ 5 مرلہ کا بنا بنایا مکان لڑکی کے نام رجسٹرڈ ہوگا اور اس پر مکمل اختیار لڑکی کا ہوگا۔
لڑکے کے والدین اور بہن بھائیوں کا لڑکی کی زندگی میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا، یہاں تک کہ وہ گھر بھی نہیں آ سکیں گے۔
لڑکے کو اپنے سسرال آنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ لڑکی کو اپنے ہر خونی رشتے سے ملنے کی مکمل آزادی ہوگی۔
10 لاکھ روپے طلاق کی صورت میں، ماہانہ جیب خرچ، اور صلح کی صورت میں 2 تولہ سونا دینے کی شرط۔
صلح کی صورت میں لڑکے کو لڑکی کے والدین سے باقاعدہ معافی مانگنی ہوگی۔

بے شک عورت کو تحفظ ملنا چاہیے، لیکن کیا اس طرح کی سخت شرائط سے گھر بستے ہیں یا مزید تلخیاں جنم لیتی ہیں؟
آپ کی کیا رائے ہے
کیا ایک گھر بسانے کے لیے یہ شرائط ٹھیک ہیں؟ کیا ان شرائط کے ساتھ کوئی مرد عزت کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے؟ یا پھر لڑکی کا یہ مطالبہ اس کے تحفظ کے لیے ضروری ہے؟
اپنے خیالات کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں اور اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ معلوم ہو سکے کہ ہمارا معاشرہ اس سوچ کے بارے میں کیا کہتا ہے۔



‏جب میں نے اس تصویر کو پہلی بار دیکھا تو روائتی انداز میں نظر انداز کردیا ۔۔۔پھر سوچا کے یہ تصویر اتنی آسانی سے نظر اندا...
03/05/2026

‏جب میں نے اس تصویر کو پہلی بار دیکھا تو روائتی انداز میں نظر انداز کردیا ۔۔۔
پھر سوچا کے یہ تصویر اتنی آسانی سے نظر انداز کرنے والی نہیں ہے
درد۔۔۔حقوق۔۔۔محبت۔۔۔لمحہ فکریہ !!!
جند پیسے کمانے والا یہ بچہ ان ہزار امراء سے بہتر ہے
جو فائیو سٹار ہوٹلز میں جاتے ہیں تو ان کے بھوکے ملازمین کا منہ دوسری سائڈ پر کر کے بٹھا دیا جاتا ہے
مگر انہیں وہی ملتا ہے جو آخر میں بچ جاتا ہے
لیکن یہ بچہ ان تمام امیر لوگوں سے افضل ہے جو کسی کی بھوک کو محسوس کر کے اسے اپنی بساط میں رہ کر مٹانے کی کوشش کر رہا ہے.!

شادی کارڈ اس طرح کا ہونا چاہئے۔اگر شادیوں سے خرافات ختم کرنا چاہتے ہیں تو اپنے گھر کی شادیوں میں اس طرح کے کارڈ چھپوا کر...
03/05/2026

شادی کارڈ اس طرح کا ہونا چاہئے۔
اگر شادیوں سے خرافات ختم کرنا چاہتے ہیں تو اپنے گھر کی شادیوں میں اس طرح کے کارڈ چھپوا کر معاشرے کو سدھارنے میں کردار ادا کریں۔

تصویر کو پہلے غور سے دیکھ کر میری تحریر پڑھیئے گا ____________ اچھا میں کیوں زور دیتا رہتا ہوں گھر سنبھالو ، شادی کرو ، ...
02/05/2026

تصویر کو پہلے غور سے دیکھ کر میری تحریر پڑھیئے گا
____________

اچھا میں کیوں زور دیتا رہتا ہوں گھر سنبھالو ، شادی کرو ، پہلے سال بچہ ضرور پیدا کرو پرہیز یا انجوائے منٹ کے چکروں میں مت پڑ جانا
اس لیئے کہتا ہوں تاکہ آپکی فیملی بنے آپکا کام میں ، عبادت میں دل لگے فوکس بنے پرپز ہو کچھ زندگی کا ۔۔۔۔

اکیلا بندہ شیطان کا چیلا ہوتا ھے طلاق یافتہ اگ کا گولہ یہ دونوں ہی بارود کا ڈھیر ہیں ۔۔۔۔

جوانی تو گزر جاتی ھے لیکن بڑھاہا جب ماں باپ مر جاتے ہیں بہن بھائی دور چلے جاتے ہیں تو زندگی قبر کی صورت نظر آنے لگتئ ھے

ابھی بھی وقت ھے بھاگو شادی کرو بیوی ناراض ھے تو اسے منا کر لاو ۔۔۔۔۔۔۔
اللہ کے رسول ص کی سنت پوری کرو دنیا کی ساری خیر امن سکون اسی ایک سنت میں ھے ۔۔۔۔۔


اللہ سبھی کو امن کی زندگئ عطا کرے

___________

وسیم رضا

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Family Entertainment Center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share